حکم عقلی، غزالی اور علم کلام

اشعری علم کلام کا مشہور متن "ام البراہین" کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:

اعلم ان الحکم العقلی ینحصر فی ثلاثۃ اقسام: الوجوب والاستحالۃ والجواز۔ فالواجب ما لایتصور فی العقل عدمہ، والمستحیل مالایتصور فی العقل وجودہ، والجائز ما یتصور فی العقل وجودہ وعدمہ.1

ترجمہ: "جان لو کہ حکم عقلی تین ہی طرح کا ہے: وجوب، عدم امکان اور جواز۔ پس واجب وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن ہو، ناممکن وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے موجود ماننا ممتنع ہو اور جائز وہ ہے کہ عقل اس کے وجود و عدم دونوں کا تصور کر سکتی ہو۔"

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب علم الکلام ایک شرعی علم ہے اور اس میں ان عقائد سے بحث کی جاتی ہے جو شرعی مصادر (کتاب، سنت و اجماع) سے ثابت شدہ ہوں، تو کلام کی کتابوں میں گفتگو کا آغاز "حکم عقلی" سے کیوں کیا جاتا ہے؟ اور اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ "حکم عقلی" ہے کیا؟ اس تحریر میں ہم حکم عقلی جاننے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ جب حکم عقلی سے گفتگو کی جائے، تو منہج استدلال کیا ہوتا ہے۔اور اس کے لیے بنیاد امام غزالی کو بنائیں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ اشارہ ضروری ہے کہ علم کلام مسلمانوں کا وہ علم ہے جسے فلسفے سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اسی فن میں مسلمان وحی و اسلامی احکام پر مختلف ادوار میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے اور اعتراضات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ نیز امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تہافت میں ابن سینا و فارابی کی آرا پر جو تنقید اٹھائی اس میں بھی وہ کلامی منہج برتتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں علم کلام کی طرف توجہ ہوئی ہے۔ کوئی اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کی طرف آیا اور کوئی اسے ضرر رساں سمجھ کر اس کی طرف تنقید کے لیے آیا۔ راقم سطور کا تعلق پہلے گروہ سے ہے جو اس کے احیا کو بہت اہم اور مسلمانو ں کے کلامی واصولی بنیادوں کو نظر انداز کر کے جدید سائنس اور فلسفے کے اٹھائے گئے سوالات و اعتراضات کی روشنی میں وحی و شرع کی وضاحت کے در پے ہونے کو خیر کا پیش خیمہ نہیں سمجھتا۔ چناچہ کلامی منہج سے ناواقفیت کی وجہ سے ہمیں کلام اورخاص طور سے غزالی پر ایسی نکتہ چینی سننے کو ملتی ہے جو کلامی منہج کی روشنی میں کوئی معنے نہیں رکھتی۔ مثلا یہ کہ غزالی نے فلاسفہ سے گفتگو کرتے ہوئے معجزے کی دلیل وحی کو قرار دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا۔ یہ معجزے کے امکان کا بس ایمان کی بنیاد پر دعویٰ ہے کوئی عقلی دلیل نہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے "امکان" اور "وقوع" میں فرق اوجھل رہتا ہے۔ نیز بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب امام غزالی نے سبب و مسبب کے درمیان "رشتہ ضرورت" کا انکار کیا، تو گویا انہوں نےاس کے "وقوع "پر بھی قلم نسخ پھیر دیا۔ اسی طرح، متکلم جب خدا کو ثابت کرتا ہے، تو پہلے ہی سے خدا پر ایمان لا چکا ہوتا ہے اور اس طرح یہ سرگرمی کوئی عقلی سرگرمی نہیں رہتی اور ایسے کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ دلیل کے منطقی و عقلی بنیادیوں پر درست ہونے کے لیے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مستدل (دلیل دینے والا) کا ایمان کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ استدلال میں مقدمات کیا ہیں اور کیا ان مقدمات سے نتیجہ کی سوت پھوٹی ہے یا نہیں؟ اس لیے، کلامی منہج کو سمجھنا ضروری ہے اور اس تحریر میں ہم گفتگو "حکم عقلی" سے کریں گے۔

حکم عقلی

عربی زبان میں حکم "فیصلے" کو کہتے ہیں جسے منطق وغیرہ میں قضیہ (Proposition) کہا جاتا ہے۔ چناچہ سورة الحج کے اخیر میں قرآن مشرکین کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے:

وان جادلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون۔ اللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (آیت ۶۸، ۶۹)

ترجمہ: " اگر یہ آپ سے کٹ حجتی کرتے رہیں، تو آپ (بس) یہ کہہ دیجیے کہ تم جو (کٹ حجتی اور باطل اعتراضات)کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے، (اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیجیے، اے نبی جی کہ) اللہ تعالیٰ بروز قیامت تمہارے بیچ اس حوالے سے فیصلہ فرما دے گا جس میں تمہارے درمیان اختلاف رہا۔"

اور فیصلے کا تانا بانا دو اطراف سے بنتا ہے کہ ایک چیز کو دوسرے چیز کے لیے ثابت کیا جاتا ہے یا اس کی نفی کی جاتی ہے۔ چناچہ جب یہ فیصلہ کیا جائے کہ: "فلاں بندہ قاتل ہے"، تو فلاں بندہ کے لیے قتل کے عمل کو ثابت مان لیا گیا یا اگر یہ کہا جائے کہ: " اس وقت مینہ نہیں برس رہا "، تو یہاں حال میں بارش کے برسنے کی نفی کی گئی۔

جس چیز یا شخص پر حکم لگایا جائے یا اس کی نفی کی جائے، اسے موضوع، محکوم علیہ وغیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس مثال میں "فلاں بندہ" موضوع یا محکوم علیہ ہے جبکہ جس امر کو ثابت کیا جائے یا اس کی نفی کی جائے، اسے محمول یا محکوم بہ کہتے ہیں۔ اس مثال میں "قتل" محکوم بہ ہے۔

اگر کسے فیصلے کا ماخذ شریعت ہو، تو اسے حکم شرعی کہتے ہیں۔ جیسے یہ کہنا کہ: "نماز فرض ہے"۔ یہاں نماز پر فرضیت کا حکم لگایا گیا ہے اور "نماز" موضوع جبکہ "فرضیت" محمول ہے۔

اس کے برعکس، اگر فیصلے کی بنیاد انسانی عقل ہو، تو وہ "حکم عقلی " کہلاتا ہے اور اس سیاق میں عقل سے مقصود کسی چیز کے وجود یا عدم وجود کے حوالے سے گفتگو ہے۔ اس لیے، عقل کے تین بنیادی احکام ہیں:

  1. وجوب: جب انسانی عقل کے لیے کسی معاملے کا عدم ناقابل تصور ہو، تو وہ واجب اور اس کا حکم وجوب۔
  2. ممتنع: جب انسانی عقل کے لیے کسی معاملے کا وجود ناقابل تصور ہو، تو وہ محال اور اس کا حکم امتناع۔
  3. ممکن: جب انسانی عقل کے لیے نہ کسی معاملے کا وجود ناقابل تصور ہو، نہ عدم، تو وہ ممکن اور اس کا حکم امکان۔

پس واجب و محال میں انسان کسی تصور کے حوالے سے باقاعدہ دعویٰ کرتا ہے کہ وجود اس کی ذات کا تقاضا ہے یا وجود کی کرنیں اس پر پھوٹ ہی نہیں سکتیں۔ اس کے برعکس، ممکن میں انسان اپنی لاعلمی کا اقرار کرتا ہے کہ کسی تصور کے بالمقابل اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر اس کے وجود کو واجب و لازم یا ممتنع و ناممکن گردانے۔

اور یہی سے یہ پہلو نکلتا ہے کہ اگر کوئی ممکن کے وجود کا دعویٰ کرتا ہے، تو اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ:

  1. اس کی علت پائی گئی،
  2. اور اس سے پہلے، اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ علت اس ممکن کی علت بھی ہے۔

لیکن اگر کوئی صرف ممکن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اس کی دلیل نہیں دینی۔ اسی لیے، ممکن کی اپنی علت کے رشتے سے تین حالتیں ہیں:

  1. واجب لغیرہ: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ممکن کی علت پائی گئی، تو ممکن کا وجود لازم ہو جاتا ہے۔ اسے "واجب لغیرہ" کہتے ہیں۔ یعنی یہ اگرچہ ممکن ہے لیکن چونکہ علت و معلول کے اصول کے تحت جب علت پائی جائے، تو معلول ضرور پایا جاتا ہے، اس لیے اس ممکن کا وجود لازم ہوا۔ اور اسی لحاظ سے، اسے "واجب لغیرہ" کہتے ہیں کہ ایک غیر – یعنی علت – کی وجہ سے اس کا وجود ضروری ہو گیا۔
  2. ممتنع الوجود لغیرہ: اوپر یہ بات گزری کہ ممکن الوجود میں وجود ضروری ہے نہ عدم۔ اسی لیے، جب تک ہمیں علت کے وجود کا علم نہ ہو، ممکن کے وقوع کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر ہمیں اس امر کا علم ہو کہ ممکن کی ایک یا محدود علتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی نہیں پائی گئی، تو بلاشبہ ہم اس کے حوالے سے یہی فیصلہ کریں گے کہ وہ موجود نہیں۔ پس جب تک ممکن کی علت کا عدم وجود متحقق ہو، وہ ممتنع لغیرہ ہے۔
  3. ممکن محض: جب کسی ممکن کے وقوع و عدم وقوع سے صرف نظر کر دیا جائے، تو وہ ممکن محض ہے۔

ان پانچ صورتوں اور ان میں موجود دعویٰ یا عدم دعویٰ کو ذیل کے جدول سے سمجھا جا سکتا ہے:

غزالی کی عبارات

ہم امام غزالی کے ہاں ان امور کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ امام صاحب پہلے واجب کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

واما الواجب الوجود فہو الذی متی فرض معدوما غیر موجود لزم منہ محال، ثم الواجب وجودہ ینقسم الی ما ہو واجب لذاتہ والی ما ہو واجب لغیرہ2

ترجمہ: "واجب الوجود وہ ہے کہ اگر اسے معدوم فرض کر لیا جائے، تو کوئی محال لازم آئے۔ پھر واجب دو طرح کا ہے: واجب ذاتی و واجب لغیرہ۔"

اس کے بعد، وہ واجب ذاتی کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

اما الواجب لذاتہ فہوالذی فرض عدمہ محال لذاتہ لا بفرض شیء آخر، صار بہ محالا فرض عدمہ3

ترجمہ: "واجب ذاتی وہ ہے کہ اسے معدوم فرض کرنا بذات خود ناممکن ہو، کسی دوسرے (خارجی) عنصر کی وجہ سے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن نہ ہوا ہو"

اور اخیر میں ممکن پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

والحاصل ان کل ممکن بذاتہ فہو واجب بغیرہ، فالممکن ان اعتبرت علتہ وقدر وجودہا کان واجب الوجود، وان قدر عدم علتہ کان ممتنع الوجود، وان لم یلتفت الی علتہ لا باعتبار العدم ولا باعتبار الوجود کان لہ فی ذاتہ المعنی الثالث، وہو الامکان، فاذن کل ممکن فہو ممتنع وواجب ای ممتنع عند تقدیر عدم العلۃ، فیکون ممتنعا بغیرہ لا لذاتہ او ممکنا من حیث ذاتہ اذا لم تعتبر معہ علتہ نفیا واثباتا4

ترجمہ: "الغرض ہر وہ امر جو ممکن کے قبیل سے ہو، تو واجب لغیرہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس کی علت کو پیش نظر رکھا جائے اور مان لیا جائے کہ علت پائی گئی، تو وہ واجب الوجود ہے۔ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس کی علت معدوم ہے، تو وہ ممتنع الوجود ہے۔ لیکن اگر اس کی علت کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ یہ دیکھا جائے کہ وہ پائی گئی نہ یہ دیکھا جائے کہ وہ معدوم ہوئی،تو ذاتی لحاظ سے وہ امکان سے متصف ہے۔"

حکم عقلی سے وابستہ چند احکام

اس سے امام غزالی مندرجہ ذیل نتائج حاصل کرتے ہیں:5

  1. ایک امر ایک ہی وقت میں واجب لذاتہ اور واجب لغیرہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے یہ پہلو نمایاں ہوا کہ ایک امر کو "واجب" اور دوسرے کو اس کی علت کی وجہ سے موجود قرار دینا دو الگ نوعیت کے دعوے ہیں کیونکہ واجب وجود کے تصور کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسے کسی علت کی نیاز نہیں بلکہ اس کا وجود ضروری ہے۔
  2. واجب لغیرہ دراصل ممکن لذاتہ ہے کیونکہ جسے واجب لغیرہ کہا جاتا ہے وہ ایسا امر ہے کہ اسے معدوم یا موجود فرض کرنے سے کوئی ذاتی محال لازم نہیں آتا۔ البتہ چونکہ اس کی علت یا سبب پائے جاتے ہیں او رعلت وسبب کے پائے جانے سے معلول یا مسبب ضرور بضرور پائے جاتے ہیں، اس لیے اس امر کا وجود واجب ہو جاتا ہے۔
  3. جو بات ابھی واجب لذاتہ اور واجب لغیرہ کے حوالے سے کہی گئی وہی بات ممتنع لذاتہ اور ممتنع لغیرہ کے حوالے سے ہے۔
  4. ممتنع لذاتہ کی مثالیں: ایک ہی چیز کا ایک ہی وقت میں سیاہ و سفید ہونا، ایک ہی قضیے یا بات کا ثابت و منفی ہونا۔
  5. واجب لغیرہ کی مثال: یہ فرض کرنا کہ آج قیامت قائم ہوئی لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور ایسا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ہے کہ ایسا نہیں ہونا۔ یہ واجب لذاتہ نہیں بلکہ واجب لغیرہ کی مثال ہے۔ دراصل اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ اس کائنات میں وہ باتیں جو پیش آسکتی تھیں لیکن نہیں وقوع پذیر ہوئیں، اگرچہ اپنی ذات میں ممکن ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ہے کہ انہوں نے نہیں ہونا، اس لیے وہ ممعتنع لغیرہ ہیں۔ اس کی ایک دوسری مثال یہ ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا اور وہ فوت ہو گیا۔ اب اس کا تیسرا بیٹا یا بیٹی ہونا اگرچہ بذات خود ممکن ہے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے پیش نظرممتنع ہے۔
  6. ہم نے دیکھا کہ جب ممکن ذاتی کی علت پائی جائے، تو وہ واجب لغیرہ ہو جاتا ہے کیونکہ ممکن کا مطلب ہی یہ ہے کہ وجود اس کی ذات کا تقاضا نہیں بلکہ کسی دوسرے سے حاصل ہوا۔ اس لحاظ سے، واجب لغیرہ کا تصور اس کی علت کے تصور پر مقدم ہے۔

غزالی و علم کلام سے حکم عقلی کی کچھ مثالیں

ذیل میں ہم امام غزالی سے اس حوالے سے دو مثالیں پیش کرتے ہیں جس سے "حکم عقلی" کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے:

رویت باری تعالیٰ

کیا قیامت کے دن ایمان والے اللہ تعالیٰ کا دیدار اپنی آنکھوں سے کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں:6

  • معتزلہ و امامیہ: اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا جا سکتا۔ معتزلہ اگرچہ بعض نصوص کو بھی بنیاد بناتے ہیں7 لیکن ان کا عقلی استدلال تین بنیادوں پر کھڑا ہے:
    • آنکھ سے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جسے دیکھ رہا ہے وہ اس کی کسی خاص جہت میں ہو، یعنی اوپر، نتیجے، دائیں بائیں، آگے یا پیچھے۔
    • اور جو ذات جہت کی حامل ہو وہ جسم ہے۔ پس دیکھنے کی علیت جسمیت ہوئی۔
    • اللہ تعالیٰ کی ذات جہت سے پاک ہے۔
      • نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا جا سکتا.
  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے متبعین: اللہ تعالیٰ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ معتزلہ کے پہلے مقدمے سے متفق ہیں کہ جہت کے بغیر دیکھا نہیں جا سکتا۔ لیکن دوسرے مقدمے سے اختلاف کرتے ہیں کہ جہت سے جسمیت لازم آتی ہے۔ بلکہ شیخ کا کہنا ہے کہ لفظ جسم کی نفی اللہ تعالیٰ سے کتاب و سنت میں نہیں آئی۔ اس لیے، اس کی نفی یا اثبات کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں جب تک واضح نہ کیا جائے کہ اس سے کیا مراد ہے۔8 چناچہ ان کے مطابق اگر جسم سے وہ مراد ہے جو مخلوق کے حق میں ہے، تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے۔ اسی کے نتیجے میں وہ معتزلہ کے تیسرے مقدمے سے اختلاف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہت سے پاک ہیں۔ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ہے۔ تاہم اس کی جہت اس کی شان کے مطابق ہے۔ اور یہ گفتگو اللہ تعالیٰ کی صفت علو اور استوا علی العرش سے جا ملتی ہے۔
  • اشاعرہ و ماتریدیہ: ان حضرات کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ نیز وہ معتزلہ کے تیسرے مقدمے سے متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جہت سے پاک ہے لیکن وہ اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ دیکھنے کی علت "جسمیت" ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ دیکھنے کی علت "وجود" ہے۔ پس ہر وہ موجود ذات کو دیکھا جا سکتا ہے اگرچہ وہ جہت سے پاک ہو۔

امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ جب اس مسئلے میں تحقیق کرتے ہیں تو اپنے کتاب کے پہلے قطب میں اس کا تذکرہ فرماتے ہیں جو "ذات" سے متعلق مباحث میں ہے کہ مثلا اللہ تعالیٰ کی ذات جسم سے پاک ہے، جوہر و عرض سے پاک ہے۔ نیز اس میں اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلیل کھڑی کی جاتی ہے۔ آپ اس کی وجہ میں دو امور واضح کرتے ہیں:

  1. اللہ تعالیٰ کی رویت کے مسئلے کو ذات باری تعالیٰ سے متعلق "قطب" (یعنی باب) میں لانے کی وجہ یہ ہے کہ معتزلہ نے رویت کا انکار اس بنیاد پر کیا کہ جو ذات جہت سے پاک، وہ اس سے پاک ہے کہ اسے دیکھا جا سکے۔
  2. ہمارا (یعنی اشاعرہ کا) کہنا ہے کہ دیکھنے کے لیے علت "وجود" ہے۔ پس جو چیز یا ذات موجود ہے اسے دیکھنا "جائز عقلی" ہے۔

اور یہاں سے فورا امام صاحب اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ "جائز عقلی" ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ "بالفعل" (In Actuality) بھی ایسا ہو۔ بلکہ بعض خارجی عناصر کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ انسان بالفعل کسی چیز کو نہ دیکھ سکے۔ وہ اسے یوں سمجھاتے ہیں کہ دیکھو جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں دریا میں جو پانی ہے وہ پیاس بجھاتا ہے یا فلاں گا گر میں موجود شراب مدہوش و بد مست کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پیاس پانی کے پینے اور مدہوشی می نوشے سے ہوتی ہے۔ لیکن اس تعبیر کی بنیاد یہ ہے کہ پانی اور شراب میں یہ استعداد (Potentiality) ہے۔ یہی سے وہ واضح کرتے ہیں کہ اس باب میں گفتگو کے دو پہلو ہیں:

  • جواز عقلی۔ اس کے لیے امام غزالی دو عقلی دلائل لاتے ہیں اور اس پر گفتگو کرتے ہوئے بالکل بھی قرآن، حدیث یا شریعت کا حوالہ نہیں دیتے۔
  • وقوع۔ البتہ جب بات وقوع کی آتی ہے تو وہ واضح کرتے ہیں کہ اسے صرف شریعت ہی سے جانا جانا سکتا ہے اور اس کے لیے وہ کتاب وسنت سے دلائل کھڑے کرتے ہیں۔

امام صاحب کی عبارت ملاحظہ ہو جس سے ان کا منہج واضح ہوتا ہے:

فالنظر فی طرفین: احدہما فی الجواز العقلی، والثانی فی الوقوع الذی لا سبیل الی درکہ الا بالشرع، ومہما دل الشرع علی وقوعہ فقد دل ایضا لا محالۃ علی جوازہ ولکنا ندل بمسلکین واقعین عقلیین علی جوازہ9

ترجمہ: "پس (اس باب میں) تحقیق دو پہلووں سے ہے: ایک عقلی جواز کے پہلو سے اور دوسرا اس کے وقوع کے پہلو سے جسے شریعت کے بنا نہیں جا نا جا سکتا۔ نیز اگرچہ جب کسی معاملے کی بابت شریعت سے ثابت ہو گیا کہ وہ ہو گی تو بلاشبہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ عقلی طور سے جائز ہے، لیکن ہم اس کے عقلی جواز پر دو عقلی دلائل بھی پیش کریں گے۔"

اس عبارت سے واضح ہے کہ متکلم کا منہج کیا ہے۔ متکلم کے پاس ایک طرف "حکم شرعی" ہے اور دوسرے طرف "حکم عقلی"۔ اور اس کا مقدمہ ہے کہ حکم شرعی اور حکم عقلی کبھی بھی باہم دست وگریباں نہیں ہوتے۔ لیکن جب وہ فلسفی سے گفتگو کرتا ہے یا کسی ایسے سے اسلامی فرقے سے گفتگو کرتا ہے جو کسی حکم کے جواز عقلی کا منکر ہو، تو وہ اس کے لیے صرف یہ نہیں کہتا کہ چونکہ شریعت نے ایسا کہا ہے اس لیے اسے ماننا ہو گا کیونکہ فلسفی بحیثیت فلسفی کے، کتاب و سنت کو بنیاد نہیں بناتا اور اسلامی فرقہ جسے محال عقلی سمجھتا ہے وہ وحی میں موجود ایسی نصوص کی تاویل کرتا ہے جیسے معتزلہ "نظر" کی تاویل انتظار سے کر دیتے ہیں۔ اس لیے، متکلم جواز عقلی کے منکر کی دلیل کا جواب عقلی بنیادوں ہی پر دیتا ہے۔

اور ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ کسی امر کے "جواز عقلی" کا انکار دراصل یہ دعویٰ کرنا ہے کہ وہ تصور ناممکنات میں سے ہے اور ایسے دعویٰ کرنے والے کو دلیل دینی ہوتی ہے جبکہ اس کے "جواز عقلی" کے قائل کے ذمے میں دلیل نہیں بلکہ ناممکن ہونے کے دعویٰ کرنے والے کی دلیل کو توڑنا ہوتا ہے۔ اگروہ جواز عقلی پر اپنے اور فریق مخالف کے اتفاقی مقدمات سے کوئی اثباتی دلیل لاتا ہے تو ایک اضافی معاملہ اور احسان ہے۔ آداب مناظرہ و مکالمہ کے لحاظ سے، یہ اس کی ذمے داری نہیں۔

یہاں سے، ایک اور پہلو بھی واضح ہوا کہ کسی متکلم کی گفتگو کے حوالے سے جب تک یہ واضح نہ ہو کہ خطاب کس سے ہے، اس کے منہج استدلال پر کوئی بات کہنا درست نہیں۔

اسباب و مسببات کا اقتران

امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فلاسفہ کی تردید سے پہلے ان کا تفصیلی مطالعہ کیا اور اس کے بعد جب وہ ان کی تردید کے لیے کمر بستہ ہوئے، تو انہوں نے "مقاصد الفلاسفہ" کے نام سے رسالہ لکھا جو دراصل تہافت کا مقدمہ ہے اور اس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کون سے نظریات ہیں جن کی امام صاحب تردید کریں گے۔ بالفاظ دگر، اس مقدمے سے امام صاحب نے اپنا "مخاطب" طے کر دیا۔ اور اس کتاب میں ان کا خطاب ابن سینا و فارابی سے ہے جیسا کہ انہوں نے تہافت کے شروع میں واضح کیا۔

اس لیے، امام غزالی پر کوئی تنقید اس وقت تک برمحل نہیں ہو سکتی، جب تک ان کے کلام کو ان کے خطاب کے تناظر میں نہ رکھا جائے۔ چناچہ اگر کوئی بندہ ان مقدمات ہی کا انکار کر دے جن پر امام صاحب کے ہاں علم کلام کھڑا ہے یا جنہیں ابن سینا و فارابی تسلیم کرتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ وہ ایک الگ معاملہ ہے جیسے کوئی سوفسطائی یہ کہہ دے کہ وہ "وجود" کو مانتا ہی نہیں۔ سب سراب ہے، سب دھوکا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ امام صاحب گفتگو کر رہے ہیں نہ اس کی اس بات کو امام صاحب کے مخاطب ابن سینا و فارابی مانتے ہیں۔

تہافت کا ایک مشہور باب "اسباب و مسببات کے رشتے "سے متعلق ہے اور اس کی شہرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی مشابہت ہیوم کے ہاں موجود اسباب پر گفتگو سے ہے۔ اسباب و مسببات میں رشتہ "اقتران" ہے یا "ضرورت" کا۔ اس حوالے سے امام صاحب اور اشاعرہ کا بالعموم نقطہ نگاہ یہ ہے کہ یہ "اقتران" ہے، ضرورت نہیں۔ امام صاحب جن لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے ان کا دعویٰ تھا کہ یہ رشتہ "وجوب و ضرورت" کا ہے۔ اس لیے، سبب و مسبب میں جدائی "ناممکنات" میں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں چونکہ ان کے مخطاب کا دعویٰ تھا اس لیے اس نے دلیل بھی دی اور امام صاحب نے اس کی دلیل توڑی ہے۔ امام صاحب گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں:

الاقتران بین ما یعتقد فی العادۃ سببا وما یعتقد مسببا لیس ضروریا عندنا بل کل شیئین لیس ہذا ذاک ولا ذاک ہذا، ولا اثبات احدہما متضمن لاثبات الآخر ولا نفیہ متضمن لنفی الآخر، فلیس من ضرورۃ وجود احدہما وجود الآخر ولا من ضرورۃ عدم احدہما عدم الآخر مثل الری والشرب والشبع والاکل والاحتراق ولقاء النار والنور وطلوع الشمس والموت وجز الرقبۃ والشفاء وشرب الدواء واسہال البطن واستعمال المسہل وہلم جرا الی کل المشاہدات من المقترنات فی الطب والنجوم والصناعات والحرف، وان اقترانہا لما سبق من تقدیر اللہ سبحانہ یخلقہا علی التساوق لا لکونہ ضروریا فی نفسہ غیر قابل للفرق بل فی المقدور خلق الشبع دون الاکل وخلق الموت دون جز الرقبۃ وادامۃ الحیوۃ مع جز الرقبۃ وہلم جرا الی جمیع المقترنات، وانکر الفلاسفۃ امکانہ وادعوا استحالتہ10

ترجمہ: "عام طور سے، جسے سبب ومسبب سمجھا جاتا ہے وہ ہمارے ہاں "ضروری" نہیں۔ بلکہ ہر ایسے دو امور جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں اور ایک کا اثبات یا نفی اپنے اندر دوسرے کے اثبات یا نفی کو نہیں لیے ہوئے، تو ایک کے وجود یا نفی سے "بالضرورۃ" دوسرے کا وجود یا نفی نہیں برآمد ہوتے۔ مثلا، پانی پینا اور سراب ہونا، کھانا اور پیٹ بھرنا، آتش رسیدی و سوختی، طلوع خورشید و روشنی، گردن زنی و موت، دوا دارو کرنا اور شفایاب ہونا، دست آور دوا لینا اور پیٹ کا جاری ہونا اور اسی طرح دوسرے مشاہدے پر مبنی امور جن کا تعلق طب، علم نجوم اور دیگر صنعت و حرفت سے ہے۔ ان تمام ہم راہ وہم زمان جوڑوں کا ملاپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ازلی کی وجہ سے ہے کہ وہ انہیں اسی طرح پیدا کرتا ہے، ایسا نہیں کہ ان دونوں کی ذوات "بالضرورۃ" ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو سکیں۔ بلکہ (اللہ کی) قدرت میں ہے کہ کھائے بنا پیٹ بھر جائے، گردن زنی کے بغیر موت طاری ہو جائے بلکہ گردن زنی کے باوجود سانسیں چلتی رہیں اور اسی طرح دوسرے ہم زمان امور۔ فلاسفہ ان کے امکان سے انکاری ہیں اور عدم امکان کے مدعی۔ "

یہاں امام صاحب نے پہلے واضح فرمایا کہ اس گفتگو میں دو طرح کے امور شامل نہیں:

  • ایک امر بعینہ دوسرا ہو۔ جیسے کنوارا اور غیر شادی شدہ۔
  • ایک امر دوسرے کے ضمن میں ہو جیسے کل کے پورے طور سے زائل ہونے سے جزو کا زائل ہونا یا کل کے پائے جانے سے جزو کا پایا جاتا۔

یہ دو امور سب و مسبب میں نہیں آتے۔ اس کے بعد آپ اجاگر کرتے ہیں کہ:

  • یہاں گفتگو یہ نہیں کہ سبب و مسبب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں پائے جاتے۔ بلکہ اصل گفتگو یہ ہے ان کے پائے جانے کا رشتہ یا جہت (Modality) "بالضرورہ" نہیں جس کی تشریح اوپر کی جا چکی۔
  • غزالی کے مخاطب کا دعویٰ یہ تھا کہ ان کا رشتہ "ضروری" ہے اور سبب و مسبب ایک دوسرے کا ذاتی تقاضا ہیں۔ بالفاظ دگر، ان کا مخاطب یہاں "وجوب" کا دعویٰ کر رہا تھا۔
  • غزالی یہاں اپنے مخاطب کو پہلے درجے میں یہ بات نہیں ثابت کروا رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے نہ جلے اور یہ نہیں کہہ رہے کہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا اس لیے آگ اور سوختی میں کوئی عقلی لزوم نہیں۔ یہ ایک ضمنی بات ہے۔ وہ گفتگو اس امر پر کر رہے ہیں کہ مثلا انسانی مشاہدے میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ان کے مابین "ضرورت" کا رشتہ استوار ہو سکے اور اسی رشتے کو "طبع" سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے11۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ غزالی نے فلاسفہ سے یہ تسلیم کروا لیا کہ سبب و مسبب کا رشتہ "ضروری "نہیں، تو اس کے بعد معجزے کے انکار کی بنیاد ہی اکھڑ گئی۔ بعد ازآں، جب غزالی نبوت کو ثابت کر دیتے ہیں، تو زبان نبوت سے معجزات کا علم خود بخود ثابت ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہم پہلے لکھ چکے کہ غزالی یا متکلم کا مقدمہ ہے کہ دین کبھی بھی کسی ایسے امر کا نہیں کہتا جو "ممتنع" ہو۔ اس لیے، علم کلام میں دینی عقائد کے گرد "حکم عقلی" کی ایک تہہ جمائی جاتی ہے اور جن دینی امور کے گرد کوئی گروہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ عقلی طور سے ناممکنات میں سے ہیں، تو متکلمین وہاں عقلی بنیادوں پر بحث کرتے ہیں اور اسی حصے میں کلام "فلسفے" کے منہج سے قریب آ جاتا ہے۔ چناچہ کلام مکمل طور سے، فلسفہ نہیں کہ اس میں "حکم شرعی" سے بحث ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں "حکم عقلی" بھی زیر بحث ہے اس لیے، اسے فلسفے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

ہم بات ختم کرنے سے پہلے اس طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ غزالی کی اسباب و مسببات کی تحقیق میں یہ اعتراض کرنا کہ غزالی نے کسی دلیل کی بغیر اسباب و مسببات کے رشتہ ضرورت کا انکار کیا، دراصل غزالی یا متکلم کے پورے نظام کے اوجھل ہونے کی وجہ سے ہے۔ غزالی اس مرحلے تک پہنچے سے پہلے یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ کائنات "حادث" ہے اور اس میں موجود ہر ہر چیز، خواہ وہ سبب ہو خواہ مسبب، حادث ہے اور اسے پیدا کرنے والی ایک ذات ہے جو کم از کم زندگی، علم، قدرت اور ارادے سے متصف ہے۔ اس لیے، جب ہم نے دو امور کو حادث مان لیا (اور وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں نیز ان میں ایک دوسرے کے ضمن میں بھی نہیں پایا جاتا ہے)، تو اس کے بعد یہ دعویٰ کرنا کہ ان میں "ضرورت" کا رشتہ ہے، ایک بے معنی بات ہے کیونکہ "ضرورت" کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک چیز واجب ہے اور وجود اس کی ذات کا حصہ ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ علم کلام کا منہج سمجھنے کے لیے "حکم شرعی" اور "حکم عقلی" دونوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے، علم کلام ایک طرف اصول فقہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے (اور یہی سے اصول فقہ و کلام میں مشترک مباحث کا وجود واضح ہوتا ہے) تو دوسری طرف یہ عقلی مباحث کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے (اور یہی سے کلام کے ایک جزو کا علم اصول فقہ کا مقدمہ ہونا واضح ہوتا ہے)۔

بلاشبہ، ہم یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ "حکم شرعی" اور "حکم عقلی" کی باہم دگری و تعامل ایک سادہ معاملہ ہے۔ بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ و جدلی تعلق ہے اور بعض اوقات ایک متکلم حکم عقلی کو اصل مان کر حکم شرعی کی اس کے مطابق تشریح کر رہا ہوتا ہے اور دوسرے اس جھول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اشاعرہ کا معتزلہ پر اور ابن تیمیہ کا اشاعرہ پر اور خود اشاعرہ کا ابن تیمیہ پر، تسلسل عالم کے قضیے میں، اعتراض اسے جدلی رشتے کا شاخسانہ ہے۔


حواشی

  1. متن أم البراهين، ص 28
  2. معيار العلم في فن المنطق، ص 344
  3. معيار العلم في فن المنطق ص345
  4. معيار العلم في فن المنطق، ص346
  5. معيار العلم في فن المنطق، ص345 – 347
  6. المسايرة، ص 49 ومابعدها، الاقتصاد في الاعتقاد ص42 ومابعدها، شرح الأصول الخمسة، ص232 ومابعدها، مجموع الفتاوى، 16/ 84
  7. لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر [الأنعام: 103]۔ یہاں قاضی عبد الجبار معتزلی نے کلامی منہج کی رعایت کرتے ہوئے، رویت کی نفی پر نقلی دلیل لانے سے پہلے باقاعدہ واضح کیا کہ کسی مسئلے پر نقل سے استدلال کب درست ہے اور وہ رویت کے مسئلے میں کیسے پایا جاتا ہے۔
  8. مجموع الفتاوى، 11/ 362
  9. الاقتصاد في الاعتقاد للغزالي، ص42
  10. تہافت الفلاسفۃ، ص237
  11. یہ "عقلی رشتے" سے کچھ الگ نہیں بلکہ ایک ہی امر کی دو تعبیریں ہیں۔


آراء و افکار

(ستمبر ۲۰۲۲ء)

مطبوعات

شماریات