’’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم‘‘

مصنف: ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی

ناشر: براون بک پبلیکشنز ، نیو دہلی

ضخامت: 160

عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔ یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوں میں آباد ہو گئے۔ انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظر آنے لگے تھے۔ سن دس ہجری میں نجران سے بنو حارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں۔“ ان میں سے بعض قبائل حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکے تھے۔

بعد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں عرب و ہند کے درمیان یہ مراسم بڑھتے گئے اور ان میں باہمی شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ اس ہم آہنگی اور رشتہ داری کی وجہ سے زمانہ قدیم میں ہی ہندوستان کی تمام مصنوعات بشمول اشیائے خوردونوش جن میں ناریل، لونگ، صندل، چاول، گیہوں اور دیگر اشیاء شامل تھیں عرب کی منڈیوں تک پہنچ چکی تھیں۔ عرب و ہند کے ان قدیم تجارتی تعلقات کی بابت ایک مصری مورخ لکھتا ہے:

”جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کی ایک منزل مکہ مکرمہ ہوا کرتی تھی، یہ قافلے ہندوستان اور یمن کا تجارتی سامان شام اور مصر لے جاتے تھے، اثنائے سفر میں یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کرتے اور وہاں کے مشہور کنوئیں ”زمزم“ سے سیراب ہوتے اور اگلے دن کے لیے بقدر ضرورت زمزم کا پانی ساتھ لے جاتے تھے۔“ (الجمل فی تاریخ الادب العربی)

بنو امیہ کے دور میں راجا داہر کی سرکشی کی وجہ سے حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو ہندوستان کی طرف روانہ کیا، یہ خطہ ہندوستان کی طرف اسلامی خلافت کی طرف سے پہلی باقاعدہ مہم جوئی تھی، محمد بن قاسم کو ناگاہ واپس جانا پڑا، بعد میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اپنے دور اقتدار میں اہل سندھ و ہند کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے جن میں توحید و رسالت کی دعوت اور بت پرستی و بداخلاقی سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی تھی، ان خطوط کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے ہندو راجہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ ہندوستان میں اسلام کے اولین نقوش تھے، بعد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلم حکمرانوں اور سپہ سالاروں نے ہندوستان پر حکومت کی، ہندوستان کی آخری اسلامی حکومت مغلیہ سلطنت تھی۔

ہندوستان کی تاریخ میں اسلامی عہد حکومت ایک زرین عہد تھا جس میں تمام باشندگان کو یکساں حقوق اور سہولیات میسر تھیں۔ مسلمانوں نے اسلامی تہذیب کے دور عروج سے استفادہ کر کے اس خطہ ہندوستان کو بھی مختلف علوم و فنون کا مرکز بنا دیا تھا۔ اسلامی عہد کا ہندوستان خوشحال اور ترقی یافتہ تھا، قرب و جوار کے خطوں سے لوگ حصول علم کے لیے ہندوستان کا رخ کرتے تھے اور ہندوستان کی تہذیبی ترقی کی بدولت تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کی یہ تمام تر ترقی اسلام کے نظریہ تعلیم کی بنیاد پر تھی۔ افسوس کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی تاریخیں تو بہت لکھی گئیں مگر علمی تاریخ کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی کارناموں سے تو ایک جہاں واقف ہے مگر ان کے علمی کارناموں سے خال خال لوگ ہی واقف ہیں۔

تاریخ کی اکثر کتب میں مسلم ہندوستان کی تعلیمی درسگاہوں اور ان کے نظام تعلیم کے بارے میں بہت کم مواد ملتا ہے۔ محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان اور مصر کے درمیان تعلقات عروج پر تھے، اسی دور کا ایک مصری سیاح اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ صرف دلی میں ایک ہزار مدرسے تھے جن میں ایک شافعی اور باقی سب حنفی تھے۔ ایک یورپی سیاح کپتان الگزنڈر ہملٹن اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ٹھٹھہ میں مختلف علوم و فنون کے چار سو سے زائد مدارس تھے۔ مسلمان اپنے مذہبی ذوق کی بنا پر تعلیم و تعلم کو لازم اور درسگاہوں کے قیام اور علماء و طلبہ کی خدمت کو سعادت سمجھتے تھے۔ اکبر بادشاہ نے اپنے تمام صوبوں کے گورنروں کے نام ایک فرمان جاری کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو علم و ہنر کی اشاعت کرتے رہیں تاکہ اہل کمال دنیا سے معدوم نہ ہو جائیں اور ان کی یادگار صفحہ ہستی پر باقی رہے۔

قدیم ہندوستان میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا انداز یہ تھا کہ تعلیم کے لیے الگ عمارتیں قائم نہیں کی جاتی تھیں بلکہ یہ کام مساجد سے لیا جاتا تھا اور اس دور کی ہر مسجد بذات خود ایک درسگاہ ہوا کرتی تھی۔ مسجدوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے حجرے طلبہ اور علماء کی رہائش کے کام آتے تھے۔ ایک اہم ذریعہ تعلیم خانقاہیں ہوا کرتی تھیں، صوفیاء کرام تزکیہ نفس کے ساتھ مختلف علوم کی محفلیں سجاتے تھے۔ حکومتوں کی طرف سے خانقاہوں کو جو وظائف جاری کیے جاتے تھے وہ طلباء کی رہائش اور طعام پر خرچ ہوتے تھے۔

زیر تبصرہ کتاب میں ڈاکٹر محمد شمیم قاسمی نے ہندوستان کے تاریخی تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر محمد شمیم قاسمی مغربی بنگال کے تاریخی شہر کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی سے منسلک ہیں، وہ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک تھیالوجی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کر رہے تھے تو دوران ریسرچ انہیں کچھ ایسے موضوعات بھی مل گئے جن کا براہ راست ان کے مقالے سے تعلق نہیں تھا، وہ انہیں یکجا کرتے رہے اور بعد میں فرصت کے اوقات میں ان کی نوک پلک سنوار کر انہیں مختلف رسائل و جرائد میں بغرض اشاعت بھیجتے رہے۔ یہ مقالات ہند و پاک کے مؤقر جرائد میں چھپے اور قارئین نے انہیں پذیرائی بخشی۔ بعد میں ایک حادثاتی ملاقات میں ناشر نے اس کی اشاعت کی حامی بھر لی اور یوں یہ کتاب منصہ شہود پر آئی۔

ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے پیش لفظ میں ہندوستان کے تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا جائزہ پیش کیا ہے، مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھے تو انہوں نے اس کی تعمیر و ترقی میں کوئی دقیقہ فرگزاشت نہیں کیا، انہوں نے ماقبل حملہ آوروں کی طرح اس کو کنگال اور برباد نہیں کیا بلکہ اسے اپنا وطن سمجھ کر اس کی تعمیر و ترقی میں جت گئے۔ ہندوستان شروع سے ہی ایک تکثیریت زدہ معاشرہ رہا ہے، گوتم بدھ کے زمانے میں ہندوؤں میں ذات پات کا سسٹم عروج پر تھا، نچلی ذاتوں کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا تھا، گوتم بدھ کا ظہور ہندو مذہب میں حد سے بڑھی ہوئی طبقاتی تقسیم کا ہی رد عمل تھا، اگرچہ گوتم کی تعلیمات سے اس میں بہتری آئی مگر کچھ ہی عرصے بعد وہی برائیاں ہندوستانی سماج میں دوبارہ لوٹ آئیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بعد ایسا ہر گز نہیں ہوا، چھوٹی بڑی تمام ذاتوں اور برادریوں کو یکساں حقوق دیے گئے، ریاست کے تمام شہریوں کو ہر طرح کی مذہبی و سیاسی آزادی حاصل تھی۔ کسی طبقہ و ذات پر بے جا پابندیاں نہیں لگائی گئیں، اسلامی عہد کے ہندوستان کا سب سے خوبصورت کارنامہ یہ تھا کہ تمام شہریوں کو حصول علم کی یکساں آزادی حاصل تھی، کسی مذہب یا فرقے پر تعلیم کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی عہد کے ہندوستان میں شرح خواندگی تاریخ کے مختلف ادوار میں سب سے زیادہ رہی اور اس کی سند ہمیں تاریخ کے مختلف ادوار میں لکھے گئے ہندوستان کے سفر ناموں سے ملتی ہے۔

جو نو مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تھے ان کی تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ انتظام و انصرام کیا جاتا تھا، صاحب حیثیت مسلمان اپنے طور پر لائبریریاں اور درسگاہیں قائم کرتے تھے اور لوگ دور دراز سے تحصیل علم کے لیے ان درسگاہوں کا رخ کرتے تھے۔

مسلمانوں کے دور عروج میں پورا ہندوستان تعلیم و تعلم کا مرکز ہوا کرتا تھا، کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاں مختلف علوم و فنون کے ماہرین موجود نہ ہوں۔ یہ اہل علم اپنے فن میں کمال رکھتے تھے اور ان کی شہرت نزدیکی بلاد و امصار تک پھیلی ہوتی تھی۔ بسا اوقات قریبی ممالک سے ان اہل علم کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ ان علاقوں میں آ کر علوم و فنون کے چراغ روشن کریں۔

ڈاکٹر شمیم قاسمی صاحب نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے، انہوں نے پہلے باب کا عنوان اسلام کا نظریہ تعلیم رکھا ہے، اس باب میں اسلام کے نظریہ علم پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے ضمنی عنوانات میں اہل علم کی فضیلت، علم کا دائرہ کار، تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کے علمی کارنامے، مختلف علوم و فنون کی ترقی میں مسلمانوں کا حصہ اور جدید سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کے کردار جیسے عنوان پر بات کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اسلامی تہذیب میں عورتوں کی ناقابل فراموش تعلیمی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گی ہے۔

دوسرے باب کا عنوان مصنف نے عہد اموی و عباسی میں مسلمانوں کا نظام تعلیم رکھا ہے۔ اس باب میں انہوں نے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش، مختلف خلفاء عرب کے ذریعے فتوحات ہند کا آغاز، ہندوستان میں تعلیم و تعلم کے ابتدائی مراکز، ہندوستان کے بعض شہروں کی علمی مرکزیت، نامور علماء و محدثین کا ہندوستان میں قیام، ہندوستانی علماء و محدثین کی خدمات، ہندوستانی شہروں سے منسوب علماء و محدثین، ہندوستانی علوم و فنون سے اہل عرب کی دلچسپی، فقہ حنفی کی نشر و اشاعت اور ابتدائی عہد کے بعض صوفیاء کا تذکرہ کیا ہے۔ ان تمام مباحث کا تذکرہ مصنف نے حوالہ جات اور بڑی عرق ریزی سے کیا ہے۔

تیسرے باب کا عنوان علوم اسلامیہ کی اشاعت میں ہندوستانی مدارس کا کردار رکھا گیا ہے۔ اس باب کے ضمن میں مصنف نے جن مباحث کا احاطہ کیا ہے اس میں ہندوستان میں مدارس کے قیام کا آغاز، عہد غوری و عہد غلاماں میں تعلیمی اداروں کا قیام، خلجی اور تغلق عہد میں علمی سرگرمیاں اور مغلیہ سلطنت کے تعلیمی کارناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس میں خصوصی طور پر عہد اکبری اور عہد اورنگزیب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ باب کے آخر میں دار العلوم دیوبند کے قیام کے اسباب و محرکات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس عہد کے مشہور مدارس جن میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور، دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو، دار الحدیث رحمانیہ دہلی اور ایم اے او کالج کی خدمات و نتائج کا احاطہ کیا گیا ہے۔

کتاب کے چوتھے باب کا عنوان مصنف نے ہندوستان کے قدیم مدارس کا نصاب تعلیم رکھا ہے۔ اس باب میں مصنف نے ہندوستان کے مختلف مدارس میں رائج نصابات پر بات کی ہے۔ مصنف نے ہندوستان میں، تاریخ کے مختلف ادوار میں رائج نصاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے، مصنف کے مطابق پہلے دور کا نصاب غیر مرتب تھا جس میں ہندوستان میں فقہ اور علم فقہ کا رجحان پروان چڑھ رہا تھا۔ دوسرے دور کے نصاب میں معقولات کا حصہ غالب تھا، اس دور کے نصاب میں معقولات پر توجہ دی گئی اور ان کی شروحات کا رواج ہوا۔ تیسرے دور کا نصاب عہدِ اکبری میں رائج ہوا، مصنف کے مطابق یہ عہد سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ اس میں مختلف علوم و فنون کی اشاعت ہوئی۔ اس دور میں ہمیں معقولات و منقولات دونوں ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔

چوتھے دور کا نصاب ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ تھا جو آج بھی رائج ہے اور اس کی شہرت درس نظامی کے عنوان سے ہے۔ ہر باشعور صاحب علم کی طرح مصنف نے بھی اس نصاب پر سوالات اٹھائے ہیں کہ یہ نصاب عصر حاضر کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے یا نہیں، یہ اپنی ذات میں مکمل ہے یا اس میں مناسب ترمیم و اضافے کی ضرورت ہے۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ موجودہ درس نظامی کے نصاب پر نظر ثانی اور اس میں بڑی حد تک جدید علوم و فنون کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ مصنف کے نزدیک یہ شمولیت دیگر علوم کی تقصیر و توہین پر نہیں بلکہ ان سے مضبوط رشتہ جوڑے رکھنے کی شرط پر ہونی چاہئے۔ اس نئے نصاب سے گزرنے والے طلباء ہی اس قابل ہو سکیں گے کہ معاشرے کی مناسب راہنمائی کر سکیں اور مذہب اور اہل مذہب کے موہوم ہوتے کردار کا از سر نو احیاء کریں۔

پانچویں اور آخری باب کا عنوان مدارس اسلامیہ اور دینی تعلیم کی افادیت رکھا گیا ہے۔ اس باب کے ضمن میں مصنف نے مسجد و مدرسہ کی اہمیت کو واضح کیا ہے، اسلام میں مرد و عورت کے لیے تعلیم کی اہمیت اور اس تعلیم کی اشاعت میں مدرسہ کے کردار کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کے ساتھ مدارس کے ناقدین اور مستہزئین کے رویے پر بھی نقد کیا ہے۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ تمام علوم و فنون جو آج ہم تک پہنچے ہیں یہ مدارس ہی کی مرہون منت ہیں، تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلامی تہذیب پر جب بھی مشکل وقت آیا تو مدارس نے بطور ادارہ ہمیشہ مثبت اور شاندار کردار ادا کیا۔

کتاب کے آخر میں مراجع و ماخذ کی فہرست دی گئی ہے، حوالہ جات کا اہتمام ہر باب کے آخر میں کیا گیا ہے۔ یہ اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے، اس کے مطالعے سے خطہ ہند میں اسلام کی نشر و اشاعت اور برصغیر کے تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم سے آگاہی ملتی ہے۔

تعارف و تبصرہ

(جون ۲۰۲۰ء)

مطبوعات

شماریات