ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘

1970ء کا آغاز ہوا تو میں میٹرک سے فارغ ہو چکا تھا۔ ابھی کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا۔ ہر سو سیاست ہی سیاست ہی تھی۔ پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے ڈنکے بج رہے تھے۔ جماعت اسلامی کے لوگ ابھی تک انتخابی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔ مسلم لیگ بھی شکستہ دیوار کی مانند گر چکی تھی۔ اخبارات میں صرف شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خاں میں شکست دینے والے مفتی محمود کے تذکرے اور ان پر تبصرے شائع ہوتے۔ جمعیۃ علماء اسلام والے خوش تھے کہ ناقابل تسخیر بھٹو کو مفتی محمود نے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انتخابی شکست سے دوچار کیا ہے۔ گوجرانوالہ میں جناب زاہد الراشدی جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے ایک بڑا نام تھا۔ ہم اس سفر میں ان کے رفیق بھی رہے۔

پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب ان کی شہرت اور علمی مقام و مرتبہ ملکی سطح تک پہنچا تو پہلے ایک حد تک اور پھر مکمل طور پر سیاست سے کنارہ کش ہو کر علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ اپنے والد مولانا سرفراز خاں صفدر اور چچا صوفی عبدالحمید سواتی سے ورثے میں علم و فضل خوب حاصل کیا۔ آج کل "الشریعہ" کے نام سے ایک رسالہ جاری کرتے ہیں۔ اس ماہنامہ کی خوبی یہ ہے کہ پچاس کے لگ بھگ صفحات جو آپ ایک نظر میں نہیں پڑھ سکتے ان کا مختصر نچوڑ وہ ٹائٹل کے صفحے پر کچھ اس طرح بکھیر دیتے ہیں کہ ایک بار ہی میں پڑھنے والا اسے محسوس کئے یا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

آج میں نے ماہنامہ "الشریعہ"کے ٹائیٹل اکٹھے کر کے فکرونظر کے تانوں بانوں کو جوڑ کر کالم مکمل کیا ہے۔ لگ بھگ گذشتہ پانچ سالوں کے یہ چھوٹے چھوٹے فکر پارے کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں:

  1. دورِ حاضر میں داعیان اسلام نہ صرف اپنے مخاطبین کی زبان اور محاورے سے ناواقف ہیں۔ بلکہ اس فکری پس منظر سے بھی نابلد ہیں جس میں آج کی نئی نسل کی ذہنی تشکیل ہو رہی ہے اور یہی چیز ان کی دعوت کے غیر موثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ دور حاضر میں وارثانِ منبر و محراب پر اصحابِ کہف کی مثال صادق آتی ہے۔ جن کی زبان اور سکہ دونوں ہی لوگوں کے لئے اجنبی تھے۔ (آراء وافکار۔ از ڈاکٹر محمد اکرم ورک شعبہ علوم اسلامیہ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج پیپلز کالونی گوجرانوالہ۔ مارچ 2009ء)
  2. ہمارے ارباب علم و دانش حضرات کے لیے یہ بات سوچنے اور ہمارے نوجوانوں ایک طبقے کو سمجھانے کی ہے کہ کب تک ہم دنیا بھر کے تنازعات کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہیں گے۔ ہمارے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ بے تحاشہ درآمد کی اس پالیسی نے ہمارے ملک کو کس حد تک پہنچا دیا ہے۔ (حالات و واقعات از مولانا مفتی محمد زاہد۔ شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ۔ فیصل آباد۔ نومبر2011ء)
  3. فرقہ واریت اور تفریق کے نتیجے میں مطلع ابرآلود اور فضاء مکدر ہو جاتی ہے۔ اس کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اگر کوئی مقرر مخالف فرقے کے لئے نرمی سے کام لے یا تہذیب کے دائرے میں رہ کر تقریر کرے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اچھی تقریر نہیں کی اور دوبارہ اسے بلانے سے توبہ کر لی جاتی ہے۔ (آراء و افکار۔ از محمد بدر عالم۔ اپریل 2014ء)
  4. یہ جو بہت زیادہ تقریریں سننا ہے یہ بھی ہمارے عمل کی حس کو بہت حد تک دبا دیتا ہے۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک ہی دن وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔ جب ہم ہروقت باتیں سنتے اور کرتے رہتے ہیں تو ہماری حس مردہ ہو جاتی ہے اور ہم بے پرواہ ہو جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم ہر وقت سنتے رہتے ہیں۔ (حالات و واقعات از مولانا مفتی محمد زاہد۔ اپریل 2013ء)
  5. خلیق ابراہیم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " شاہ صاحب تین چار بار ہمارے ہاں آئے۔ وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مزاج کی بات ہو رہی تھی کہنے لگے۔ اس سے زیادہ جذباتی قوم دنیا کے پردے پر نہیں ہو گی۔ اس کے دین نے اسے اعتدال اور حقیقت پسندی کا رستہ دکھایا ہے۔ اور رسول کریم کا ارشاد ہے کہ دین میں غلو نہ کرو۔ مگر ہندوستان کی مسلمان قوم نے دین کو مشعل راہ بنانے کی بجائے اسے اپنے اعصاب پر سوار کر لیا ہے۔ اس کے جذبات میں کنکری ڈالو تو لہریں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک دم ابال آجاتا ہے۔ (حالات و واقعات از مولانا مفتی محمد زاہد۔ جون 2013ء)
  6. جہاد کی حقیقی روح یہ ہے کہ جہاد کو ذاتی اقتدار یا دولت یا اثرورسوخ کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے جو مسلمانوں کو مخصوص حالات میں ایک ذمہ داری کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں دولت و اقتدار کی خواہش شامل ہو جائے تو اللہ کی نظر میں وہ جدوجہد اپنی روح کے لحاظ سے بے وقعت قرار پاتی ہے۔ (حالات وواقعات از محمد عمار خان ناصر۔ مارچ 2014ء)
  7. جس طرح شریعت رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین کے باوجود ان سے مشترکہ خاندانی نظام کا تمدنی تقاضہ نہیں کرتی اسی طرح مسلمانوں کو اخوت و محبت و اتحاد کی تلقین کے باوجود عالمگیر متحدہ سلطنت کا تقاضہ بھی نہیں کرتی۔
  8. دینی مزاج رکھنے والے کروڑوں متشرع تاجروں اور دکانداروں کی موجودگی کے باوجود ملاوٹ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، وعدہ خلافی اور ٹیکس چوری اس طبقے میں از حد نمایاں ہے۔ خوراک تو خوراک ہے ادویات اور معصوم بچوں کا دودھ بھی ملاوٹ سے پاک نہیں ہے۔ (حالات واقعات از محمد اظہار الحق۔ ستمبر 2015ء)
  9. تکفیر و قتال کی روش اور نفسیات کی تازہ لہر نے عالم اسلام کے بہت سے حساس علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس سے عالمی اسلام دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی ایسی منظم منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ ملت اسلامیہ کی اجتماعی دانش کرب و اضطراب کی شدت سے تلملا کر رہ گئی ہے۔ (کلمہ حق از مولانا زاہد الراشدی۔ مارچ 2015ء)
  10. دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رویہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔ اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہو جائے گا۔ (آراء و افکار احمد جاوید / اے اے سید۔ مارچ 2016ء)

مشاہدات و تاثرات

(مارچ ۲۰۱۷ء)

مطبوعات

شماریات