ایک تحریکِ علماء کی ضرورت

پاکستان میں ججوں کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک کو اس کی کامیابی، ناکامی، خفیہ سیاسی عزائم اور اس نوعیت کے دیگر ایشوز سے الگ کر کے صرف اس زاویے سے دیکھا جائے کہ یہ جدید تعلیم یافتہ اور پروفیشنل لوگوں کی ایک پرامن تحریک تھی جو پاکستان جیسے کم تعلیم یافتہ اور پیچیدہ معاشرے میں سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی تو یقیناً وکلاء کی یہ کوشش کسی سعی مشکور سے کم نہیں تھی۔ بالکل انہی خطوط پر، ایک تحریک علماء کی تجویز پیش نظر ہے۔ اس بارے میں پہلے چند سوالات اٹھانا چاہتا ہوں:

  • وکیلوں کی تحریک کے طرز پر پاکستان کے روایتی علمائے کرام بھی کیا ایک غیر سیاسی تحریک شروع کر سکتے ہیں جس کا ہدف سیاسی ہونے کی بجائے سماجی ہو؟
  • موجود حالات کے تناظر میں ایسی کوئی تحریک اگر اٹھتی ہے تو اس کے سامنے اصل ہدف کیا ہونا چاہئے؟
  • اور ممکنہ طور پر علمائے کرام کی اس سماجی تحریک کے کون سے فائدے سامنے آسکتے ہیں؟ 

ان سوالات پر غور کرنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ وکلاء اور علماء کے درمیان قدرِ مشترک کیا ہے؟

  1. سماجی لحاظ سے، وکیلوں کی طرح، علمائے کرام بھی ایک پبلک ڈیلنگ والے پیشہ سے وابستہ ہیں اور صبح و شام ان کو لوگوں سے متفرق معاملات کرنے پڑتے ہیں۔ وہ صرف نماز ہی نہیں پڑھاتے بلکہ لوگوں کے دینی، معاشی، سماجی، عائلی، نفسیاتی اور ثقافتی مسائل سے متعلقہ سوالات کے جوابات بھی دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے جوابات ان کی اپنی سمجھ اور فقہی مسلک کے مطابق ہوتے ہیں۔ وکیلوں کا کام اگر عدالتی نظام میں اپنے موکلوں کی نمائندگی کرنا اور ان کی قانونی چارہ جوئی کرنا ہے تو علمائے کرام کا کام مذہب کے میدان میں لوگوں کو دین بتانا، سکھانا اور اس کی تشریح کرنا ہے۔
  2. جیسا کہ جب بھی قانون اور آئین کی حکمرانی اور اس کی پاسداری کی بات آئے گی تو فطری طور پر سب سے پہلے نگاہ انتخاب وکلاء پر ہی جا کر ٹھہرے گی، بالکل اسی طرح، مذہب کے معاملے میں علمائے کرام ہی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہوگی اور ہمارے موجودہ سماجی و ثقافتی ڈھانچے میں ابھی ان کا کوئی متبادل تیار نہیں ہو سکا ہے۔
  3. معاشرے میں وکلاء برادری کی طرح ایک علماء برادری بھی اپنا وجود رکھتی ہے جو اصل میں سول سوسائٹی کا حصہ ہے، اگرچہ سیکولر حلقوں میں جب بھی سول سوسائٹی کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کو شامل نہیں کیا جاتا جو ناقابل فہم ہے۔ لیکن عملی طور پر علمائے کرام، مساجد اور مدرسے سول سوسائٹی کا ہی حصہ ہے بلکہ سب سے موثر حصہ ہے۔
  4. وکلاء اگر کچہریوں میں منظم ہوتے اور بار رومز کے ذریعے سے اپنی تنظیم سازی کرتے ہیں تو علماء مسجد اور مدرسہ کے ذریعے سے منظم ہیں اور یہ ان کے اور عام لوگوں کے درمیان رابطہ کا ذریعہ بھی ہے۔
  5. لیکن جیسے وکلاء سول سوسائٹی کا حصہ ہونے کے باوجود سیاسی وابستگیوں سے آزاد نہیں ہوتے بلکہ ہر وکیل کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی وابستگی رکھتا ہوتا ہے، یہی حال علمائے کرام کی اکثریت کا بھی ہے۔ لیکن جب وکلاء نے ججوں کی بحالی کا پروجیکٹ سنبھالا تو وکلاء کی اکثریت نے اپنی سیاسی شناخت کو اس نئی سماجی شناخت میں (ججوں کی بحالی اور آئین کی بحالی) ضم کر دیا۔ اسی طرح، علمائے کرام بھی ایک "کامن سماجی پروجیکٹ" کے اوپر کچھ عرصہ کے لیے اپنے مسلکی و فروعی شناختوں کو بھلا کر ایک نئی سماجی شناخت تخلیق کر سکتے ہیں جو ان کو ایک کاز پر منظم کر دے۔ 

اگر اس مفروضے کو درست مان لیا جائے کہ علماء سول سوسائٹی کا اہم حصہ ہیں اور یہ کہ ایک مشترکہ سماجی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے جو علماء کو وکلاء کی طرح اکٹھا کرنے، ان کو متحرک کرنے، اور ان کو اس مقصد کے حصول کے لیے جمع ہونے کا محرک بنے تو پھر کئی سماجی، معاشی اور ثقافتی مسائل کی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے جن میں علمائے کرام کا کردار نہایت موثر ہو سکتا ہے لیکن اس وقت میرے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی زیرغور مسئلہ ہے جو کہ امن و امان کی بحالی اور عسکریت پسندی کے لیے ہمارے سماج میں موجود پسندیدگی کی اس جڑ کو کاٹ دینے سے بھی متعلق ہے جس کی وجہ سے ہم اس خونیں صورت حال سے مقابل ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اکثر جگہوں پر عسکریت پسندی کا وجود کسی نہ کسی شکل میں مذہب سے وابستہ ہے اور بدقسمتی سے مسلمان اس میں یا تو جھونک دیے گئے ہیں یا وہ خود اس کو لیڈ کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے بھی ایک بڑی سماجی حقیقت موجود ہے، وہ یہ کہ اس ملک کے علماء کی واضح اکثریت نے ہر قسم کی عسکری کارروائیوں کو نہ صرف یہ کہ خلافِ شریعت قرار دیا ہے بلکہ اس کے خلاف واضح فتوے بھی دیے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی سے لے کر مولانا زاہد الراشدی صاحب سے مولانا حسن جان شہید تک، سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ عسکری کاروائیوں کے واضح اسباب اور وجوہات موجود ہیں لیکن پھر بھی اس طرح کرنا نہ صرف یہ کہ اسلامی شریعت سے انحراف پر مبنی ہے بلکہ اس کی مجموعی روح کے بھی خلاف ہے اور خلف و سلف کے علماء نے بھی پر امن ذرائع سے اپنی جدوجہد کی ہے۔ انڈیا میں منعقدہ دیوبندی علماء کانفرنس نے بھی اس کے خلاف اسلام ہونے کے حوالے سے اپنا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ اس طرح سے اگرچہ ان علماء کی علمی ذمہ داری تو ادا ہو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ان کی ایک دعوتی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے جو فتویٰ دینے سے کہیں زیادہ مشکل اور صبر آزما ہے، کیونکہ مولانا حسن جان شہید نے اپنی علمی حیثیت سے بڑھ کر جب اسی سماجی و دعوتی ذمہ داری کو نبھانا چاہا تو ان کو اپنی زندگی کی شہادت دینی پڑی۔

ایک ایسی ہی پرامن سماجی تحریک شروع کرنے کا موزوں وقت ہے، شرط یہ ہے کہ علمائے کرام کا ایجنڈا یک نکاتی اور آخری حد تک غیر سیاسی ہو۔ علمائے کرام اپنی اس تحریک کو مذہبی سیاستدانوں سے دور رکھیں اور بالکل مذہبی اور دعوتی انداز میں نکل کر سوسائٹی کو مخاطب کریں اور اپنی دعوتی و سماجی ذمہ داری پوری کریں۔ اس تحریک کے موثر ہونے کے دو امکانات ہیں:۔

  1. الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی موجودگی جو ان کی آواز کو ملک کے کونے کونے تک پہنچا دے گا اور اس میں یقیناً ان کا ساتھ دیا جائے گا۔ 
  2. سوسائٹی کی وہ خاموش اکثریت جو امن و امان کی ابتر صورت حال سے تنگ ہے اور جو اس کو صحیح نہیں سمجھتی اور اس سے جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن نہ ان کو قیادت میسر ہے اور نہ ہی وہ خود یہ کام کر سکتے ہیں، اور نہ ہی ان کو مذہبی و سیکولر سیاست دانوں سمیت اپنی فوج پر اعتماد ہے۔ اس تحریک کا فائدہ یہ ہوگا کہ سوسائٹی میں سیکولر اور مذہبی کی پولرائیزیشن کے درمیان یہ علماء ایک پل کا کام دے سکیں گے اور اس کامن پروجیکٹ میں ایک بڑا سیکولر اور لبرل طبقہ ان کے پیچھے کھڑا ہو جائے گا۔

پوری دنیا میں عسکریت کے مسئلے کو اسلام کے تناظر میں سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ علماء کی اکثریت کم از کم اس مسئلے میں بالکل دوسرا موقف رکھتی ہے جو امن و آشتی اور اخوت و محبت پر مبنی ہے۔ اس تاثر کو یوں زائل کیا جا سکے گا جب علمائے کرام از خود عسکریت کے مسئلے کے جڑ اور سبب بننے کی بجائے مسئلے کے حل کے طور پر سامنے آئیں گے۔ 

آراء و افکار

(جولائی ۲۰۰۸ء)

تلاش

شماریات