Article image..
سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ : (۲٠۳) یُخلِفُہُ کا ترجمہ: اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر(الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب کے لیے نہیں آئی ہے، بلکہ اس دنیا میں اللہ کی رازقیت بتانے کے لیے آئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رزق کا سلسلہ انسانوں کے لیے تاحیات جاری رہتا ہے۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اوراللہ تعالی اس کی جگہ اس کا بدل عطا کرتا ہے، اور یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ اسی طریقے سے دنیا میں انسانوں کی زندگی گزر رہی ہے۔ فھو یخلفہ مستقبل کا کوئی وعدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی جاری سنت کا بیان ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج