Article image..
متکلمینِ اہل سنت کی علمی یورش کے سامنے معتزلہ و فلاسفہ کے ہیبت ناک عقلی قلعے فرشِ راہ بن چکے تھے۔اعتزال و فلسفہ کی فلک بوس عمارت زمیں بوس کر دی گئی تھی۔اہل سنت کے دونوں ذی احتشام امام حجۃ الاسلام غزالیؒ اور فخرالدین رازیؒ وصالِ حق سے شرف یاب ہو چکے تھے۔ایسے میں اہلِ اسلام کے علمی افق پر ایک اور بڑا نام علامہ ابنِ تیمیہ الحرانیؒ نمودار ہوتا ہے۔علامہ صاحب کی رفعتِ علمی اور وسعتِ معلومات میں شاید ہی کسی کو کلام ہو۔آپ کی بسیار نویسی اور مانندِ آب رواں قلم ضرب المثل ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علامہ صاحب اپنے مخصوص معتقدات اور تفردات کے باعث تاریخ اسلام کی چند بڑی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔آپ نے اہل سنت کے کئی ایک اعتقادی مسلمات اور فقہی متفقات سے ہٹ کر جداگانہ روش اپنائی۔آپ ائمہ اہلسنت پر نہایت بے باکانہ انداز میں تنقید کرتے ہیں اور وفورِ نقد میں اکثر اوقات حدِ اعتدال پھاند جاتے ہیں۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج