مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگار

محمد عمار خان ناصر
والد گرامی کی روایت ہے، گوجرانوالہ میں یوسف کمال نام کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب مقرر ہوئے جو کافی رعونت پسند اور طبقہ علماء کے بہت خلاف تھے۔ ایک میٹنگ میں، جس میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سمیت شہر کی بڑی مذہبی شخصیات شریک تھیں، ڈی سی صاحب نے گفتگو شروع فرمائی کہ مجھے علماء کرام پر بہت ترس آتا ہے، میرا دل دکھتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا، ان کا روزگار لوگوں کی جیب سے وابستہ ہوتا ہے، وغیرہ۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب مضطرب ہوئے اور زیر لب کہنے لگے کہ یہ بہت زیادتی ہے۔ والد گرامی نے کہا کہ اگر آپ فرمائیں تو میں ڈی سی صاحب کو جواب دوں؟ صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ ہونا تو چاہیے۔ اپنی باری آنے پر والد گرامی نے کہا کہ میں ڈی سی صاحب کا بہت ممنون ہوں کہ انھوں نے علماء کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے، بس اتنی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ روزگار آپ کا بھی لوگوں کی جیب سے ہی وابستہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ کی تنخواہ ٹیکس کلکٹر ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی جیب سے وصول کرتا ہے، اور علماء کے پاس لوگ خود آ کر کہتے ہیں کہ حضرت، ہدیہ قبول فرمائیں اور ساتھ دعا کی درخواست بھی کرتے ہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی
سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ : (۲٠۳) یُخلِفُہُ کا ترجمہ: اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر(الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب کے لیے نہیں آئی ہے، بلکہ اس دنیا میں اللہ کی رازقیت بتانے کے لیے آئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رزق کا سلسلہ انسانوں کے لیے تاحیات جاری رہتا ہے۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اوراللہ تعالی اس کی جگہ اس کا بدل عطا کرتا ہے، اور یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ اسی طریقے سے دنیا میں انسانوں کی زندگی گزر رہی ہے۔ فھو یخلفہ مستقبل کا کوئی وعدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی جاری سنت کا بیان ہے۔

ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ

ابو عمار زاہد الراشدی
مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے نوازیں اور تمام متعلقین، پسماندگان اور سوگواروں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ

ابو عمار زاہد الراشدی
حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مفتی صاحبؒ کی علالت کی خبریں کئی روز سے آرہی تھی، اور آخر عالم اسلام کی یہ عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہ، متکلم اور ہزاروں علماء کرام کے شفیق استاذ اپنا سفر زندگی مکمل کر کے دار باقی کی طرف روانہ ہوگئے۔ مولانا پالنپوریؒ کے تعارف کے لیے اس کے بعد مزید کسی بات کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے اور انہوں نے سالہاسال تک اس مرکز علم میں ہزاروں تشنگان علوم کو مسلسل فیضیاب کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا یہ منصب ہمیشہ اپنے دور کی ممتاز ترین علمی شخصیات کے ساتھ مخصوص رہا ہے جن میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ، خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ جیسے اساطین علم و فضل کے نام آتے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی فہرست میں نام کا شمار ہونا بجائے خود کسی بڑے سے بڑے علمی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

کشمکشِ عقل و نقل:امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒ

مولانا محمد بھٹی
متکلمینِ اہل سنت کی علمی یورش کے سامنے معتزلہ و فلاسفہ کے ہیبت ناک عقلی قلعے فرشِ راہ بن چکے تھے۔اعتزال و فلسفہ کی فلک بوس عمارت زمیں بوس کر دی گئی تھی۔اہل سنت کے دونوں ذی احتشام امام حجۃ الاسلام غزالیؒ اور فخرالدین رازیؒ وصالِ حق سے شرف یاب ہو چکے تھے۔ایسے میں اہلِ اسلام کے علمی افق پر ایک اور بڑا نام علامہ ابنِ تیمیہ الحرانیؒ نمودار ہوتا ہے۔علامہ صاحب کی رفعتِ علمی اور وسعتِ معلومات میں شاید ہی کسی کو کلام ہو۔آپ کی بسیار نویسی اور مانندِ آب رواں قلم ضرب المثل ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علامہ صاحب اپنے مخصوص معتقدات اور تفردات کے باعث تاریخ اسلام کی چند بڑی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔آپ نے اہل سنت کے کئی ایک اعتقادی مسلمات اور فقہی متفقات سے ہٹ کر جداگانہ روش اپنائی۔آپ ائمہ اہلسنت پر نہایت بے باکانہ انداز میں تنقید کرتے ہیں اور وفورِ نقد میں اکثر اوقات حدِ اعتدال پھاند جاتے ہیں۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۷)

محمد عمار خان ناصر
قانون اتمام حجت پر مبنی احکام: غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے مطابق قرآن مجید سے رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت واضح ہوتی ہے جس کی رو سے منصب رسالت پر فائز کسی ہستی کو جب کسی قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور باطل کے فرق کو بالکل قطعی درجے میں اور علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کر دیے جانے کے بعد بھی جو لوگ حق کے انکار پر مصر رہیں، وہ اسی دنیا میں خدا کے عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ عذاب کا یہ فیصلہ رسولوں کی طرف سے انذار، انذار عام، اتمام حجت اور اس کے بعد ہجرت وبراء ت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے ایک قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے ‘‘ (میزان ۵۹۸)

جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)

مولانا محمد اشفاق
انسانی جسم میں بعض تصرفات خصوصاً عورتوں سے متعلقہ چند افعال سے احادیث ِ مبارکہ میں سختی سے منع کیا گیا ہے ،اور ان پر لعنت بھی کی گئی ہے ؛جیسے بالوں میں دوسرے بال ( وصل کرنا یا کروانا)لگوانا،جسم کو گودنا یا گدوانا( وشم)، ابرؤوں کو باریک کروانا( نمص) دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا( تفلیج) ۔ انھی میں جدید دور کے بعض جمالیاتی تصرفات کو بھی شامل کیا جاتاہے ،جیسے چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کےلیے یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کےلیے سرجری کرواناوغیرہ ۔اس طرح کے افعال سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی جسمانی ساخت میں تبدیلی ہے جسے " تغییر خلق اللہ " کہا جاتاہے ۔ حدیث کے بعض الفاظ سے بھی اس علت کاپتا چلتاہے ،اس لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت میں تغییر خلق اللہ کو کس نظر سے دیکھا گیا ہے ۔ اگر تغییر خلق اللہ سے ممانعت ہے تو کیا وہ عمومی اور مطلق ہے ۔ اور کیا بذاتِ خود تغییر خلق اللہ سے منع کرنا مقصود ہے یا یہ حکم معلول بالعلۃ ہے ، یعنی اصل مقصود کسی اور برائی سے منع کرنا ہے جو تغییر خلق اللہ میں بھی پائی جا سکتی ہے ؟

الشریعہ اکادمی کا تین سالہ آن لائن کورس

ابو عمار زاہد الراشدی
۱۹۹۰ء میں ہم نے گوجرانوالہ میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے نام سے دینی و عصری تعلیم کے نصابوں کی مشترکہ تعلیم کا پروگرام تشکیل دیا تو ہمارے دونوں بزرگوں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے، جو اس پروگرام کے عملی سرپرست اور شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے رکن تھے، کہا کہ اسے درس نظامی کے روایتی نظام اور دینی مدارس کے سسٹم میں کسی قسم کا دخل دیے بغیر الگ تجربے کے طور پر چلائیں، چنانچہ یہ سلسلہ مختلف نشیب و فراز سے گزر کر اب جامعۃ الرشید کراچی کے زیر اہتمام بہت بہتر طریقے سے ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہم خوش ہیں کہ ہم سے بہتر ہاتھوں میں ہماری توقعات سے بڑھ کر کام جاری ہے، فالحمد للہ علی ذالک۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم

محمد عرفان ندیم
عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوں میں آ باد ہوگئے۔انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظرآنے لگے تھے۔سن دس ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں۔“ ان میں سے بعض قبائل حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے دور میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکے تھے۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج