غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اور مسلم تاریخ

محمد عمار خان ناصر
آیا صوفیہ سے متعلق ترکی کی عدالت کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے مسلمانوں کے تاریخی طرز عمل کے بارے میں بہت بنیادی نوعیت کے سوال گزشتہ دنوں زیر بحث رہے۔ آیا صوفیہ کا گرجا چونکہ قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر نے مسلمانوں نے بطور مسجد اپنے تصرف میں لے لیا تھا، اس لیے اہم ترین سوال جو اس بحث میں توجہ کا مرکز رہا، وہ یہی ہے کہ ایسا کرنا اسلام کی اصولی تعلیمات کی رو سے کیسا تھا؟ ہمارے نقطہ نظر سے اس پوری بحث کی درست تفہیم کے لیے جو چند بنیادی پہلو پیش نظر رکھے جانے چاہییں، وہ حسب ذیل ہیں: ۱۔ کسی معاملے سے متعلق مذہبی حکم کی تعیین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شرعی نصوص میں اس حوالے سے مسلمانوں کو کس چیز کا پابند کیا گیا ہے۔ بین المذاہب پرامن تعلقات، مذہبی رواداری یا دیگر دینی وسیاسی مصالح اس حوالے سے اصل بنیاد نہیں ہیں، بلکہ درحقیقت ان سب پہلووں کی رعایت اس لیے شرعی جواز کی حامل ہے کہ شرعی احکام وہدایات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرز عمل سے ان کی رعایت کرنا ثابت ہے۔

امت میں غوروفکر کی بازیافت

ڈاکٹر محی الدین غازی
وحی پر ایمان لانا اور عقل سے کام لینا۔ قرآن مجید میں یعقلون اور یومنون (عقل سے کام لینے اور ایمان لانے)کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے،اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں قرآنی جملوں پر غور کریں: انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یومِنُونَ۔(الروم:37)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے)۔ انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یعقِلُونَ۔(الروم:24)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے)۔ یہی نہیں، عقل کے جن اعمال کا قرآن مجیدمیں ذکر ہے، جیسے یفقہون، یتدبرون، یتفکرون، یتذکرون، یعلمون،وغیرہ اور ایمان کے جن اعمال کا ذکر ہے جیسے یتقون، یخشون، یوقنون، وغیرہ یہ سبھی اعما ل قرآن مجید میں اس طرح ایک ہی انداز سے اور ایک جیسے سیاق میں ذکر کیے جاتے ہیں، کہ دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ جن لوگوں کی صفت ایمان لانا ہے، انھیں لوگوں کی صفت عقل سے کام لینا ہے۔

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم کے نظام کی ضرورت

ابو عمار زاہد الراشدی
معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں۔ مثلاً ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ، ان پر عملداری کا انتظام و اہتمام، اور ان کے لیے ضرورت و معیار کے مطابق انتظامی و عدالتی ڈھانچہ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی مسلمان حکومت کا شرعی فریضہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں قرآن و سنت کے احکام کو قوانین کی صورت میں نافذ کرے اور حکومت کے انتظامی و عدالتی نظام کو اس کے مطابق تعلیم و تربیت سے بہرہ ور رجال کار فراہم کرے۔

جناب احمد جاوید سے ایک ملاقات

سید مطیع مشہدی
جنوری 2020 کے آخری دنوں کی بات ہے، ایک دن کلاسز سے فارغ ہونے کے بعد محترم رفیق ِ کار میاں انعام الرحمن حسب ِ معمول میرے پاس اسلامک ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے اور معمول کی گپ شپ شروع ہوئی۔باتوں باتوں میں بات ملک کے معروف دانش ور ،صوفی،فلسفی اور ادیب محترم جناب احمد جاوید صاحب کے بارے میں چل پڑی ۔اسی گفتگو کے اختتام پر یہ طے پایا کہ ان سے ملاقات کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔میاں انعام صاحب کا غائبانہ تعارف ان سے الشریعہ میں وقتا فوقتا چھپنے والے مضامین کے توسط سے ہو چکاتھا ۔چنانچہ میاں انعام صاحب کے نہایت نفیس دوست عمران مرزا صاحب سے گزارش کی گئی کہ وہ احمد جاوید صاحب سے کسی دن کاکوئی مناسب وقت لے کر مطلع فرمائیں۔ 8 فروری 2020 بروز اتوار بعداز ظہر کا وقت عنایت ہوا۔ ڈاکٹر پروفیسر محمد اکرم ور ک ، میاں انعام الرحمٰن، ڈاکٹر سلطان شمس الحق فاروقی اورراقم الحروف مقررہ وقت پر ان سے ملاقات سے شرف یاب ہوئے ۔

غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہوں کی تعمیر

ڈاکٹر عرفان شہزاد
حجاز کو اللہ تعالی نے توحید کا مرکز بنا کر مقدس کیا، کعبہ خدائے واحدت کے گھر اور قبلے کے حیثیت سے تعمیر ہوا۔ وہاں جب شرک نے قبضہ کر لیا تو یہ قبضہ واگزار کرایا گیا اور مشرکانہ عبادت گاہوں اور آثار کو مٹا ڈالا گیا۔ حجاز کی یہ خصوصی حیثیت ہے کہ وہاں کوئی مشرکانہ عبادت گاہ قائم رہ سکتی ہے اور نہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کو بیت اللہ ہونے کی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ نہ کعبہ کہیں اور تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ حجاز جیسا تقدس کسی اور زمین کو دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے صحابہ نے حجاز سے باہر کسی بت خانہ، کسی آتش کدہ کو نہیں گرایا اور نہ ایسی عبادت گاہوں کی نئی تعمیر کو روکا۔ البتہ اپنے مفتوحہ علاقوں میں جو نئے شہر بسائے، اس کے مالکانہ حقوق کی بنا پر اگر چاہتے تو غیر مسلم عبادت گاہ کی نئی تعمیر سے منع کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود کوئی غیر اسلامی معبد وہاں تعمیر ہوا یا نہیں، یہ تاریخی معلومات کا موضوع ہے جس پر تحقیق درکار ہے۔

صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقف

مولانا عبد الغنی محمدی
مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت اور تجدید و احیائے دین کی بعض عبارتیں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر خاص ان عبارتوں کی بجائے اس پر بات کی جاتی کہ اصولی طور پر مولانا مودودی کس جگہ غلطی پر ہیں ۔ اصولی چیزوں کے علاوہ تاریخی چیزوں میں بعض جگہ ان کی غلطی یا بددیانتی بھی اگر ثابت ہوجاتی ہے تو دیگر بہت سی جگہوں میں اسی قسم کی چیزیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔ مولانا مودودی صحابہ کرام کو محترم اور مکرم مانتے ہیں۔ اپنی تفسیر میں بہت سی جگہوں پر شیعی نظریات کا رد کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جس قدر فضائل و مناقب ہیں، ان سب کو تسلیم کرتے ہیں ۔ صحابہ معیار حق ہیں ، سبھی صحابہ عادل ہیں ، سبھی صحابہ قابل اتباع ہیں، ایسی جس قدر بھی روایات ہیں، مولانا مودودی ان کو مجموعی طور پر سبھی صحابہ کے لیے مانتے ہیں، تاہم انفرادی طور پر کسی سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اس کی وجہ سے ان کے رتبہ صحابیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج