Article image..
محمد عمار خان ناصر نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان۔ اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم کے ہاں بھی بہت نمایاں طورپر دکھائی دیتا ہے، چنانچہ وہ اصولاً یہ ماننے کے باوجود کہ کسی دوسری نص یا یقینی اجماع سے یہ واضح ہو جانے پر کہ نص کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، اسے ترک کیا جا سکتا ہے، عملاًبہت سی مثالوں میں نص کے ظاہری مفہوم کے مراد ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور تاویل کے ذریعے سے اسے ظاہری مفہوم سے صرف کرنے یا اس کی غیر متبادر توجیہ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، حالانکہ دوسری نص کی صورت میں اس کی بنیاد موجود ہوتی ہے۔ (احکام الاحکام ۳/۴۱)
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج