Article image..
ابو عمار زاہد الراشدی بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سیمینار کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے حضرت سندھیؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے ذوق کے مطابق اظہار خیال کیا ہے اور مجھے بھی چند معروضات آپ حضرات کے گوش گزار کرنی ہیں۔ مولانا سندھیؒ کا بنیادی تعارف یہ ہے کہ وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے قافلہ کے اہم ترین فرد تھے، شیخ کے معتمد تھے اور بہت سے معاملات میں ان کے ترجمان تھے، ان کے بارے میں گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں جن میں ایک پہلو پر کچھ عرض کروں گا کہ وہ جب کم و بیش ربع صدی کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی جدوجہد اور تگ و تاز کے کچھ تجربات و مشاہدات بتائے، ان میں سے تین باتیں بطور خاص میری آج کی گفتگو کا عنوان ہوں گی۔ پہلی بات یہ کہ اس سفر میں انہیں بین الاقوامی ماحول اور نظاموں کے مطالعہ اور اقوام عالم کی باہمی کشمکش کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج