Article image..
محمد دین جوہر آج کل مدرسہ ڈسکورسز کا پھر سے چرچا ہے، اور مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں اسے سازش بھی قرار دیا گیا ہے جو مضحکہ خیز ہے، اور صورتحال کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی خطیر فنڈنگ کو موضوع بنا کر بھی کچھ غیرمفید نتائج اخذ کیے گئے۔ فنڈنگ کی بنیاد پر ڈسکورسز کے منتطمین کی نیتوں اور ’خفیہ‘ عزائم پر اشاروں کنایوں سے بات کی گئی۔ چند مذہبی لوگوں نے ’اظہار خیال کی آزادی‘ اور ’فکری مکالمے کی ضرورت‘ کے حوالے سے اپنی کشادہ قلبی اور بے دماغی بھی ارزانی فرمائی۔ ان غیراہم یا کم اہم پہلوؤں پر گفتگو سے مدرسہ ڈسکورسز کے تعلیمی اور علمی منصوبے کا اصل کام اور اس کے مضمرات اور عواقب زیر بحث نہ لائے جا سکے۔ جیسا ظاہر ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز ایک منصوبہ اور واقعہ ہے، اور اس کے مقاصد اور طریقۂ کار مشتہر ہے۔ عصر حاضر کے ’واقعات‘ کی تفہیم ہم جس سطح پر اور جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج