Article image..
(۱۷۷) لعل برائے علت۔ لعل عام طور سے توقع یعنی اچھی امید یا ناخواہی اندیشے کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ کیا وہ تعلیل کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے؟ اس امر میں اختلاف ہے ۔ ابن ھشام کے الفاظ ہیں: الثانی التعلیل اثبتہ جماعة منہم الاخفش والکسائی وحملوا علیہ (فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی) ومن لم یثبت ذلک یحملہ علی الرجاء ویصرفہ للمخاطبین ای اذھبا علی رجائکما. (مغنی اللبیب) تاہم قرآن مجید کے بعض مواقع پر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں لعل تعلیل کے لیے ہی ہے، اور اگر تعلیل کے بجائے توقع کا ترجمہ کریں، تو بات غیر موزوں سی لگتی ہے، اور اس کی پرتکلف تاویل کرنی پڑتی ہے۔ ذیل کی کچھ مثالوں میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج