لبرل ازم اور جمہوریت کی ناکامی کی بحث

محمد عمار خان ناصر
اسرائیلی مصنف یوول نوآہ حراری کی کتاب Twenty one Lessons for the 21st Century کا بنیادی موضوع فری مارکیٹ اکانومی اور لبرل ڈیموکریسی کو درپیش انتظامی واخلاقی چیلنجز کی وضاحت ہے۔ حراری کے خیال میں یہ نظام جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے قطعا ناکافی ہیں۔ اختتام تاریخ کا مرحلہ مزید موخر ہو گیا ہے اور انسانی تہذیب ایک بارپھر ’’اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو” جیسی صورت حال سے دوچار ہے۔ کتاب کے انٹروڈکشن میں، حراری نے اس کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں وہ اس تنقید کو سپرد قلم کرنے کے حوالے سے مبتلا رہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۷۷) لعل برائے علت۔ لعل عام طور سے توقع یعنی اچھی امید یا ناخواہی اندیشے کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ کیا وہ تعلیل کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے؟ اس امر میں اختلاف ہے ۔ ابن ھشام کے الفاظ ہیں: الثانی التعلیل اثبتہ جماعة منہم الاخفش والکسائی وحملوا علیہ (فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی) ومن لم یثبت ذلک یحملہ علی الرجاء ویصرفہ للمخاطبین ای اذھبا علی رجائکما. (مغنی اللبیب) تاہم قرآن مجید کے بعض مواقع پر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں لعل تعلیل کے لیے ہی ہے، اور اگر تعلیل کے بجائے توقع کا ترجمہ کریں، تو بات غیر موزوں سی لگتی ہے، اور اس کی پرتکلف تاویل کرنی پڑتی ہے۔ ذیل کی کچھ مثالوں میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۵)

مولانا سمیع اللہ سعدی
معیارات ِنقد حدیث : اہل تشیع و اہلسنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا فرق معیارات ِنقد حدیث کا فرق ہے ،اہلسنت کے ہاں مصطلح الحدیث کا ایک منظم و مرتب فن موجود ہے ،جس میں نقد حدیث کے تفصیلی قواعد مذکور ہیں ،حدیث کی اقسام ،راوی کی جرح و تعدیل کے ضوابط ،حدیث سے استدلال کی شرائط ،راویوں کی انواع و اقسام سے متعلق تفصیلات ذکر ہیں ،چنانچہ معروف محقق ڈاکٹر نور الدین عتر نے مصطلح الحدیث کے جملہ فنون کو چھ انواع میں تقسیم کیا ہے : 1۔علوم رواۃ الحدیث یعنی وہ ضوابط جن کا تعلق رواۃ حدیث سے ہیں ۔ 2۔ علوم روایۃ الحدیث ،یعنی وہ فنون و علوم جو حدیث کے تحمل ،ادا وغیرہ سے متعلق ہیں ۔ 3۔علوم الحدیث من حیث القبول او الرد یعنی وہ علوم و ضوابط جو حدیث کے قبول و رد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 4۔علوم المتن یعنی وہ ضوابط جو حدیث کے متن سے متعلق ہیں ۔ 5۔علوم السند یعنی فنون و ضوابط جن کا تعلق حدیث کی سند سے ہیں ۔ 6۔العلوم المشترکہ بین السند و المتن یعنی وہ فنون جن کا تعلق متن و سند دونوں کے ساتھ ہیں ۔

مدارس میں تحقیقاتی معیار پر سوالیہ نشان

مولانا نفیس الحسن
بات ہو رہی تھی جدید تحقیقاتی دور میں مدارس کے کردار کے حوالے سے،  ایک ساتھی نے اپنے ایک استاد محترم کے کسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضمون میں جدید فقہی ذخیرے میں  کتابوں اور مقالات کی اس لمبی فہرست میں مدرسے کے کسی فاضل کی کوئی قابل ذکر کاوش  نہیں ۔ سب عرب جامعات کے فضلاء اور ان کے پی ایچ ڈی یا ایم فل مقالات ہیں۔ ہمارے پاس  میدان تحقیق میں چند گنے چنے نام ہیں جن کا صر ف ہم تذکرہ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کے نہج پر چل کر تحقیق کےتقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی قابل ذکر خدمت انجام دینا اب تک صرف ایک آرزو ہی ہے۔اس بات میں مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے لیکن علمی انحطاط کو دیکھ کر یہ بات کچھ مستبعد بھی نہیں۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ جو طالب علم بغیر بین السطور یا حاشیے کی مدد سے کتا ب حل کر سکتا تھا آج اس کو بغیر اردو شروحات کے کتاب کا حل کرنا محال تصور ہونے لگا ہے۔ بلکہ اب تو  اردو شروحات کے مطالعے کی توفیق بھی چھن گئی  ہے اور امتحان کی راتوں میں دس سالوں پر اکتفا ہونے لگا۔

اسلامی فکر و تہذیبی روایت کے احیاء کی ضرورت

پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسی
میں سب سے پہلے مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس سال مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسیو پروگرام (Summer Intensive ) پاکستان میں منعقد کیا ، اس سے بھی بڑھ کر ان کا شکریہ اس بات پر کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بحیثیت استاد اور پاکستان میں لیڈ فیکلٹی کے طور پر نہایت اہم اور فعال کردار ادا کیا۔ان کے ساتھ میں ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب کا بھی شکر گزار ہوں کہ جو اس پروگرام میں شروع دن سے میرے ساتھ ہیں اور اس کو چلانے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کیا۔اگرچہ اس سال ڈاکٹر ماہان مرزا کی خدمات نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے انصاری انسٹیٹیوٹ نے حاصل کر لیں لیکن مجھے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی اپنے وقیع علم اور وسیع تجربہ کی روشنی میں ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے ۔ اس کے ساتھ ہی میں ہندوستان میں مدرسہ ڈسکورسز کے استاد اور لیڈ فیکلٹی ڈاکٹر وارث مظہری کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا ۔

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

ابو عمار زاہد الراشدی
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد (IPS) نے ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی (ICRC) کے اشتراک سے ۲۷ و ۲۸ اگست ۲۰۱۹ء کو ’’اسلام اور اصول انسانیت‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی مختلف نشستوں میں سرکردہ اصحاب فکر و دانش نے انسانیت اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات و احکام کے متعدد پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ مجھے ۲۸ اگست کو کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی جبکہ معاون صدر دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل حسن تھے اور ان کے علاوہ اظہار خیال کرنے والوں میں مولانا محمد یاسین ظفر، ڈاکٹر شمس الحق حنیف، ڈاکٹر محمد اقبال خلیل، جناب خالد رحمان، ڈاکٹر عطاء الرحمان اور ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی شامل ہیں۔ میری گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث

ابو عمار زاہد الراشدی
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔ اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے۔ چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ خطہ کو بھارت میں شامل کیے جانے کے اعلان پر عالمی قوتوں، بین الاقوامی اداروں اور حلقوں کے ڈھیلے ڈھالے ردعمل کو دیکھ کر اسرائیلی وزیراعظم کو بھی حوصلہ ہوا ہے اور انہوں نے یہ مبینہ اعلان کر دیا ہے۔

مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اعتراضات

محمد صدیق شاہ
خورشید احمد ندیم ایک معتدل مزاج اور فکری گہرائی رکھنے والے کالم نگار ہیں ۔اُن کی تحریر میں ایک مخصوص ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جسے میں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں۔ ادبی خیال آفرینی سے اپنی تحریر کو مزین کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس وقت اُن کی کتاب "جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسویں صدی کا فہم اسلام" میرے سامنے ہے جس میں اُنہوں نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں مختلف فکری شخصیتوں کے احوال اور واقعات کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ اسی کتاب میں ان کا ایک مضمون "مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید" شامل ہے اور میرے اس آرٹیکل کا مقصد اسی مضمون کا ایک تجزیاتی محاکمہ ہے ۔ اس پورے مضمون کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہے کہ وحید الدین خان صاحب کا تنقیدی اسلوب بہت منفی اور غیر ایجابی ہے اور اُمت کے اکابر واصاغر اُن کی جادہ اعتدال سے ہٹی ہوئی تنقید کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱٠)

محمد عمار خان ناصر
نسخ القرآن بالسنة کے حوالے سے جمہور اصولیین کا موقف: امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ تھا کہ سنت کا وظیفہ چونکہ قرآن مجید کی تبیین ہے اور اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی راہ نمائی میسر تھی، اس لیے مراد الٰہی کے فہم میں سنت میں وارد توضیحات نہ صرف حتمی اور فیصلہ کن ہیں، بلکہ قرآن اور سنت کی دلالت میں کسی ظاہری تفاوت کی صور ت میں انھیں قرآن کی تبیین ہی تصور کرنا ضروری ہے، یعنی انھیں اصل حکم میں تغییر یا اس کا نسخ نہیں مانا جائے گا، بلکہ قرآن کی ظاہری دلالت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا ضروری ہوگا جو احادیث میں بیان کی گئی تفصیل وتوضیح سے ہم آہنگ ہو۔ حنفی اصولیین نے اس پر یہ تنقید کی کہ اس نقطہ نظر میں قرآن کے ظاہراً واضح اور غیر محتمل احکام میں اور محتمل وقابل تفصیل احکام میں فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔

امام طحاوی کا مقدمہ احکام القرآن

امام ابو جعفر الطحاوی /مترجم: محمد رفیق شنواری
شریعت کے احکام کا ماخذ و مصدر قرآن و سنت ہیں۔ عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ قرآنِ کریم احکام کا سب سے اعلی و برتر اور تنہاماخذ ہے۔ پھر اس مفروضے کا تمام مسائل پر یکساں اطلاق کردیاجاتا ہے۔ حالانکہ فقہا اور اصولیین اس بارے میں مختلف رجحانات رکھتے ہیں۔ اور ہر ایک کے یہاں ایک مستقل موقف ، جو فروع اور احکامِ شریعت پر دور رس فقہی و قانونی اثرات مرتب کرتا ہے، پایاجاتاہے۔ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر گذشتہ کئی ماہ سے قارئین کی خدمت میں قرآن و سنت کے درمیان تعلق کے حوالے سے اس مؤقر جریدہ کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر ایک مکمل پروجیکٹ کے تیار کردہ نتائجِ فکر پیش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کئی اقساط آ چکی ہیں،او رمکمل ہونے کے بعد مستقل کتابی صورت میں بھی ان شاء اللہ پیش کی جائیں گی۔ حنفی موقف کی بہترین ترجمانی اصول کی کتابوں کے علاوہ اور مختصر انداز میں امام طحاوی کی ’’احكام القرآن‘‘کے مقدمہ بھی میں کی گئی ہے

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج