Article image..
چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا۔ سرسید احمد خان کو بھی یقین تھا کہ پڑھو گے نہیں تو پیچھے رہ جاؤ گے، ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، تعلیم ترقی دیتی ہے اور دفاع کرتی ہے، تعلیم نہیں تو کچھ بھی نہیں، اگر اب بھی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ چیف جسٹس محترم کے یہ ارشادات ہر باشعور پاکستانی کی طرح ہمارے بھی دل کی آواز ہیں اور ہم ان سے حرف بہ حرف متفق ہیں لیکن یہ باتیں پہلی بار نہیں کہی گئیں۔ آپ ۷۰ برسوں کے دوران عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ بلکہ کسی بھی مقتدر طبقہ کی شخصیات کے ارشادات کو قومی پریس کے ریکارڈ سے جمع کرنے کی زحمت کریں تو ایسے فرمودات بلامبالغہ سینکڑوں کی تعداد میں قوم سن اور پڑھ چکی ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج