Article image..
مولانا مودودی نے سب سے پہلے اپنا نظریہ جہاد ``الجہاد فی الاسلام" [طبع اوّل : دسمبر ١٩٣٠ء]میں پیش کیا تھا۔ جب یہ کتاب قسطوں کی صورت میں ``الجمعیۃ`` میں شائع ہو رہی تھی، اس وقت مولانا کی عمر بائیس سال اور پانچ ماہ تھی۔1 جب دارالمصنفین اعظم گڑھ سے کتاب شائع ہوئی، اس وقت مولانا کی عمر ستائیس سال کی قریب تھی۔ تاہم مولانا کی فکر اس دور ہی سے ایک نامیاتی کل نظر آتی ہے ۔ اس ضمن میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ جس وقت مولانا یہ کتاب لکھ رہے تھے، اس دور کے سیاسی منظر نامے کو ملحوظ رکھا جائے ۔ مسلمان برطانوی استعمار (١٩٤٧ء-١٨٥٨ء) کی ستم رانیوں اور سقوطِ خلافت عثمانیہ (١٩٢٣ء) کے باعث قعر مذلت میں گرفتار ہوگئے تھے، اور اس نے ایک ایسی فضا کو وجود بخشا جس میں مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ن حالات میں ایسی فکری جرات کا اظہار وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی order of being فی الواقع بہت مضبوط اور معتدل ہو۔ تاہم مولانا باقاعدہ حریکِ خلافت(١٩٢٤ء-١٩١٩ء) میں بھی متحرک رہے۔2 اسی دور میں انھوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج