جنسی ہراسانی، صنفی مساوات اور مذہبی اخلاقیات

محمد عمار خان ناصر
’’خواتین کو گڈ مارننگ کے مسیج بھیجنا ہراسمنٹ ہے”، یہ بات ہمارے کلچر میں درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی خاتون سے بلا ضرورت بے تکلف ہونے کی خواہش کا آئینہ دار ہے جس میں مستور جنسی کشش کے پیغام کا خاتون محسوس کر لیتی ہے اور یوں یہ ایک ابتدائی نوعیت کی ’’ہراسمنٹ ” بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے، اس میں تعلق کی نوعیت اور دیگر فوارق کے شامل ہونے سے صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے، لیکن اپنے اصل سیاق وسباق میں یہ شکایت درست ہے۔ البتہ یہ بات جو ہمارے ہاں صرف حقوق نسواں کے پہلو سے کہی جا رہی ہے، مذہبی اخلاقیات میں وہی بات حیا اور طہارت نفس کے پہلو سے کہی جاتی ہے اور خواتین کسی طرز عمل کو ’’ہراسمنٹ ” نہ بھی سمجھیں، لیکن اخلاقی طہارت کے پہلو سے وہ قابل اعتراض ہو تو دینی اخلاقیات اس سے بھی منع کرتی ہے۔ فقہاء اسی پہلو سے سلام کرنے میں نوجوان اور عمر رسیدہ خاتون کا فرق واضح کرتے ہیں۔ جان پہچان اور کسی ضرورت کے بغیر نوجوان خاتون کو سلام کرنا اظہار بے تکلفی کی ایک صورت ہو سکتی ہے جو پسندیدہ نہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۶۱) کلا بمعنی ألا۔ لغت میں کلا کا مشہور مفہوم تو شدید نفی اور زجر وردع کا ہے، اردو میں اس کے لیے ہرگز نہیں اور نہیں نہیں کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ عام طور سے اس سے پہلے ایسی کوئی بات سیاق کلام میں موجود ہوتی ہے جس کی شدت کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں موقع کلام’’ ہرگز نہیں‘‘ کے بجائے کسی دیگر مفہوم کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ سیاق کلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے جس کی نفی کرنے کا محل ہو۔ اس دیگر مفہوم کے بارے میں بعض ائمہ نحو کا خیال ہے کہ حقا یعنی بیشک کا مفہوم ہے، بعض کا خیال ہے کہ ای ونعم یعنی ہاں ہاں کا مفہوم ہے، اور بعض کا خیال ہے کہ ألا یعنی سنو اور آگاہ ہوجاؤ کا مفہوم ہے۔ ابن ہشام نے مغنی اللبیب میں دلائل کے ساتھ اس آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے، ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ مفہوم اکثر جگہ موزوں ہوجاتا ہے۔ (لأنہ اکثر اطرادا)۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی بھی اسی کے قائل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اردو مترجمین قرآن کے یہاں مذکورہ بالا تمام مفہوم ملتے ہیں۔

قومیت بطور مذہب

ڈاکٹر عرفان شہزاد
زیر نظر مضمون کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے آرٹیکل، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن ایک امریکی مورخ تھا۔ ایک وقت میں وہ تصورقومیت کا حامی رہا،پھر اس کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ قومیت کا تعارف: اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق اور عصبیت کا احساس قدیم اور فطری احساس ہے۔ لیکن یہ تصور کہ ایک خاص جغرافیہ میں رہایش پذیر انسانوں کا گروہ ایک قوم ہے، ان پر حقِ حکم رانی ان کے ہم قوم کو ہی حاصل ہےاور یہ ایک مقدس تصور ہے، جس کی خاطر انسانی جان سمیت کوئی بھی قربانی دی اور لی جا سکتی ہے اور دوسروں انسانوں کی جان و مال کو پامال کیا جا سکتا ہے۔

بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی

مولانا محمد یونس قاسمی
ماہ اپریل کے دوسرے عشرے میں امام حرم مکی الشیخ عبداللہ عواد الجہنی نے پاکستان کا دورہ کیا اور صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتوں کے علاوہ پیغام اسلام کانفرنس سمیت بعض دیگر کانفرنسوں سے خطاب کیا اورملک بھر کے مختلف علماء سے ملاقاتیں بھی کی۔ امام حرم نے۱۲ اپریل کو فیصل مسجد اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت کروائی ۔ نماز جمعہ کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام قائد اعظم آڈیٹوریم میں ’’نوجوانان امت اور عصر حاضر کے چیلنجز ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔ امام حرم نے کہا کہ’’ نوجوان کسی بھی معاشرے کی قوت ہوتے ہیں۔ معاشرے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی قدر ومنزلت پہچانیں۔ انہیں دین کے نام پر ورغلایا جاتا ہے۔ نوجوان گمراہ لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ دینی مسائل میں علماء حق سے رہنمائی حاصل کریں۔‘‘ اس تقریب میں امام حرم کے علاوہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کےریکٹر وصدراور سعودی سفیر نے شرکت کی اور موضوع پر خیالات کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

ابو عمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ ملتان میں ۲۱، مارچ ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (جنگ رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے ایک ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کی تعریف کے تعین کے لیے ۷ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل بینچ نے بدھ کے روز ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کی تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ۱۹۹۷ء سے آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کون سا کیس دہشت گردی کے زمرہ میں آتا ہے اور کون سا نہیں آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کی سربراہی میں دہشت گردی کی تعریف کے لیے سات رکنی لارجر بینچ بنایا جا رہا ہے جو کہ دہشت گردی کی تعریف کا تعین کرے گا۔‘‘ یہ خبر بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم صحیح طور پر یہ اندازہ کر سکیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے عالمی اور قومی سطح پر گزشتہ دو عشروں سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اخلاقی اور قانونی اساس کیا ہے؟ اور اس کے جواز کی حیثیت کیا ہے؟

تعلیمی نظام کے حوالے سے چیف جسٹس کے ارشادات

ابو عمار زاہد الراشدی
چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا۔ سرسید احمد خان کو بھی یقین تھا کہ پڑھو گے نہیں تو پیچھے رہ جاؤ گے، ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، تعلیم ترقی دیتی ہے اور دفاع کرتی ہے، تعلیم نہیں تو کچھ بھی نہیں، اگر اب بھی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ چیف جسٹس محترم کے یہ ارشادات ہر باشعور پاکستانی کی طرح ہمارے بھی دل کی آواز ہیں اور ہم ان سے حرف بہ حرف متفق ہیں لیکن یہ باتیں پہلی بار نہیں کہی گئیں۔ آپ ۷۰ برسوں کے دوران عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ بلکہ کسی بھی مقتدر طبقہ کی شخصیات کے ارشادات کو قومی پریس کے ریکارڈ سے جمع کرنے کی زحمت کریں تو ایسے فرمودات بلامبالغہ سینکڑوں کی تعداد میں قوم سن اور پڑھ چکی ہے۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۵)

محمد عمار خان ناصر
حنفی اصولیین کا موقف۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ائمہ احناف کے نظریے پر خود ان کی زبانی کوئی تفصیلی بحث دستیاب ذخیرے میں امام ابوبکر الجصاص کی ’’الفصول فی الاصول‘‘ اور ’’احکام القرآن‘‘ سے پہلے نہیں ملتی۔ ائمہ احناف سے اس موضوع پر حنفی مآخذ میں جو کچھ منقول ہے، ان کی نوعیت متفرق اقوال یا مختصر تبصروں کی ہے جن سے ان کا پورا اصولی تصور اور اس کا استدلال واضح نہیں ہوتا۔ تاہم تاریخی اہمیت کے پہلو سے ان کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابو مقاتل حفص بن سلم السمرقندی نے امام ابو حنیفہ کا یہ قول روایت کیا ہے کہ: فرد کل رجل یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف القرآن لیس ردا علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا تکذیبا لہ، ولکن رد علی من یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالباطل، والتھمۃ دخلت علیہ لیس علی نبی اللہ علیہ السلام (’العالم والمتعلم، ص ۲۵) ’’کسی بھی ایسے راوی کی روایت کو رد کرنا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے خلاف روایت نقل کرتا ہو

مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (١)

مراد علوی
مولانا مودودی نے سب سے پہلے اپنا نظریہ جہاد ''الجہاد فی الاسلام" [طبع اوّل : دسمبر ١٩٣٠ء]میں پیش کیا تھا۔ جب یہ کتاب قسطوں کی صورت میں ''الجمعیۃ'' میں شائع ہو رہی تھی، اس وقت مولانا کی عمر بائیس سال اور پانچ ماہ تھی۔1 جب دارالمصنفین اعظم گڑھ سے کتاب شائع ہوئی، اس وقت مولانا کی عمر ستائیس سال کی قریب تھی۔ تاہم مولانا کی فکر اس دور ہی سے ایک نامیاتی کل نظر آتی ہے ۔ اس ضمن میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ جس وقت مولانا یہ کتاب لکھ رہے تھے، اس دور کے سیاسی منظر نامے کو ملحوظ رکھا جائے ۔ مسلمان برطانوی استعمار (١٩٤٧ء-١٨٥٨ء) کی ستم رانیوں اور سقوطِ خلافت عثمانیہ (١٩٢٣ء) کے باعث قعر مذلت میں گرفتار ہوگئے تھے، اور اس نے ایک ایسی فضا کو وجود بخشا جس میں مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ن حالات میں ایسی فکری جرات کا اظہار وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی order of being فی الواقع بہت مضبوط اور معتدل ہو۔ تاہم مولانا باقاعدہ حریکِ خلافت(١٩٢٤ء-١٩١٩ء) میں بھی متحرک رہے۔2 اسی دور میں انھوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج