مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات

محمد عمار خان ناصر
یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں ۲٠۱٠ء سے ۲٠۱۴ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق یہ قرار دیا ہے کہ آسٹروی عدالتوں نے ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز القاب استعمال کرنے پر جو سزا دی ہے، وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادی اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔ ۲٠٠۹ء میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں طفل پرست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد اخلاقی طور پر کوئی رول ماڈل نہیں ہیں، جیسا کہ مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔ اجتماع میں موجود ایک خفیہ صحافی نے اس کے خلاف ویانا کی علاقائی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس نے متعدد سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ ملزمہ نے محمد پر ایک بے بنیاد الزام عائد کر کے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کوئی قابل احترام شخصیت نہیں ہیں اور یوں وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی
تعجیل اور استعجال میں فرق: وَلَو یُعَجِّلُ اللّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ استِعجَالَہُم بِالخَیرِ لَقُضِیَ الَییہِم اَجَلُہُم ۔[یونس: 11]۔ ’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امین احسن اصلاحی) آیت مذکورہ کے اس ترجمے میں صاحب تدبر نے تعجیل اور استعجال دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا ہے۔ جبکہ قرآن مجید کے دیگر تمام مقامات پر انہوں نے دونوں کے درمیان فرق کا پورا لحاظ کیا ہے۔ قرآنی استعمالات کے مطابق تعجیل کا مطلب کام کو جلدی کرنا اور استعجال کا مطلب ہے کام کی جلدی کرنا، جلدی مچانا، اور کام جلد ہوجانے کی طلب کرنا۔ اس فرق کو سامنے رکھیں تو مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں رہ جاتا ہے۔ اس ترجمے کے غلط ہونے کی ایک اور بڑی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ اس میں استعجالھم میں ھم ضمیر کو فاعل کی ضمیر ماننے کے بجائے مفعول کی ضمیر مانا گیا ہے۔

اے خانہ بر انداز چمن ! کچھ تو ادھر بھی

محمد اظہار الحق
چار دن سے مولوی صاحب نظر نہیں آ رہے تھے۔ ایک اور صاحب نمازیں پڑھا رہے تھے۔ پانچویں دن مؤذن صاحب سے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ مولانا کہاں ہیں؟ کیا چُھٹی پر ہیں؟ مؤذن صاحب نے بتایا کہ اُن کا تبادلہ ایک اور مسجد میں ہو گیا ہے۔ یہاں اُن کی مدت  (Tenure)  پوری ہو چکی تھی! اُس دن جمعہ تھا۔ نئے مولوی صاحب ہی نے خطبہ دیا۔ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا چودہ سال سے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی سے وابستہ ہیں اور کچھ دیگر مساجد میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں! اس وقت ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اور بحریہ، دونوں کی رہائشی آبادیوں میں یہی سسٹم کارفرما ہے۔ کسی مسجد میں چندہ لیا جاتا ہے نہ محلے والوں کی کمیٹی ہے، مولانا جس کے ماتحت ہوں۔ تنخواہ انتظامیہ دیتی ہے۔ معقول رہائش مہیا کی جاتی ہے۔ ڈیفنس ہاوسنگ میں خطیب اور مؤذن کو تین وقت کا تیار پکا پکایا کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے بحریہ میں بھی کھانے کا یہی انتظام ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان دو رہائشی تنظیموں کے علاوہ بھی کچھ سیٹ اپ ایسے ہوں جہاں ایسا ہی یا اس سے ملتا جلتا انتظام چل رہا ہو!

سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ابو عمار زاہد الراشدی
چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں۔ ایک عرصہ سے ایسی رپورٹیں چل رہی تھیں مگر ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ چین کے خلاف پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے اور چین مخالف عناصر یہ خبریں پھیلا رہے ہیں، لیکن اب اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کی کمیٹی کی باقاعدہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دس لاکھ مسلمان حراستی کیمپوں میں ہیں جو اپنے مذہبی اور شہری حقوق سے محروم ہیں اور ان کے ساتھ ریاستی جبر کا معاملہ کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ

ابو عمار زاہد الراشدی
گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر مختصر سی خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے سابق صدر پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ ۹۳ برس کی عمر میں کابل میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس خبر نے ذہن میں ماضی کے بہت سے یادگار مناظر ایک ایک کر کے تازہ کر دیے اور دل سے بے ساختہ مجددی صاحب مرحوم کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا نکلی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ پروفیسر صاحب مرحوم کا تعلق کابل کے معروف روحانی خانوادہ سے تھا اور وہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کی بزرگ شخصیات میں سے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان عوام کے جہاد آزادی میں مجاہدین کے ایک مستقل گروہ کے سربراہ تھے اور جہاد افغانستان کے دوران ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل متحرک رہے۔ میری ان سے ذاتی نیازمندی تھی اور باہمی رابطہ و تعلق بھی رہا۔ وہ ایک بار ہماری دعوت پر گوجرانوالہ تشریف لائے، مرکزی جامع مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور ایک میڈیکل کلینک کا افتتاح کرنے کے علاوہ اپنے اعزاز میں دیے گئے بھرپور استقبالیہ میں جہاد افغانستان کے مقاصد اور مجاہدین کی سرگرمیوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی۔

مولانا سید واضح رشید ندویؒ

محمد عثمان فاروق
۱۶ جنوری بروز بدھ کی صبح مولانا سید واضح رشید ندوی اپنے رفیق اعلی ٰ سے جا ملے۔ مولانا واضح رشید ندوی ۱۹۳۲ میں تکیہ کلاں، رائے بریلی (اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدمحترم سید رشید حسنیؒ درویش منش انسان تھے اور والدہ محترمہ سیدہ امۃ العزیز، خدا ترس خاتون تھیں اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے بیعت تھیں۔ مولانا واضح، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے حقیقی بھانجے تھے۔ آپ کو بچپن سے ہی مولانا علی میاں ندوی کے زیر تربیت رہنے اور کئی علمی ودعوتی سفروں میں رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے دینی تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے حاصل کی اور تقریبا بیس برس کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ گئے جہاں انگریزی زبان وادب میں گریجویشن کیا۔ یوں قدیم دینی روایتی نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید نظام تعلیم کے مزاج، ماحول اور ترجیحات کودیکھنے کا موقع ملا۔

ہم نام و ہم لقب علماء

مفتی شاد محمد شاد
علم الرجال اور تراجم پر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں،جن میں مختلف علاقوں اور زمانوں کی شخصیات اور علماء کا مختصر اور تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں جب کسی شخصیت یا عالم کا تذکرہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو مصنف عموما مکمل نام ذکر کرنے کے بجائے صرف کنیت،نسبت یا لقب لکھنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے،لیکن بسااوقات ایک کنیت،نسبت یا لقب سے ایک سے زیادہ علماء وشخصیات مشہور ہوتی ہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر ایک نام سے بھی کئی شخصیات مشہور ہیں، تو ایسی صورتحال میں اگر مصنف محض کنیت،یا نسبت یا لقب ذکر کرتا ہے تو قاری کو تشویش ہوجاتی ہے کہ اس سے کونسی شخصیت مراد ہے۔ہم نے اس مضمون میں مختلف کتب سے ایسے ہی چند ہم نام وہم لقب علماء وشخصیات کا مختصر تعارف اور ان کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔اگرچہ ان علماء کے علاوہ دیگر بھی کئی شخصیات کے نام اس طرح متشابہ اور ایک جیسے ہوسکتے ہیں،لیکن زیادہ مشہور شخصیات یہی ہیں۔اس مضمون کے لیے زیادہ تر علامہ زرکلی ؒ کی "الاعلام" اور دیگر طبقات کی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۳)

محمد عمار خان ناصر
قرآن اور اخبار آحاد میں تعارض کی بحث: قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اہم ترین سوال جس پر امام شافعی نے داد تحقیق دی ہے، بعض احادیث کے، بظاہر قرآن کے حکم سے متعارض یا اس سے متجاوز ہونے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں عہد صحابہ وتابعین میں جو مختلف زاویہ ہائے نظر پائے جاتے تھے، ان کی وضاحت پچھلی فصل میں کی جا چکی ہے۔ جمہور فقہاءومحدثین ایسی صورت میں قرآن مجید کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دیتے تھے اور ظاہری تعارض کو، کسی قابل اعتماد روایت کو رد کرنے کی درست بنیاد تصور نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی نے بھی اس بحث میں جمہور اہل علم کے موقف کی تائید کی، البتہ امام شافعی سے پہلے اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث کو جس رخ پر آگے بڑھایا۔

قرآنی اُسلوب دعوت کی باز یافت

سید مطیع الرحمن مشہدی
عزیز دوست محترم میاں انعام الرحمٰن کو جب بھی بتا یا کہ میں آج کل فلاں کتاب یا فلاں موضوع کا مطالعہ کر رہاہوں تو ایک بات وہ ہمیشہ دہراتے ہیں کہ جب کتاب یا مذکورہ مضمون کامطالعہ مکمل کرلیں تو اس کے حاصلِ مطالعہ پر ایک ڈیڑھ صفحہ ضرور لکھ دیا کریں کہ اس سے نثر نگار ی شستہ ،رواں اور بہترین ہو گی ۔پھر جب کبھی آپ اس کتاب یا موضوع پر برسوں بعد بھی کوئی تبصرہ یا کوئی تحقیقی کام کر نا چاہیں گے تو بجائے پوری کتاب پڑھنے کے یہ ایک ڈیڑھ صفحہ کفایت کرے گا ۔ آپ کے حاصل مطالعہ سے کئی اور لوگ بھی مستفید ہو ں گے ،کچھ عرصہ بعد اس طرح کے شذرات سے ایک کتاب بھی بن سکتی ہے اور اس کے علاوہ کئی ایک فوائد گنواتے ہیں ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج