Article image..
(۱۶۲) یعظکم بہ کا اسلوب۔ یہ جملہ ملتے جلتے اسلوب اور سیاق کلام میں دو مرتبہ آیا ہے، دونوں مرتبہ اللہ کی نصیحت ہے ، اور نصیحت کے اختتام پر اس جملے کا تذکرہ ہے، ایک جگہ صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے، اور دوسری جگہ ان اللہ نعما یعظکم بہ ہے۔ درج ذیل آیت میں صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے: وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَةِ یَعِظُکُم بِہِ۔(البقرة: 231) ۔ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے مترجمین نے یَعِظُکُم بِہِ کو صفت یا علت مان کر ترجمہ کیا ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَةِ یعنی کتاب اور حکمت کو بنایا ہے۔ “اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی”۔ (محمد جوناگڑھی)۔ “اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو”۔ (فتح محمد جالندھری)۔ مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو صفت بنایا گیا ہے۔ “اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو ”۔(احمد رضا خان)
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج