Article image..
امام ابو جعفر الطحاوی کا زاویہ نظر۔ ائمہ احناف کے رجحانات کو باقاعدہ ایک اصولی منہج کے طور پر متعین قواعد کی صورت میں منضبط کرنے کی کوشش کا آغاز امام محمد بن الحسن کے شاگرد عیسیٰ بن ابان سے شروع ہوتا ہے۔ عیسیٰ بن ابان کی اصولی فکر ابو الحسن کرخی سے ہوتی ہوئی چوتھی صدی میں ابوبکر الجصاص تک پہنچی اور جصاص کے قلم سے ہمیں حنفی اصول فقہ پر پہلی مرتب اور مفصل کتاب ملتی ہے۔ البتہ عیسیٰ بن ابان اور جصاص کے درمیان حنفی روایت میں ایک اور شخصیت جو اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، امام ابو جعفر الطحاوی کی ہے جو ابوبکر الجصاص کے استاذ بھی تھے۔ اصولی مباحث پر امام طحاوی نے کوئی مستقل تصنیف تو سپرد قلم نہیں کی، لیکن ان کی تصانیف یعنی احکام القرآن، شرح معانی الآثار، شرح مشکل الآثار اور مختصر اختلاف العلماءمیں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث سے جڑی ہوئی متعدد مثالوں پر کلام کیا گیا ہے جس سے ان کے اصولی رجحانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ امام طحاوی کے نقطہ نظر کا مطالعہ اس بحث میں اس لحاظ سے اہم ہے کہ اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں شافعی اور حنفی، دونوں روایتوں سے وابستگی کی وجہ سے ان کا اصولی منہج کئی اہم اعتبارات سے حنفی اصولیین کے منہج سے مختلف ہے اور خاص طور پر احادیث وآثار کی تعبیر وتشریح اور ان سے استنباط احکام میں ان کے طرز فکر کے اپنے خاص امتیازات ہیں۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج