Article image..
جاوید احمد غامدی کاموقف: عمار خان ناصر صاحب نے ” جہاد ایک مطالعہ“ میں مولانا کی فکرِ جہاد کے بارے میں اگر چہ لکھا ہے کہ مولانا کی فکرِ جہاد میں ارتقا پایا جاتا ہے،لیکن آگے انھوں نے ” الجہاد فی الاسلام“ اور ” تفہیم القرآن“ کی تعبیرات کو تضاد اور پریشان خیالی سے موسوم کیا ہے۔ مولانا نے ”الجہاد فی الاسلام“ میں ”مصلحانہ جہاد“ کے تصور کو جس اساس کھڑا کیا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو حکومتیں غیر الٰہی بنیادوں پر کھڑی ہیں، ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اس نظریے اور مولانا کی بعد کی تحریروں میں عمار صاحب کو توافق اور یکسوئی نظر نہیں آرہی۔ مولانا کی تحریروں میں قانونی بحث موجود ہے، اس وجہ سے شوکت ِ کفر کو مولانا مودودی کا تخیل قرار دے کر ہدفِ تنقید بنا نا انصاف کے منافی ہے۔ علت القتال کی بحث عموماََتین آرا میں تقسیم کی جاتی ہے: شوکتِ کفر ، کفر، اور محاربہ ۔ موجودہ دور میں بیشتر لوگ مولانا کو مقدم الذکر رائے کا بانی باور کراتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں داراالاسلام کا تصور مسلمانوں کی political theory اورpower theory کے طور پر موجود ہے لیکن اس کا دوسرا اہم پہلو قانونی ہے، جس کے بغیر دارالاسلام کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج