اتمام حجت میں انبیاء کی دعوت کی اہمیت

محمد عمار خان ناصر
علامہ محمد اقبال نے کہیں کسی سوال کے جواب میں کہا ہے کہ وہ خدا کو اس لیے مانتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ خدا موجود ہے۔ ہمارے محترم دوست طالب محسن صاحب نے کافی سال پہلے اس پر ماہنامہ ’’اشراق” لاہور میں شذرہ لکھا تھا کہ اقبال کا یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ قرآن مجید نے وجود باری اور توحید وغیرہ پر آفاق وانفس کے دلائل سے استدلال کیا ہے۔ بظاہر اقبال کی بات منطقی طور پر بھی الٹ لگتی ہے، کیونکہ محمد رسول اللہ پر ایمان بذات خود، خدا پر ایمان کی فرع ہے اور اس کے بعد ہی اس کا مرحلہ آ سکتا ہے۔ شاید اقبال نے یہ بات کسی عقلی استدلال کے طور پر کہی بھی نہیں ہوگی، اور غالبا اس کی نوعیت ایک ذاتی تاثر کے اظہار کی ہے۔ تاہم ہمارے خیال میں اپنے محل میں اور اپنے درست سیاق میں بطور ایک عقلی استدلال کے بھی، اقبال کی بات کمزور نہیں ہے، بلکہ بہت مضبوط بات ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۶۲) یعظکم بہ کا اسلوب۔ یہ جملہ ملتے جلتے اسلوب اور سیاق کلام میں دو مرتبہ آیا ہے، دونوں مرتبہ اللہ کی نصیحت ہے ، اور نصیحت کے اختتام پر اس جملے کا تذکرہ ہے، ایک جگہ صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے، اور دوسری جگہ ان اللہ نعما یعظکم بہ ہے۔ درج ذیل آیت میں صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے: وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَةِ یَعِظُکُم بِہِ۔(البقرة: 231) ۔ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے مترجمین نے یَعِظُکُم بِہِ کو صفت یا علت مان کر ترجمہ کیا ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَةِ یعنی کتاب اور حکمت کو بنایا ہے۔ “اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی”۔ (محمد جوناگڑھی)۔ “اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو”۔ (فتح محمد جالندھری)۔ مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو صفت بنایا گیا ہے۔ “اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو ”۔(احمد رضا خان)

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی
اہل تشیع (خاص طور پر اثنا عشریہ )اسلامی تاریخ کا واحد گروہ ہے ،جنہوں نے اہل سنت کے مقابلے میں جداگانہ، ممتاز اور لاکھوں روایات پر مشتمل اپنا علم حدیث ترتیب دیا ہے ،جو بعض اعتبارات سے اہل سنت کے حدیثی ذخیرے سے بالکل الگ تھلگ ہے ، اہل تشیع نے احادیث ،موضوعات ، کتب کی ابواب بندی ،مضامین ،مفاہیم، اصطلاحات ،رواۃ ،اصول و قواعد سب اپنے ترتیب دیے۔اس مقالے میں اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جائے گا ، اس جائزے کا مقصد فریقین کے حدیثی ذخیرے کے فروق و مشترکات کا تعارف ہے، یہ ایک علمی و تحقیقی سرگرمی ہے ، اس لئے اسے مناظرانہ پس منظر کی بجائے خالص تحقیقی نظر سے دیکھا جائے۔ بحث اول :اصطلاحات و مفاہیم۔ اہل سنت اور اہل تشیع کے علم حدیث کا بنیادی فرق اصطلاحات و مفاہیم کا الگ الگ تصور ہے ، ان علیحدہ مفاہیم کی وجہ سے فریقین کا علم ِحدیث ایک دوسرے سے کلی طور پر مختلف ہوجاتا ہے ، ذیل میں چند اہم اساسی امور کے متعلق فریقین کا نظریہ بیان کیا جاتا ہے ۔

اسلام میں میانہ روی اور اعتدال کی قدریں

ابو عمار زاہد الراشدی
قابل صد احترام صدر مجلس و الامین العام لرابطۃ العالم الاسلامی و عزت مآب علماء کرام، مشائخ عظام و راہنمایانِ ملت اسلامیہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرے لیے یہ سعادت و برکت اور فخر و اعزاز کی بات ہے کہ عالم اسلام کے اس مؤقر و محترم فورم پر امت مسلمہ کے راہنماؤں کے ساتھ گفتگو کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی ملت اسلامیہ کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماعیت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری راہنمائی کا مرکز بھی ہے، اور اس حوالہ سے پوری امت کی امیدوں کا محور ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فورم کو یہ ذمہ داری بطریق احسن ہمیشہ سرانجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ حضرات گرامی قدر! ہماری اس کانفرنس کا عنوان ہے ’’قیم الوسطیۃ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنۃ‘‘۔ اور اس میں ہم اس لیے جمع ہیں کہ امت مسلمہ بلکہ نسل انسانی کو اعتدال و توازن کی ان اقدار و روایات کی طرف توجہ دلائیں جن سے ہمیں رشد و ہدایت کے دو عظیم سرچشموں قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعارف کرایا ہے۔ اور جو رہتی دنیا تک نسل انسانی کے لیے راہنما ہونے کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی نجات و فلاح کا ذریعہ ہیں۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۶)

محمد عمار خان ناصر
امام ابو جعفر الطحاوی کا زاویہ نظر۔ ائمہ احناف کے رجحانات کو باقاعدہ ایک اصولی منہج کے طور پر متعین قواعد کی صورت میں منضبط کرنے کی کوشش کا آغاز امام محمد بن الحسن کے شاگرد عیسیٰ بن ابان سے شروع ہوتا ہے۔ عیسیٰ بن ابان کی اصولی فکر ابو الحسن کرخی سے ہوتی ہوئی چوتھی صدی میں ابوبکر الجصاص تک پہنچی اور جصاص کے قلم سے ہمیں حنفی اصول فقہ پر پہلی مرتب اور مفصل کتاب ملتی ہے۔ البتہ عیسیٰ بن ابان اور جصاص کے درمیان حنفی روایت میں ایک اور شخصیت جو اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، امام ابو جعفر الطحاوی کی ہے جو ابوبکر الجصاص کے استاذ بھی تھے۔ اصولی مباحث پر امام طحاوی نے کوئی مستقل تصنیف تو سپرد قلم نہیں کی، لیکن ان کی تصانیف یعنی احکام القرآن، شرح معانی الآثار، شرح مشکل الآثار اور مختصر اختلاف العلماءمیں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث سے جڑی ہوئی متعدد مثالوں پر کلام کیا گیا ہے جس سے ان کے اصولی رجحانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ امام طحاوی کے نقطہ نظر کا مطالعہ اس بحث میں اس لحاظ سے اہم ہے کہ اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں شافعی اور حنفی، دونوں روایتوں سے وابستگی کی وجہ سے ان کا اصولی منہج کئی اہم اعتبارات سے حنفی اصولیین کے منہج سے مختلف ہے اور خاص طور پر احادیث وآثار کی تعبیر وتشریح اور ان سے استنباط احکام میں ان کے طرز فکر کے اپنے خاص امتیازات ہیں۔

مولانا مودودی کا تصّورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۲)

مراد علوی
جاوید احمد غامدی کاموقف: عمار خان ناصر صاحب نے ” جہاد ایک مطالعہ“ میں مولانا کی فکرِ جہاد کے بارے میں اگر چہ لکھا ہے کہ مولانا کی فکرِ جہاد میں ارتقا پایا جاتا ہے،لیکن آگے انھوں نے ” الجہاد فی الاسلام“ اور ” تفہیم القرآن“ کی تعبیرات کو تضاد اور پریشان خیالی سے موسوم کیا ہے۔ مولانا نے ”الجہاد فی الاسلام“ میں ”مصلحانہ جہاد“ کے تصور کو جس اساس کھڑا کیا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو حکومتیں غیر الٰہی بنیادوں پر کھڑی ہیں، ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اس نظریے اور مولانا کی بعد کی تحریروں میں عمار صاحب کو توافق اور یکسوئی نظر نہیں آرہی۔ مولانا کی تحریروں میں قانونی بحث موجود ہے، اس وجہ سے شوکت ِ کفر کو مولانا مودودی کا تخیل قرار دے کر ہدفِ تنقید بنا نا انصاف کے منافی ہے۔ علت القتال کی بحث عموماََتین آرا میں تقسیم کی جاتی ہے: شوکتِ کفر ، کفر، اور محاربہ ۔ موجودہ دور میں بیشتر لوگ مولانا کو مقدم الذکر رائے کا بانی باور کراتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں داراالاسلام کا تصور مسلمانوں کی political theory اورpower theory کے طور پر موجود ہے لیکن اس کا دوسرا اہم پہلو قانونی ہے، جس کے بغیر دارالاسلام کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے ۔

“مولانا وحید الدین خان: افکار ونظریات” پر ایک تبصرہ

صدیق احمد شاہ
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کا شمار جدید مذہبی سکالرز میں ہوتا ہے۔ ان کی عمرکم ہے، لیکن فکری و علمی کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس علم بھی ہے اور قاری بھی۔ بہت Prolificلکھاری ہیں، لکھتے ہیں تو خوب لکھتے ہیں۔ یہ خود بھی میرے ممد و حین میں سے ہیں اور ان کی کتابیں اور تحقیقی اور فکری مضامین ہمہ وقت میرے مطالعہ میں رہتی ہیں۔ جب بھی کسی موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں تو موضوع کی کھائیوں اور گہرائیوں کو آشکارا کرنے کا فن خوب سر انجام دیتے ہیں۔ میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ چونکہ مولانا وحیدالدین خان کے افکار و نظریات پر ہے تو اس حوالے سے ڈاکٹر زبیر کی کتاب بھی زیرِ مطالعہ رہی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں وحیدالدین خان کے افکار پر لکھی جانے والی کتابوں میں غالبایہ واحد کتاب ہے جس کی زبان علمی ہے اور مواد تحقیقی و فکری۔ ورنہ اب تک وحیدالدین خان کے بارے میں جو تنقیدی کتب منظر عام پر آئی ہیں، جس کی نمائندہ مثال محسن عثمانی ندوی کی "وحیدالدین خان علماءاور دانشوروں کی نظر میں" اور خالد متین کی "وحیدالدین خان: ایک اسلام دشمن شخصیت" جیسی کتابیں ہیں، ان میں آ پ کو جس چیز سے واسطہ پڑے گا، وہ تحقیق کم اور "ادبی گالیاں" زیادہ ہیں۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج