Article image..
امام شافعیؒ کے موقف کی الجھنیں اور اصولی فکر کا ارتقا: امام شافعی کے موقف کی وضاحت میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ ان سے پہلے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جمہور اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث میں ایک نہایت اہم نکتے کا اضافہ کیا کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو قطعی طور پر شامل ہونے کا مفروضہ ہی عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے درست نہیں اور قرآن کا اسلوبِ عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہے، اس لیے کسی حدیث میں، ظاہر قرآن پر کسی اضافے یا کسی تخصیص وتقیید کو قرآن کے معارض سمجھنے کے بجائے اسے شارع کی طرف سے اصل حکم ہی کی تفصیل اور تشریح تصور کرنا ضروری ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج