جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حوالے سے داعش کا استدلال

محمد عمار خان ناصر
دولت اسلامیہ (داعش) کے ترجمان جریدے ’دابق‘ کے ایک حالیہ شمارے میں جنگی قیدیوں کو غلام اور باندی بنانے کے حق میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ جس چیز کا جواز اللہ کی شریعت سے ثابت ہے، اس کو انسان تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس طرز استدلال کے حوالے سے معاصر اہل علم کے ہاں مختلف زاویہ ہائے نگاہ دکھائی دیتے ہیں جن پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا: جدید دور میں جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت سے اتفاق کرنے والے مسلم فقہاءعموماً اس پابندی کا جواز “معاہدے” کے اصول پر ثابت کرتے ہیں۔ اس موقف کی رو سے غلامی اصلاً اخلاقی جواز رکھتی ہے اور چونکہ یہ جواز شریعت سے ثابت ہے، اس لیے ابدی ہے۔ البتہ غلام بنانا چونکہ واجب نہیں، بلکہ مباح ہے اور مباحات میں مصلحت یا دیگر اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، اس لیے موجودہ دور میں بین الاقوامی معاہدے کے تحت اس پابندی کو قبول کرنا بھی شرعی طور پر درست ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(165) جواب امر پر عطف یا مستقل جملہ؟ درج ذیل دونوں آیتوں پر غور کریں، قَاتِلُوہُم یُعَذِّبہُمُ اللَّہُ بِایدِیکُم وَیُخزِھِم وَیَنصُرکُم عَلَیھم وَیَشفِ صُدُورَ قَومٍ مُومِنِینَ۔ وَیُذہِب غَیظَ قُلُوبِہِم وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء وَاللَّہُ عَلِیم حَکِیم۔(التوبة: 14، 15) ۔ قَاتِلُوھُم کے بعد جواب امر ہے، اور اس کے بعد چار جملے ہیں جو جواب امر پر معطوف ہیں، ان کی ہیئت ان کی اعرابی حالت پر واضح دلالت کررہی ہے۔ ان پانچ جملوں کے بعد ایک اور جملہ آتا ہے، وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء ، اس کے ساتھ بھی واو لگا ہوا ہے، لیکن اس کی ہیئت ایسی نہیں ہے کہ اسے جواب امر مانا جائے۔ یہاں یتوب فعل مضارع اصلی ہے۔ جواب امر ہوتا تو یتب ہوتا، مزید برآں اس جملے میں اللہ کے نام کا ذکر ہے ، اس سے پہلے چار جملوں میں ضمیر کا استعمال ہے۔

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی
شیعہ حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین (تحریری سرمایہ ): دوسری طرف قبل از تدوین اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی تحریری شکل و صورت کا مسئلہ بھی (تقریری و تدریسی صورت کی طرح )خفا کے دبیز پردوں میں لپٹا ہے ،یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ تین صدیوں تک ان ہزارہا روایات(صرف کتب اربعہ کی روایات چالیس ہزار سے زائد ہیں) کا مجموعہ کس طرح اور کس شکل میں محفوظ رہا ؟کتب ِاربعہ کے مصنفین نے جمع روایات میں کن ماخذ و مصادر پر اعتماد کیا ؟ اہل سنت میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث مرتب ہوتے ہیں ،تو اہل تشیع کے ہاں تین صدیوں میں کتنے مجموعے مرتب ہوئے ،جنہوں نے بنیادی مصادر کے لیے خام مال کا کردار ادا کیا ؟اس سوال کا اہل تشیع محققین نے دو طرح سے جواب دیا ہے ،جنہیں ہم تقریب ِفہم کے لیے "اجمالی جواب " اور "تفصیلی جواب "کا نام دیں گے ۔

پرامن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

ابو عمار زاہد الراشدی
(جامعہ تہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ کے زیر اہتمام ۲۶ جون ۲٠۱۹ء کو منعقدہ الموتمر العالمی للقدرات الاستجراتیجیۃ لتعالیم الاسلامی فی تحقیق التعایش السلمی کے لیے لکھا گیا۔) بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں سب سے پہلے جامعہ طہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ اور اس کے رئیس فضلیۃ الشیخ الدکتور مصطفی ذوالفقار طلب حفظہ اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ارباب ِ علم و دانش کی اس موقر محفل میں مجھے شرکت کا اعزاز بخشا اور عالم ِ اسلام کے سر کردہ علماء کرام اور دانش وران کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع دیا ۔اللہ تعالی ٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہمارے اس مل بیٹھنے کو انسانی سوسائٹی ، عالمِ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں،آمین یارب العالمین ۔ ہم اس وقت اس عنوان پر غور و خوض اور تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہیں کہ امت مسلمہ کو پر امن معاشرت اور اجتماعی زندگی کے لیے اسلامی تعلیمات کے کن پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے اور کون سی حکمت عملی اور اقدار و روایات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے علمی و فکری حلقوں بالخصوص جامعات کو کیا طریق ِ کار اختیار کرنا چاہیے ۔

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

ابو عمار زاہد الراشدی
پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ (۱) طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا۔ (۲) کسی خاندان کو حکمرانی کا حق دینا اور اقتدار کو اس کا نسل در نسل کا حق تسلیم کر لینا بھی کوئی قابل عمل اور قابل قبول بات نہیں تھی۔ (۳) یہ ملک اسلام کے نام پر اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر اور مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ و فروغ کے نعرے پر وجود میں آیا تھا، اس لیے ملک کے دستوری مستقبل کا تعین کرنے میں اسلامی تعلیمات و ہدایات کی پابندی ضروری تھی۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۷)

محمد عمار خان ناصر
امام شافعیؒ کے موقف کی الجھنیں اور اصولی فکر کا ارتقا: امام شافعی کے موقف کی وضاحت میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ ان سے پہلے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جمہور اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث میں ایک نہایت اہم نکتے کا اضافہ کیا کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو قطعی طور پر شامل ہونے کا مفروضہ ہی عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے درست نہیں اور قرآن کا اسلوبِ عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہے، اس لیے کسی حدیث میں، ظاہر قرآن پر کسی اضافے یا کسی تخصیص وتقیید کو قرآن کے معارض سمجھنے کے بجائے اسے شارع کی طرف سے اصل حکم ہی کی تفصیل اور تشریح تصور کرنا ضروری ہے۔

رشتوں کا معیار انتخاب اور سیرت پاک کی صحیح تصویر

ڈاکٹر محی الدین غازی
رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو؟ اس مسئلہ کی معاشرتی اہمیت ہمیشہ بہت زیادہ رہی ہے، اور اس دور میں تو یہ مسئلہ نہایت سنگین ہوگیا ہے، مادہ پرستی، ظاہر پسندی اور خود ساختہ مثالیت پسندی کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحانات نے پورے معاشرے کو اپنے چنگل میں لے لیا ہے، اس صورت حال میں ہر ايک پریشان ہے، اور ہرشخص ایک بے مقصد دوڑ میں شریک ہونے اور اپنی پوری زندگی کو بھاگتے اور ہانپتے ہوئے گزارنے کے لیے مجبور نظر آتا ہے۔ مادہ پرستی اور ظاہر پسندی کی اس دوڑ میں رشتوں کے رائج الوقت انتخابی معیارات کا اہم رول ہوتا ہے، اور ان معیارات کے حصول کے لیے عام طور سے لوگ خواہی نہ خواہی پریشان اور بدحواس رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ رشتوں کے انتخاب کے تعلق سے وہ اعلی نبوی معیارات لوگوں کے سامنے لائے جائیں جن کو االلہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ كرام کے مثالی معاشرے میں فروغ دیا تھا۔ اور جن کی برکتوں کو اس زمانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۳)

مراد علوی
مولانا مودودی کا نظریۂ جہاد بنیادی طور پر آپ کی سیاسی فکر سے ماخوذ ہے ۔ اس وجہ سے اس پر سیاسی فکر کا گہرا ثر ہے۔ بالخصوص آپ کا تصورِ ''مصلحانہ جنگ'' اسی سے وجود پذیر ہوا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ مولانا کی فکر کا جائزہ تاریخی اعتبار سے لیا جانا چاہیے، یعنی یہ کہ مولانا کی آرا میں میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ زیرِ بحث موضوع میں ہمارے پیشِ نظر سب سے اہم تحریر مولانا کی کتاب''سود'' کا تیسرا ضمیمہ ہے جسے انھوں نے نومبر 1936ء میں لکھا تھا۔ اس میں مولانا نے جہاد کے حوالے سے اپنی قانونی پوزیشن کو واضح کیا ہے، لیکن اس کے بعد لکھی گئی تحریروں میں بعض جگہوں پر وہی موقف پایا جاتا ہے جو ''الجہاد فی الاسلام'' میں مذکور ہے۔ اس وجہ سےاب ہم مولانا کی فکر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : اولا، َ جہاد کی عقلی اور اخلاقی توجیہ، ثانیاَ، قانونی حیثیت۔ تاہم مولانا نے "الجہاد فی اسلام" اور اپنی تحریکی لٹریچر میں اصلاَ جہاد کی اخلاقی تشریح بیان کی ہے۔ 1 اس کے ساتھ ہی ساتھ بعض مقامات پر خالص قانونی تناظر میں بھی تعرض کیا ہے۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج