Article image..
حالات وواقعات ابو عمار زاہد الراشدی افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہیں اور افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے کہا ہے کہ انہیں ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ افغان مسئلہ کے فوجی حل کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو عسکری یلغار کی تھی اس کی ناکامی کا اعتراف خود امریکی جرنیل متعدد بار کر چکے ہیں اور یہ بات پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ فوجی قوت کے ذریعے افغان عوام کو زیر کرنے کا امریکی منصوبہ بھی کارگر نہیں ہو سکا جبکہ اس سے قبل برطانوی استعمار اور سوویت یونین بھی بھرپور عسکری قوت کے استعمال کے باوجود اپنے اپنے دور میں ناکام رہے ہیں۔ اور افغان عوام کی یہ قومی روایت ایک بار پھر تاریخ کے صفحات میں ثبت ہوگئی ہے کہ انہیں قوت کے زور پر زیر کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے والوں کو بہرحال ان کی غیرت و حمیت اور اسلامیت کا اعتراف کرتے ہوئے باوقار گفتگو کے ذریعے ہی باہمی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کئی بار یہ تقاضا کر چکا ہے کہ افغان طالبان مذاکرات کی میز پر آ کر بات کریں اور افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے گفت و شنید کا راستہ اختیار کریں۔ طالبان کو بھی اس سے انکار نہیں ہے، البتہ وہ جائز طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ امریکی اتحاد کو مذاکرات سے قبل افغانستان میں اپنے فوجی مشن کو ختم کرنے کا اعلان کر کے فوجوں کی واپسی کا ٹائم ٹیبل دینا ہوگا، اس کے بغیر مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس جائز اور معقول شرط کو قبول کرنے کے لیے ابھی تک تیار نہیں نظر آتے جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں، اور یہ وجہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ جن مقاصد اور اہداف کے لیے انہوں نے افغانستان پر عسکری یلغار کی تھی وہ ان سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہی مقاصد مذاکرات کی میز پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، چنانچہ مذاکرات کے موجودہ عمل میں ہمارے خیال کے مطابق یہی پہلو کسی مثبت پیشرفت میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ سوویت یونین کی عسکری جارحیت کے خلاف افغان عوام نے علم جہاد بلند کیا اور اپنی قومی خودمختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں آئے تو امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ اپنی محاذ آرائی میں اسے مفید سمجھتے ہوئے افغان مجاہدین کی حمایت کی اور انہیں مکمل سپورٹ کیا جس سے افغان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف جہاد میں کامیابی حاصل کرنے میں خاصی مدد ملی، البتہ وہ اس فریب کو نہ سمجھ سکے یا سمجھتے ہوئے بھی وقتی سہولت کی خاطر ٹریپ ہوگئے کہ افغان جہاد میں امریکی امداد افغانستان کی قومی خودمختاری اور اسلامی تشخص کی بحالی کے لیے نہیں بلکہ سوویت یونین کے بکھر جانے کی صورت میں اس خطہ میں امریکی اجارہ داری کے قیام کے لیے ہے۔ اور یہیں سے جہاد افغانستان کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی، جنیوا معاہدہ اس امریکی حکمت عملی کا شاہکار تھا جس نے افغانستان کو ایک نئی خانہ جنگی اور افراتفری سے دوچار کر دیا، اس دلدل سے افغانستان کو نکالنے کے لیے افغان طالبان سامنے آئے اور قومی خودمختاری اور اسلامی تشخص کی شاہراہ پر پھر سے افغان قوم کو گامزن کر دیا، جو نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بلکہ دنیا کی سبھی استعماری قوتوں کے لیے قابل قبول نہیں تھا کیونکہ عالمی سطح پر استعماری عزائم رکھنے والے تمام ممالک اور اقوام تمام تر باہمی اختلافات و تنازعات کے باوجود اس نکتہ پر پوری طرح متفق ہیں کہ اسلامی شریعت کو دنیا کے کسی خطہ میں ملکی قانون و نظام کے طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ افغان طالبان کی امارت اسلامیہ کا بنیادی ایجنڈا ہی نفاذ شریعت ہے، چنانچہ اس سے ایک نئی کشمکش کا آغاز ہوگیا جو اب تک جاری ہے۔ اس صورتحال میں جبکہ افغانستان پر امریکی اتحاد کی عسکری یلغار اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی اور مذاکرات کی میز بچھائی جا رہی ہے، جنیوا طرز کے ایک اور معاہدے کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان تو کسی درجہ میں قائم ہو جائے مگر افغانستان کی مکمل قومی خودمختاری اور افغان قوم کا اسلامی تشخص بدستور ابہام کا شکار رہے اور ان کے گرد سازشوں کا حصار مسلسل قائم رہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا افغان طالبان کو یہ مشورہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئیں، کیونکہ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ وہ امریکہ کی فوجی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اس کی شرائط کے سامنے سرنڈر ہو جائیں اور جو کامیابی امریکی اتحاد عسکری میدان میں حاصل نہیں کر سکا اسے افغان طالبان خود مذاکرات کی میز پر طشتری میں سجا کر امریکہ بہادر کے حضور پیش کر دیں۔ ہم مذاکرات کے حق میں ہیں اور اسی کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں لیکن شاہ محمود قریشی کا یہ مشورہ ہمارے نزدیک مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ سرنڈر ہونے کا مشورہ ہے جو کسی طرح بھی پاکستان کے شایان شان نہیں ہے اور حکومت پاکستان کو اس پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ اگر ویت نام کی جنگ میں امریکہ وہاں کے آزادی پسندوں (ویت کانگ) سے ہتھیار رکھوانے کی شرط کے بغیر مذاکرات کر سکتا ہے تو افغان طالبان کے ساتھ موجودہ پوزیشن میں مذاکرات میں آخر کیا چیز مانع ہے؟ مولانا سید محمد میاں دیوبندی، عظیم مورخ اور مفکر جمعیۃ علماء ہند کے قیام کو ایک صدی مکمل ہونے پر انڈیا میں صد سالہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور جمعیۃ کے بزرگ اکابر کی یاد میں مختلف سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے سرگرم راہنما، مؤرخ اور مفکر حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار کی مناسبت سے حضرت ی کے ساتھ عقیدت اور چند ملاقاتوں کے تاثرات پر مشتمل کچھ گزارشات قلمبند ہوگئیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔ حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں اس وقت سنا جب میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھا اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے زیر مطالعہ کتابوں اور جرائد پر میری بھی نظر پڑتی رہتی تھی بلکہ وہ خود کسی نہ کسی کتاب کے مطالعہ کا موقع فراہم کر دیتے تھے۔ ان دنوں جمعیۃ علماء ہند کے بارے میں حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کا رسالہ ’’جمعیۃ علماء کیا ہے؟‘‘ نظر سے گزرا، اس سے قبل چودھری افضل حقؒ کی ’’تاریخ احرار‘‘ دیکھ چکا تھا اس لیے تاریخ کا تھوڑا بہت ذوق رکھتا تھا۔ اس کے بعد ’’علماء حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے‘‘ اور ’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور ذہن و فکر کے دائرے متعین ہوتے چلے گئے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات کا ایک نقشہ مولانا سید محمد میاںؒ کے قلم سے ’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘ میں نظر سے گزرا تو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بارے میں وہ باتیں بھی کچھ نہ کچھ سمجھ میں آنے لگیں جو والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خوان سواتیؒ سے عام طور پر سنا کرتا تھا۔ چچا محترم اپنے بیانات، اسباق اور مواعظ میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تذکرہ جس ذوق و محبت سے کرتے تھے اس کے نقوش ذہن میں راسخ ہوتے چلے گئے اور ان بزرگوں تک فکری رسائی کا سب سے بڑا ذریعہ میرے پاس حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی کتابیں اور مضامین ہوتے تھے۔ میں طالب علمی کے دور میں ہی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے وابستہ ہو گیا تھا اور اس کی سرگرمیوں میں کسی نہ کسی سطح پر شریک رہنا میرے معمولات کا حصہ تھا۔ اسی دور میں جامعہ مدنیہ لاہور کے بانی اور حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کے فرزند حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کی خدمت میں حاضری کے مواقع میسر آنے لگے اور ان سے نیازمندی کا تعلق استوار ہوگیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں، بے حد خوشی ہوئی اور ایک روز ان کی ملاقات و زیارت کے لیے جامعہ مدنیہ لاہور حاضر ہوگیا۔ حضرت مولانا سید حامد میاںؒ گھر میں نہیں تھے، ایک سادہ سے بزرگ نے دروازہ کھولا تو میں نے عرض کیا کہ گوجرانوالہ سے حضرت کی زیارت و ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت تو کسی کام کے لیے گئے ہوئے ہیں تھوڑی دیر میں آئیں گے، آپ اندر آئیں اور بیٹھ جائیں۔ میں سمجھا کہ خاندان کے کوئی بزرگ ہیں اور مہمانوں وغیرہ کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میں کمرہ میں بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد وہ بزرگ دستر خوان اور پانی کا لوٹا لیے تشریف لائے اور فرمایا کہ کھانے کا وقت ہے آپ دور سے آئے ہیں کھانا کھا لیں۔ میں بیٹھ گیا، انہوں نے ہاتھ دھلوانے کے لیے لوٹا پکڑا ہوا تھا، میں نے لوٹا ان کے ہاتھ سے لینا چاہا اور عرض کیا کہ آپ بزرگ ہیں، میں ہاتھ خود ہی دھو لوں گا۔ فرمایا کہ نہیں آپ ہمارے مہمان ہیں اس لیے میں ہی ہاتھ دھلواؤں گا۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور کھانا شروع کر دیا، ابھی فارغ ہوا ہی تھا کہ حضرت مولانا سید حامد میاںؒ تشریف لائے، ان سے ملا تو پوچھا کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت سے ملنے آیا ہوں، پوچھا مل لیا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ کان کے قریب منہ لا کر آہستہ سے کہا کہ یہ آپ کے سامنے تو بیٹھے ہیں۔ اللہ اکبر، یہ کیا ہوگیا؟ میں تو شرم کے مارے پانی پانی ہوگیا، اب میرے منہ سے کوئی بات نہیں نکل رہی تھی اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ مجھے دیکھ کر مسکرائے جا رہے تھے۔ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ نے انتہائی شفقت کے ساتھ مجھے تسلی دی اور فرمایا کہ بھائی آپ مہمان ہیں اس لیے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی جس کے نقوش و مناظر ابھی تک ذہن میں تازہ ہیں اور کبھی کبھی ان کا تصور ذہن میں لا کر اپنے ان بزرگوں سے عالم تخیل میں ملاقات کر لیا کرتا ہوں۔ میرے ساتھ ان دنوں گوجرانوالہ کے مولانا قاری محمد یوسف عثمانی جماعتی و تحریکی کاموں میں بہت متحرک ہوا کرتے تھے، اب وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک بار پھر جامعہ مدنیہ حاضری ہوئی اور دونوں حضرات کی زیارت و ملاقات سے شادکام ہوئے، اس موقع پر پتہ چلا کہ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ اپنی پوتی کے نکاح میں شرکت کے لیے آئے ہیں جس کا نکاح ضلع گوجرانوالہ کے ایک بڑے قصبہ قلعہ دیدار سنگھ کے کسی نواحی گاؤں میں ہوا ہے اور نکاح کے دوسرے دن حضرتؒ نے ولیمہ میں شرکت کے لیے اس گاؤں جانا ہے۔ اس زمانہ میں گوجرانوالہ کا بائی پاس روڈ نہیں بنا تھا اور قلعہ دیدار سنگھ جانے کے لیے چوک گھنٹہ گھر کے پاس سے گزر کر جانا ہوتا تھا جس سے چند قدم کے فاصلے پر جامعہ نصرۃ العلوم واقع ہے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ اس بہانے حضرت مولانا سید محمد میاںؒ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی جامعہ نصرۃ العلوم میں تشریف لا سکیں گے، مگر معلوم ہوا کہ عملاً ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے کہ وہ ویزے کے قوانین کے تحت ان کی نقل و حرکت متعین راستوں اور مقامات سے ہی ممکن ہوگی اور ادھر ادھر کسی جگہ وہ نہیں جا سکیں گے۔ یہ بات مجھے اور قاری محمد یوسف عثمانی کو کسی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ جامعہ نصرۃ العلوم کے قریب صرف چند قدم کے فاصلے سے گزریں گے اور ہمارے ہاں تشریف نہیں لائیں گے۔ ہم شش و پنج اور پیچ و تاب کے اسی حال میں تھے کہ اللہ تعالٰی نے ’’کذلک کدنا لیوسف‘‘ کی طرز پر ذہن میں ایک ترکیب ڈال دی اور ہم نے پلان بنا کر حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کو اعتماد میں لے لیا۔ پھر ہوا یوں کہ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کو لاہور سے ولیمہ کے لیے قلعہ دیدار سنگھ لے جانے کے لیے گاڑی کا بندوبست ہم نے کیا جو جامعہ نصرۃ العلوم کے قریب سے گزرتے ہوئے اچانک ’’خراب‘‘ ہوگئی۔ ڈرائیور نے بہت کوشش کی مگر انجن کا نقص معلوم نہ ہو سکا، حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کو کو گاڑی سے باہر لا کر سڑک پر ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا تاکہ جتنی دیر گاڑی چلنے کے قابل نہیں ہوتی، وہ آرام سے بیٹھے رہیں۔ نگرانی کے لیے ساتھ جانے والے پولیس آفیسر سے ہم نے کہا کہ بزرگ مہمان ہیں۔ اس طرح سڑک پر بٹھانا مناسب نہیں ہے، قریب ہی مدرسہ ہے، اگر اجازت ہو تو گاڑی ٹھیک ہونے تک وہاں بٹھا لیا جائے۔ اس نے صورتحال دیکھتے ہوئے اجازت دے دی اور یوں ہم حضرت کو مدرسہ میں لے آئے جہاں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے علاوہ شہر کے بزرگ علماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ، حضرت مولانا احمد سعید ہزارویؒ اور دیگر بہت سے حضرات پہلے سے موجود تھے، ان کے ساتھ تھوڑی دیر نشست رہی اور پھر گاڑی ٹھیک ہوجانے پر حضرتؒ کو آگے روانہ کر دیا گیا۔ حضرت مولانا سید محمد میاںؒ نے ایک مؤرخ کے طور پر برصغیر میں دینی جدوجہد کی تاریخ کو جس ذوق و محنت کے ساتھ مرتب کیا ہے وہ اہل حق پر ان کا بہت بڑا احسان ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کر کے انہوں نے علماء حق کی راہنمائی کا ہمیشہ کے لیے اہتمام کر دیا ہے، وہ تحریک ولی اللہی کے محسنین میں سے ہیں، اللہ تعالٰی ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی کی تصنیف ’’تخلیق عالم‘‘ نحمده تبارك وتعالى ونصلي ونسلم على رسوله الكريم وعلى آلـــــــــــه وأصحـــــــــــــــابه وأتبــــــــــــــاعه أجـــــــــــــــمعين حضرت مولانا عبد اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگوں میں سے تھے جن کی ساری زندگی دینی تعلیم و تدریس میں گزری اور انہوں نے اپنی اگلی نسل کو بھی دینی خدمات کے لیے تیار کیا اور ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ وہ علماء لدھیانہ کے اس عظیم خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو تاریخ میں تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار کا ایک مستقل عنوان رکھتا ہے۔ انہوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے تعلیم حاصل کی اور علمی وروحانی فیض سے بہرہ ور ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے گوجرانوالہ میں آگئے اور اپنے علمی و تحریکی سلسلہ کا تسلسل جاری رکھا۔ مجھے ان کی زیارت اور ان سے استفادہ کا شرف حاصل ہے۔ وہ جمعہ کی نماز مرکزی جامع مسجد میں باقاعدگی سے ادا فرماتے تھے اور خطیب کی گفتگو کو غور سے سن کر بسا اوقات اصلاح بھی فرمایا کرتے تھے۔ متعدد بار مجھے بھی ان کے ذوق سے استفادہ کا موقع ملا۔ ایک بار وہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور اپنی بعض تصنیفات مرحمت فرمائیں۔ اس موقع پر انہوں نے مجھے اس سند حدیث کی بھی زیارت کرائی جو حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے دست مبارک سے لکھ کر انہیں روایت حدیث کی اجازت کے طور پر مرحمت فرمائی تھی۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہوتا تھا کہ وہ دنیا کے سیاسی اور علمی حالات پر نظر رکھتے تھے۔ اہم معلومات کو محفوظ فرماتے تھے اور ان پر تبصرہ بھی کرتے تھے۔ ان کے فرزند گرامی حضرت مولانا عبدالواسع لدھیانویؒ کی زیارت ورفاقت سے میں کچھ عرصہ بہرہ ور رہا، جبکہ ان کے چھوٹے فرزند حضرت علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کے ساتھ تو طویل عرصہ تک جماعتی وتحریکی رفاقت رہی اور ہم بہت سے دینی، سیاسی اور تحریکی معاملات میں ایک دوسرے کے معاون رہے۔ آج وہ گزرے ہوئے دن یاد آتے ہیں تو اردگرد ہجوم کے باوجود تنہائی کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو جنت الفردوس میں عالی مقام سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین اس خاندان کے ساتھ تعلق بحمدللہ تعالیٰ آج بھی قائم ہے۔ مولانا محمد اسامہ اور مولانا محمد اسرائیل میرے دور طالب علمی کے ساتھیوں میں سے ہیں جبکہ اس سے اگلی نسل کے کچھ نوجوان میرے شاگردوں میں بھی شامل ہیں۔ علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کے فرزند پروفیسر میاں انعام الرحمٰن صاحب کے بچپن سے ان سے واقف ہوں۔ ہمارے سامنے جوان اور اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔ تحقیق و مطالعہ اور تفکر و تدبر کا ذوق شروع سے ان میں پایا جاتا ہے اور اس کا وہ اپنے منفرد انداز میں اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے رفقاء میں سے ہیں اور الشریعہ اکادمی کی تشکیل و ترقی میں ان کا اہم کردار ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ کے علمی افادات کے بارے میں ایک عرصہ سے میری خواہش تھی کہ انہیں محفوظ کرنے اور ان کی دوبارہ اشاعت کی کوئی صورت نکل آئے تو اس سے علماء و طلبہ کو بہت فائدہ ہوگا۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب نے اپنے دادا محترم رحمۃ اللہ علیہ کے فیوضات کو پھر سے منظر عام پر لانے کا عزم کیا ہے جو بلاشبہ ان کی سعادت مندی کی بات ہے۔ زیر نظر کتاب میں پہلے بھی پڑھ چکا ہوں اور اب بارِ دیگر اس سے استفادہ کا موقع میاں صاحب کی مہربانی سے ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور اس سلسلۂ خیر کو تکمیل تک پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے مواقع اور توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج