Article image..
سورة الفتح میں ایک بار فتحا مبینا اور دو بار فتحا قریبا آیا ہے، عام طور سے لوگوں نے اس فتح سے صلح حدیبیہ کو مراد لیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تینوں جگہ فتح مکہ مراد ہے۔ فتحا قریبا کا مطلب وہ فتح نہیں ہے جو حاصل ہوگئی ہے، بلکہ وہ فتح ہے جو قریب ہے یعنی جلد ہی حاصل ہوگی۔ رہی صلح حدیبیہ تو وہ فتح نہیں بلکہ فتح مکہ کا پیش خیمہ تھی۔ اس وضاحت کی رو سے آیت نمبر (1)، آیت نمبر (18) اور آیت نمبر (27) تینوں آیتوں میں فتح مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔ واثابھم فتحا قریبا (18)کا ایک ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: “اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح دے دی” (اشرف علی تھانوی) جب کہ دوسرا ترجمہ یہ ہے: “اور ان کو فتح دی جو قریب ہے” (امانت اللہ اصلاحی) دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے ترجمے کے مطابق صلح حدیبیہ ہی فتح ہے جو مل چکی ہے، دوسرے ترجمے کے مطابق فتح کی بشارت صلح حدیبیہ کے موقع پر مل گئی ہے، لیکن فتح جلد ہی ملنے والی ہے۔ یعنی صلح حدیبیہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ہے، اور فتح مکہ اب قریب ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو سب سے زیادہ انتظار فتح مکہ کا تھا، باقی تو سب درمیانی مرحلے تھے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج