مسلم معاشروں پر جدیدیت کے اثرات اور اہل فکر کا رد عمل

محمد عمار خان ناصر
’’جدیدیت‘‘ چند سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری تبدیلیوں کا ایک جامع عنوان ہے جو مغربی تہذیب کے زیر اثر دنیا میں رونما ہوئیں۔ مسلم معاشروں کا جدیدیت سے پہلا اور براہ راست تعارف استعمار کے توسط سے ہوا۔ استعمار نے مسلم معاشروں کے اجتماعی شعور پر جو سب سے پہلا اور سب سے نمایاں تاثر مرتب کیا، وہ سیاسی طاقت اور آزادی سے محرومی کا تھا اور اس صورت حال کا مسلم شعور سے سب بنیادی نفسیاتی اور فکری مطالبہ یہ تھا کہ وہ اقتدار سے محرومی اور حاکمیت کی حالت سے محکومیت کی حالت میں منتقل ہونے کے حوالے سے اپنا رد عمل متعین کرے۔ اقتدار چھینے جانے پر مزاحمت کا جذبہ فطری اور عقلی بھی تھا اور دینی اساسات بھی رکھتا تھا، چنانچہ پورے عالم اسلام میں استعمار کے خلاف مزاحمتی تحریکیں پیدا ہوئیں ، مقدور بھر وسائل کے ساتھ استعمار کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن جیسا کہ معلوم ہے، ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی
سورة الفتح میں ایک بار فتحا مبینا اور دو بار فتحا قریبا آیا ہے، عام طور سے لوگوں نے اس فتح سے صلح حدیبیہ کو مراد لیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تینوں جگہ فتح مکہ مراد ہے۔ فتحا قریبا کا مطلب وہ فتح نہیں ہے جو حاصل ہوگئی ہے، بلکہ وہ فتح ہے جو قریب ہے یعنی جلد ہی حاصل ہوگی۔ رہی صلح حدیبیہ تو وہ فتح نہیں بلکہ فتح مکہ کا پیش خیمہ تھی۔ اس وضاحت کی رو سے آیت نمبر (1)، آیت نمبر (18) اور آیت نمبر (27) تینوں آیتوں میں فتح مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔ واثابھم فتحا قریبا (18)کا ایک ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: “اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح دے دی” (اشرف علی تھانوی) جب کہ دوسرا ترجمہ یہ ہے: “اور ان کو فتح دی جو قریب ہے” (امانت اللہ اصلاحی) دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے ترجمے کے مطابق صلح حدیبیہ ہی فتح ہے جو مل چکی ہے، دوسرے ترجمے کے مطابق فتح کی بشارت صلح حدیبیہ کے موقع پر مل گئی ہے، لیکن فتح جلد ہی ملنے والی ہے۔ یعنی صلح حدیبیہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ہے، اور فتح مکہ اب قریب ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو سب سے زیادہ انتظار فتح مکہ کا تھا، باقی تو سب درمیانی مرحلے تھے۔

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی
تعداد ِروایات۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا فرق فریقین کے مجموعات ِحدیث میں مدون روایات کی تعداد کا مسئلہ ہے ، اس فرق سے متنوع سوالات جنم لیتے ہیں ،اولا فریقین کے مصادر ِحدیث میں موجود روایات کا ذکر کیا جاتا ہے ، ثانیا اس فرق سے پیدا شدہ بعض اہم نتائج کو سوالات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے : اہل سنت کے اساسی مصادر کی مرویات۔ اہل سنت کے بنیادی مصادر حدیث صحاح ستہ اور مسند احمد و موطا ہیں ،ان آٹھ کتب کی مجموعی مرویات مکررات سمیت یوں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ان آٹھ کتب کی روایات انہی میں سے دوسری کتب میں بھی مذکور ہیں ،اگر ہم آٹھ کتب کی انفرادی زوائد مرویات کو الگ کر کے دیکھیں ،تو تعداد اسے کہیں کم بنتی ہے ،ذیل میں ان کی انفرادی زوائد روایات کا ذکر کیا جاتا ہے :

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

ابو عمار زاہد الراشدی
گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، اس پر ایک نظر ڈال لیں، اس کے بعد میری معروضات پر غور فرمائیں۔ ’’دینی مدارس کے موجودہ نظام کی بنیاد امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کے ایک مسلسل عمل پر ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد اس جذبہ کے ساتھ ہوا تھا کہ اس معرکۂ حریت کو مکمل طور پر کچل کر فتح کی سرمستی سے دوچار ہوجانے والی فرنگی حکومت سیاسی، ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر جو یلغار کرنے والی ہے اس سے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ اور تہذیب و تعلیم کو بچانے کی کوئی اجتماعی صورت نکالی جائے۔

مرابحہ مؤجلہ: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز اور غیر سودی بینکوں میں رائج طریقہ کار

ڈاکٹر انعام اللہ
ایک اسلامی ریاست کا مالی معاملات کا نظام اور خرید و فروخت کے طریقوں کے بارے میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ارشادات عالیہ اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے واضح تعلیمات امت کو دی ہیں۔ امت کے اعلیٰ ترین دماغوں، جنہیں فقہاء کرام کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، نے انہی تعلیمات نبوی کی بنیاد پر ایک بہترین ذخیرہ تیار کیا، جس سے ہر دور میں افراد امت رہنمائی لے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک کڑی ’’بیع مؤجل‘‘کی وہ صورت ہے جسے اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۸۰ء کے عرصہ میں سود کی لعنت سے چھٹکارے کے متبادل طریقوں میں سے ایک طریقہ کے طورپر ذکر کیا اور ساتھ واضح کیا کہ اس کا تعلق ان متبادل طریقوں سے ہے جو ثانونی درجہ کے ہیں اور انہیں استثنائی حالات میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کی ترقی یافتہ شکل آج جدید غیر سود بینکوں میں رائج ہے جیسے ’’مرابحہ مؤجلہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زیرنظر مقالہ میں کونسل کی تجویز کردہ صورت کی بنیادیں سیرت نبویؐ اور فقہی اقوال سے پیش کرنے کے بعد مرابحہ مؤجلہ سے اس کا ایک تقابل پیش کیا گیا ہے۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۸)

محمد عمار خان ناصر
امام ابن حزم الاندلسی کا زاویۂ نظر۔ ابن حزم کے انداز فکر اور اصولی آرا کے بغور مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے قرآن کے عموم میں سنت کے ذریعے سے تخصیص یا زیادت کی توجیہ کے لیے دلالت کلام کے محتمل ہونے کے نکتے کو ناکافی اور غیرتشفی بخش پا کر استدلال کو دوبارہ کلیتاً اعتقادی مقدمے پر استوار کرنے اور یوں اس الجھن کو دور کرنے کی کوشش کی جو امام شافعی کے طرز استدلال میں پائی جاتی تھی۔ اس حوالے سے ابن حزم کے اصولی نقطۂ نظر کے اہم نکات حسب ذیل ہیں : نصوص میں درجہ بندی کے تصور کی نفی۔ ۱۔ قرآن اور سنت میں بیان کیے جانے والے تمام شرعی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پر مبنی ہیں اور کوئی بھی حکم شرعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے بغیر مقرر نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حکم شرعی کے بیان میں اجتہاد کے مجاز نہیں تھے، بلکہ کوئی سوال درپیش ہونے پر وحی کا ہی انتظار کیا کرتے تھے۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج