Article image..
اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے: ۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰة کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے: خذ من اموالھم صدقۃ (التوبہ ۱٠۳:۹)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی دلالت نہ ہوتی تو ظاہر قرآن سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اموال یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب میں زکوٰة عائد ہوتی ہے۔ (الام ۱/ ۸۵-۸٠، ۳/۷)
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج