نسل پرستانہ دہشت گردی اور مغربی معاشرے

محمد عمار خان ناصر
سفید فام قوموں میں نسل پرستی جڑ سے ختم نہیں ہوئی، اسے زنجیریں پہنائی گئی ہیں۔ مسیحیت کی انسان دوست تعلیمات پر مبنی طویل جدوجہد بھی نازی ازم جیسے فلسفوں کو ابھرنے سے نہیں روک سکیں۔ ہٹلر کوئی ملحد نہیں تھا، کٹڑ نسل پرست ہونے کے ساتھ مسیحی بھی تھا اور دونوں کے امتزاج سے اس نے یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا جواز تیار کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں بھی سامی دشمن رجحان مغرب ہی کی وساطت سے متعارف ہوا ہے، اس پر مطالعات موجود ہیں کہ بیسیویں صدی سے پہلے یہودیوں کو ایک نسل کے طور پر خطرہ سمجھنے کے کوئی قابل ذکر آثار اسلامی دنیا میں نہیں پائے جاتے تھے۔ جدید مغرب میں سے براعظم آسٹریلیا میں سفید نسل پرستی غالبا سب سے مضبوط ہے، لیکن یورپی ممالک اور امریکا میں بھی اس کی قابل لحاظ موجودگی ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی
لفظ استکبر کا اصل استعمال عن کے بغیر ہوتا ہے، اس کے ساتھ عن آنے سے اعراض کے مفہوم کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دو مفہوم جمع ہوجاتے ہیں، ایک تکبر کرنا اور دوسرا اعراض کرنا۔ تکبر کرنے اور اعراض کرنے میں باہمی تعلق یہ ہے کہ تکبر کرنے کی وجہ سے انسان کسی چیز سے اعراض کرتا ہے، یعنی تکبر اعراض کا سبب ہوتا ہے۔ غرض استکبر عن کا مکمل ترجمہ وہ ہے جس میں یہ دونوں مفہوم ادا ہورہے ہوں۔اس کی روشنی میں جب ہم درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ترجمے اس لفظ کا مکمل مفہوم ادا نہیں کررہے ہیں۔ (۱) وَکُنتُم عَن آیَاتِہِ تَستَکبِرُون۔(الانعام: 93)۔ “ اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے” (سید مودودی)۔ “اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے ” (احمد رضا خان)۔ “اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے” (فتح محمد جالندھری)

’’سورۃ البینۃ‘‘ ۔ اصحابِ تشکیک کے لیے نسخہ شفاء

مولانا محمد عبد اللہ شارق
“سورۃ البینہ” کی تفسیری مشکلات۔ متاخرین اہلِ تفسیر میں سے بعض حضرات کو “سورۃ البینہ” کی ابتدائی چند آیات کے ایک “منظم ومربوط معنی” کا تعین کرنے میں کچھ ابہامات اور اشکالات پیدا ہوئے ہیں اور علامہ آلوسی نے امام واحدی سے نقل کیا ہے کہ یہ مقام قرآن کے “اصعب” (نسبتا مشکل) مقامات میں سے ایک ہے ، نیز خود راقم کو بھی اس مقام پر کسی منظم، بے تکلف اوربے ساختہ مفہوم ومراد کا تعین کرنے اور اس کی سبق آموزی کو سمجھنے میں دقت پیش آتی رہی۔امام رازی سے لے کر اردو کے معاصر مفسرین تک بعض حضرات نے گو خود ابہامات کا اظہار کرنے والوں پر حیرت کا اظہار کیا اور لکھا کہ یہاں کوئی ابہام نہیں ہے، لیکن راقم کو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تشفی جس کتاب سے حاصل ہوئی، وہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تفسیر “فتح العزیز” ہے۔

نیشنل جوڈیشل پالیسی پر پنجاب بار کونسل کا رد عمل

چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ
پالیسی کے بارے میں کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد دو فیصلے سامنے آئے ہیں- ایک قتل کیس کا چار دن میں فیصلہ اور دوسرے ۲۲- الف ب کی درخواستوں کی عدالتوں سے پولیس کے شکایت سیل منتقلی- پہلے فیصلے پر پنجاب بار کونسل کا ردِ عمل یہ آیا ہے کہ یہ دستور کے تحت منصفانہ فیئر ٹرائیل کے حق کی نفی ہے اور احتجاج کے طور پر جمعہ ہڑتال منائی جائے گی۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی کی شروعات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فرمائیں- اس پر مفصل تبصرہ ہم حقیر سی کاوش “انصاف کرو گے ؟”میں کر چکے ہیں- بعد کی جاری کردہ پالیسی اقدامات پر بار کونسل کا ردِ عمل اوپر ذکر ہو چکا ہے- مزید کے طور پر کونسل کا جاری کردہ سرکلر درج ذیل ہے: نیشنل جوڈیشل پالیسی 2009کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نئی جوڈیشل پالیسی قانون اور آئین سے متصادم ہے جس کے مطابق قتل کے مقدمہ کا 4دن میں فیصلہ آئین کے آرٹیکل 10-Aاور ضابطہ فوجداری میں خضر حیات کیس (PLD2005-LHR-470) اور یونس عباسی کیس (PLD2016-SC-581) کی موجودگی میں بلاترمیم ان قوانین کے خلاف کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاسکتی اور اسی طرح قانون جانشینی کی موجودگی میں ان کے خلاف کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔

مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام پر مسلم مغربی رویے: جورام کلاورین کے قبولِ اسلام کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج
ہالینڈ کے معروف اسلام مخالف ڈچ سیاست دان جورام جیرون وان کلاورین(Joram Jaron van Klaveren) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس کے قبولِ اسلام پر الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں آ رہی ہیں۔راقم کو کلاورین کے حوالے سے کچھ سٹدی کا موقع ملا تو اس پر کچھ لکھنے کا سوچا۔ اس دوران مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام کے بارے میں مسلم اور مغربی رویوں سے متعلق اپنے مشاہدے اور احساس کو شیئر کرنے کا بھی داعیہ پیدا ہوا۔سو اہلِ علم و تحقیق کی خدمت میں کلاورین کے قبولِ اسلام اور اس کے سابقہ و موجودہ نظریات و افکار سے متعلق کچھ سطور سپرد قلم کیں تو مذکورہ تناظر میں سامنے آنے والے مسلم اور مغربی رویے پر بھی مختصر تبصرہ شامل کر دیا۔ کلورین محض ایک عام سا سیاست دان نہیں، ہالینڈ کی ایک اہم اورنمایاں شخصیت ہے۔اس نے وی یو یونی ورسٹی ایمسٹرڈیم (VU University Amsterdam)کے شعبۂ علوم مذاہب سے تعلیم حاصل کی۔

سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

ابو عمار زاہد الراشدی
سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ بل کے محرک جناب سراج الحق نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ سود بہت بڑی لعنت ہے اور اس نے خاندانوں کے خاندان سودی قرضوں میں جکڑ رکھے ہیں، میں نے کوشش کی ہے کہ نجی قرضوں کے لین دین کی صورت میں سود پر پابندی لگائی جائے، مگر ہمیں اس ملک میں سود کے مکمل خاتمہ کی طرف بڑھنا ہوگا، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔

نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

ابو عمار زاہد الراشدی
فروری کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا، خدا کرے کہ متعلقہ ادارے اس کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد میں بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، آمین یا رب العالمین۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴)

محمد عمار خان ناصر
اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے: ۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰة کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے: خذ من اموالھم صدقۃ (التوبہ ۱٠۳:۹)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی دلالت نہ ہوتی تو ظاہر قرآن سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اموال یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب میں زکوٰة عائد ہوتی ہے۔ (الام ۱/ ۸۵-۸٠، ۳/۷)

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج