Article image..
حالات وواقعات ابو عمار زاہد الراشدی ناموس رسالت کا مسئلہ اور مغرب مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ نیدرلینڈز پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر اور پارٹی فار فریڈم کے سربراہ گرٹ ولڈرز (Geert Wilders) کی طرف سے اس مجوزہ نمائش کی منسوخی کی اطلاع سے یہ وقتی مسئلہ تو ختم ہو گیا ہے جس پر اس کے خلاف احتجاجی مہم میں حصہ لینے والے تمام شخصیات، ادارے، حکومتیں اور جماعتیں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مگر اصل مسئلہ ابھی باقی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دلوانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے جو ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے ماحول میں ہی ہوگی اور اس کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن) کو اساسی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے، انہیں نہیں پتا کہ وہ ہمیں کس قدر تکلیف دیتے ہیں، اور وہ آزادیٔ اظہار کے نام پر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دنیا کو بتانا چاہیے کہ جیسے ہولوکاسٹ سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، گستاخانہ خاکوں سے وہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اس معاشرے میں فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، مغرب میں وہ لوگ جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بہت آسان بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں یہ کوشش کریں گے کہ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن) کو اس پر متفق کریں، اس چیز کا بار بار ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک ہونا ہوگا اور اور اسے اس معاملے میں کوئی پالیسی بنانی چاہیے۔ یہ دنیا کی ناکامی ہے، مغرب میں لوگوں کو اس معاملہ کی حساسیت کا اندازہ نہیں، لہٰذا مسلم دنیا ایک چیز پر اکٹھی ہو اور پھر مغرب کو بتائیں کہ ایسی حرکتوں سے ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ جہاں تک ایمانی جذبات کے اظہار کا تعلق ہے وہ تو بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بڑھ رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ہالینڈ کے بعض ناعاقبت اندیشوں کی اس مذموم حرکت پر ناراضگی اور شدید غصے کی لہر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر ہمارے خیال میں محض جذبات اور غم و غصہ کا اظہار کافی نہیں ہے بلکہ اصل فورم پر یہ جنگ لڑنے کی ضرورت ہے جس کا وزیر اعظم عمران خان نے تذکرہ کیا ہے، جبکہ ہم ایک عرصہ سے مسلسل گزارش کر رہے ہیں کہ (۱) ناموس رسالتؐ (۲) تحفظ ختم نبوت (۳) اور پاکستان کی اسلامی شناخت کے معاملات پر حقیقی معرکہ آرائی بین الاقوامی اداروں اور لابیوں میں ہو رہی ہے مگر وہاں ہمارا یعنی دینی حلقوں کا کوئی مورچہ موجود نہیں ہے۔ سیکولر حلقے اور منکرین ختم نبوت بین الاقوامی معاہدات کے ہتھیاروں کے ساتھ عالمی اداروں اور حلقوں میں دین، اہل دین اور پاکستان کے خلاف محاذ گرم کیے ہوئے ہیں مگر ہم سوشل میڈیا، مساجد اور سڑکوں پر اپنے جذبات کا اظہار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا ہے۔ مجھے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس مہم کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے بلکہ میں خود اپنی استطاعت کے مطابق اس میں شریک رہتا ہوں لیکن بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کا وسیع تر اور مؤثر محاذ ہماری نمائندگی سے خالی ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کی عمومی صورتحال یہ ہے کہ سیکولر حلقوں نے ابھی تک پاکستان کے دستور کو سنجیدگی سے نہیں لیا جبکہ دینی حلقوں کی بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں یہی صورتحال ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی معاہدات اور دستور پاکستان دونوں زندہ حقیقتیں ہیں جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ سیکولر حلقوں کا خیال ہے کہ دستور پاکستان محض ایک نمائشی اور کاغذی دستاویز ہے جسے پس پشت ڈال کر پاکستان میں وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں جبکہ دینی حلقوں کے نزدیک بین الاقوامی معاہدات کی کم و بیش یہی حیثیت ہے۔ دونوں کو اپنے اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ورنہ قوم اسی طرح ذہنی اور فکری خلفشار کا شکار رہے گی اور دونوں طرف کے مہم جو گروہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ ہمارے نزدیک اس کا حل وہی ہے جو وزیراعظم عمران خان نے بتایا ہے بلکہ اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر، جبکہ وہ خود او آئی سی کے صدر تھے، یہ تجویز دے چکے ہیں کہ مسلم امہ کو متحد ہو کر اقوام متحدہ سے دو مسئلوں پر بات کرنا ہوگی۔ ایک یہ کہ بین الاقوامی معاہدات پر مسلم امہ کے دینی و تہذیبی تحفظات کے حوالہ سے نظرثانی کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کے پالیسی ساز ادارہ سلامتی کونسل میں مسلم امہ کی نمائندگی متوازن نہیں ہے اور وہ ویٹو پاور کی فیصلہ کن اتھارٹی کے دائرہ سے باہر ہے۔ مغربی دنیا اور عالم اسلام کے درمیان موجودہ بے اعتمادی بلکہ کشمکش کی بڑی وجہ یہی ہے اس لیے اقوام متحدہ کے ساتھ اجتماعی طور پر دوٹوک بات کرنا ان کے نزدیک ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بھی مشاورت کا اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ مسلم دنیا کے ان مشترکہ مسائل کے حل کے لیے اگر سعودی عرب کے شاہ سلیمان، ترکی کے رجب اردگان، ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر محمد، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ایران کے صدر حسن روحانی باہمی مشاورت کے ساتھ پیشرفت کریں تو وہ یقیناً بے نتیجہ نہیں ہوگی۔ خدا کرے کہ ایسا ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔ مولانا جلال الدین حقانی مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی اور انہیں تربیت و حوصلہ کے ساتھ بہرہ ور کر کے عالم اسلام میں جذبۂ جہاد کی نئی روح پھونک دی۔ ان کا وہ دور ہمیں یاد ہے جب وہ انتہائی بے سروسامانی اور کسمپرسی کے عالم میں سوویت یونین کی مسلح فوجوں کے خلاف نبرد آزما تھے اور سوویت یونین کے مخالفین ابھی صرف تماشہ ہی دیکھ رہے تھے، انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ خدا مست لوگ آخر کس طرح دنیا کی ایک بڑی فوجی قوت کے خلاف اپنی مزاحمت کو جاری رکھ سکیں گے۔ مگر مولوی جلال الدین حقانی، پروفیسر صبغت اللہ مجددی، سید احمد گیلانی، مولوی محمد نبی محمدی ، مولوی محمد یونس خالص، مولوی ارسلان رحمانی، کمانڈر احمد شاہ مسعود، انجینئر حکمت یار رحمہم اللہ تعالٰی اور ان جیسے دیگر باہمت لوگوں نے صبر و استقامت اور ایثار و قربانی کی وہ روایات زندہ کر دیں جن کے تذکرے ہم اسلامی تاریخ کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے۔ سالہا سال تک یہ کیفیت رہی کہ پرانے ہتھیاروں اور خود ساختہ دیسی بموں کے ساتھ وہ روسی فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے، بوتلوں میں خاص قسم کے محلول بھر کر انہیں بموں کے طور پر روسی ٹینکوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا اور گوریلا جنگ میں ان مجاہدین نے افغانستان کے دیہی علاقوں میں روسی افواج کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ شیرانوالہ لاہور میں ہمارے ایک بزرگ مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا مستقل کام یہ تھا کہ اصحابِ خیر کو توجہ دلا کر ان مجاہدین کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات جمع کرتے رہتے اور جب ایک ٹرک کے لگ بھگ سامان جمع ہو جاتا تو خوست کے محاذ پر سپلائی کر دیا کرتے تھے، اسی طرح پاکستان کے بہت سے شہروں کے علماء اور مخیر حضرات مجاہدینِ افغانستان کی امداد کیا کرتے تھے۔ اس دور میں خوست کے محاذ پر جانے والے چند نوجوانوں نے ہمیں بتایا کہ کئی کئی روز تک سادہ روٹی گڑ اور پیاز کے ساتھ کھانے کو ملتی تھی اور فقر و فاقہ کے ماحول میں وہ مصروف جہاد رہتے تھے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں یہ دیکھ کر بہت بعد میں اس طرف متوجہ ہوئیں کہ افغانستان کا ایک بڑا حصہ ان مجاہدین کے مختلف گروپوں کے زیر تسلط آگیا ہے اور روسی فوجوں کی پشت پناہی کے باوجود کابل حکومت کا کنٹرول چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ جب مغربی ملکوں کو ان مجاہدین کی مسلح مزاحمت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوا تو وہ اس میں اپنا حصہ ڈالنے بلکہ ہمارے خیال میں اپنا ’’لچ‘‘ تلنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ پھر اسلحہ، دولت اور وسائل کی ریل پیل ہوگئی اور اسی گہماگہمی میں امریکی کیمپ نے افغان جہاد کو ہائی جیک کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ ہم نے دونوں دور آنکھوں سے دیکھے ہیں، وہ دور بھی جب فقر و فاقہ اور خدا مستی کا ماحول تھا اور وہ دور بھی جب وسائل اور اسباب کی فراوانی تھی، دونوں میں بڑا فرق تھا مگر خدا شاہد ہے کہ جن حضرات نے اس فرق سے ذرہ بھر اثر نہیں لیا اور جن کے خلوص و جذبہ میں دولت و اسباب کی فراوانی کوئی تبدیلی نہ لا سکی ان میں مولانا جلال الدین حقانیؒ سرفہرست تھے۔ جہاد افغانستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب تک اس کا رخ سوویت یونین کی طرف تھا اور یہ لوگ امریکہ بہادر کے عالمی حریف کے خلاف نبرد آزما تھے، وہ مجاہدین کہلاتے تھے، وائٹ ہاؤس ان کا خیرمقدم کرتا تھا اور امریکی کیمپ کے مسلم ممالک بھی ان کی راہوں میں دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھے۔ لیکن جونہی انہوں نے سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان کے دینی تشخص کی بحالی اور نظامِ شریعت کے نفاذ کو اپنی منزل قرار دیا تو وہ دہشت گرد قرار پائے اور ان کا سب سے بڑا جرم یہ بتایا گیا کہ وہ افغانستان کو ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت سے پاک ایک خودمختار ریاست بنانے کی بات کر رہے ہیں، افغانستان کی قومی و تہذیبی روایات کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں اور اپنے ملک میں شریعت کے نظام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ تینوں باتیں آج کی دنیا میں کسی بھی مسلمان ملک کے لیے جرائم کا درجہ رکھتی ہیں، خود ہمارے ہاں پاکستان میں ان تینوں باتوں پر اصرار کرنے والے لوگ دہشت گرد یا کم از کم شدت پسند کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ کا یہ بھی ’’قصور‘‘ تھا کہ انہوں نے جس طرح افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی جارحیت کو افغانستان کی آزادی پر حملہ تصور کر کے اس کے خلاف مزاحمت کی اور روسی کمیونزم کے نفوذ کو افغانستان کے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے منافی قرار دے کر اسے مسترد کر دیا، اسی طرح وہ افغانستان میں امریکی اتحاد کی افواج کی موجودگی اور مغربی فلسفہ و نظام کے تسلط کو بھی افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف سمجھتے تھے، اس لیے وہ سوویت یونین کی فوجوں کی طرح امریکی اتحاد کی فوجوں کے خلاف بھی صف آرا ہو گئے اور اپنے اس موقف پر آخر دم تک قائم رہے۔ انہوں نے امارت اسلامی افغانستان کا ساتھ دیا اور اس کے لیے مسلسل محنت کی، آج ان کی محنت اور جدوجہد کا ثمرہ ہے کہ امریکہ افغان طالبان سے مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کے لیے ہر جتن کر رہا ہے مگر افغان طالبان جن کے پاس خود امریکی حلقوں کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول ہے، مذاکرات کی میز سجانے سے پہلے افغانستان سے امریکہ کے مکمل انخلا کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ افغانستان کی آج کی معروضی صورتحال اور زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ افغانستان کی مکمل خودمختاری، غیر ملکی مداخلت سے نجات اور نفاذ شریعت کی جنگ لڑنے والے اس جنگ کی طوالت سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ جنگیں ان لوگوں کی سرشت میں داخل ہیں، البتہ اس فیصلہ کن مرحلہ میں مولانا جلال الدین حقانیؒ ان سے جدا ہو گئے ہیں جو بلاشبہ بہت بڑا صدمہ ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور افغان قوم کو ان کے مشن اور جذبات کے مطابق مکمل خودمختاری سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس کے ساتھ ایک اور خبر ہمارے خاندان اور متعلقہ دینی حلقوں کے لیے صدمہ کا باعث بنی ہے کہ جمیعۃ علماء برطانیہ کے راہنما اور جامع مسجد برنلی مانچسٹر کے خطیب مولانا عزیز الحق ہزاروی گزشتہ روز راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہماری بڑی ہمشیرہ کے داماد اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور اہل خاندان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات” معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم وفکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات وفرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو اور اشیائے صرف کے معیار کو خراب نہ کرو، کیونکہ یہ بات سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بنتی ہے اور اس پر اس قوم کا یہ طنز بھی قرآن کریم نے ذکر کیا ہے کہ اے شعیب! کیا تمھاری نمازیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے ساتھ تصرف نہ کریں؟ یعنی یہ تصور اس قوم میں بھی موجود تھا کہ چونکہ مال ہمارا ہے، اس لیے ہم اس میں تصرف کے لیے کسی کی اجازت کے محتاج نہیں ہیں۔ چنانچہ ’’فری اکانومی” کا آج کا مروجہ فلسفہ بھی اپنے پس منظر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی یہ بنیاد رکھتا ہے، جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے ہر دور میں اپنی اپنی قوموں کو یہ بتایا ہے کہ مال ودولت اور اسباب معیشت اللہ تعالی ٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں جن میں تصرف اللہ تعالی ٰ کے احکام کے مطابق ہی درست ہوگا اور اس کا اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حساب بھی دینا ہوگا۔ قرآن کریم چونکہ اللہ تعالی ٰ کی نازل کردہ آخری، مکمل اور جامع کتاب ہے، اس لیے اس میں معیشت کے تمام ضروری پہلووں کے حوالے سے ہدایات موجود ہیں۔ حکمت وفلسفہ بھی ہے، اصول وضوابط بھی ہیں اور احکام وقوانین بھی ہیں جن کی بنیاد پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرہ کو تمام ایسی جاہلی روایات واقدار سے پاک کیا جو اللہ تعالی ٰ کے احکام کی خلاف ورزی اور انسانی معاشرہ میں خرابی اور فساد کا باعث تھیں۔ اللہ تعالی ٰ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کم وبیش ربع صدی کی محنت اور جدوجہد کے ساتھ عرب معاشرہ میں جو سماجی انقلاب بپا کیا اور جس کے مثبت ثمرات سے نسل انسانی صدیوں تک فیض یاب ہوتی رہی ہے، اس کا بڑا حصہ معاشی اصلاحات پر مشتمل ہے اور آج بھی منصف مزاج انسانی دانش ان کی ضرورت وافادیت کا اعتراف کرنے پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ چند سال قبل مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کے معاشی نظام کو توازن اور انصاف کے ٹریک پر لانے کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں کو اپنانا ضروری ہو گیا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس جیسے ممالک میں اسلام کے معاشی اصولوں کی انسانی سماج میں واپسی کی ضرورت پر سنجیدہ علمی حلقوں میں بحث وتمحیص کا آغاز ہو چکا ہے اور غیر سودی بینکاری کا رجحان بھی عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصول وقوانین کو آج کے حالات وضروریات کے تناظر میں ازسرنو سامنے لایا جائے کیونکہ اللہ تعالی ٰ کی اس آخری کتاب کے دائرہ کار میں آج کا دور بھی شامل ہے اور اس کے احکام وقوانین کا اطلاق آج بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ چودہ سو برس قبل ہوا تھا اور جیسا کہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔ ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مجاہد الحسینی دامت برکاتہم نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کی معاشی تعلیمات کو آسان اور عام فہم انداز میں زیر نظر کتاب کی صورت مرتب کیا ہے جو علماء کرام، مدرسین، خطباء اور دینی کارکنوں کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ حضرات کےلیے بھی یکساں افادیت کی حامل ہے۔ حضرت مولانا محترم کے بارے میں اس تذکرہ کے بعد اور کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کے ارشد تلامذہ میں سے ہے اور ان کا شمار شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور اس دور کے دیگر اکابر علماء کرام کے رفقاء میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج