Article image..
ہم نے لکھا ہے کہ اندلس میں خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد جو دور شروع ہوا وہ طوائف الملوکی کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں ریاست سات حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ضعف وافتراق اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ اس دور میں اندلس صلیبیوں کا باج گذار بنا ہوا تھا، ڈیڑھ ڈیڑھ انچی ریاستوں کے امراء اہلِ صلیب کو باقاعدہ جزیہ دیتے تھے، پھر اسی پہ بس نہیں، مذکورہ حصوں میں سے دو حصے یکے بعد دیگرے عیسائی ہتھیا کر لے گئے۔ اس وقت جس طرح مسلمان بے سمت، تفرق وتشتت کا شکار اور آپس میں گتھم گتھ تھے، اس کی بناء پر اندیشہ ہوچلا تھا کہ بقایا حصہ پر بھی عیسائی جلد قابض ہوجائیں گے، مگر صلیبیوں کی پھرتیوں کو مزید تقریبا تین سو سال تک کے لیے بریک لگ گئی، جس کے ظاہری اسباب کچھ یوں تھے۔ تفرق، انحطاط اور اہلِ صلیب سے مغلوبیت کے اس زمانہ میں اندلس کے مسلمان اہلِ حل وعقد سر جوڑ کر بیٹھے۔ اس وقت اندلس کے پڑوس میں مراکش کے اندر امیر یوسف بن تاشفین کی حکومت تھی، یہ بغداد کی مرکزی خلافت کا ما تحت اور نہایت بارعب حکم ران تھا۔ اندلس کے علماء اور شرفاء نے قاضی قرطبہ عبد اللہ بن محمد بن ادہم کے ساتھ مل بیٹھ کر اس سے متعلق مشاورت کی اور اس تجویز پر سب کا اتفاق ہوا کہ مراکش کے بوڑھے برگد امیر المسلمین یوسف بن تاشفین کو خط لکھ کر اپنے احوال کی اطلاع کی جائے اور اس سے اپنے لیے سہارا طلب کیا جائے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج