Article image..
(۱۴۱) القول اور کلمۃ فیصلے کے معنی میں۔ قرآن مجید میں القول کا لفظ ایک خاص اسلوب میں استعمال ہوا ہے، اس اسلوب کے لیے القول کے ساتھ تین مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں، جیسے حق علیہ القول، اور وقع علیہ القول، اور سبق علیہ القول۔ القول کی طرح کلمة کا لفظ بھی اسی خاص اسلوب میں استعمال میں ہوتا ہے، جیسے حقت علیہ کلمة، اور سبقت کلمة۔ مترجمین قرآن کے یہاں ایسے مقامات کا ترجمہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو ان کا مفہوم متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے، اور وہ مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کرتے ہیں، بسا اوقات ان ترجموں کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، کہ ان کی مراد کیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ان تمام مقامات پر ایک ہی ترجمہ تجویز کرتے ہیں، اور وہ ہے فیصلہ ہونا۔ اس ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایسے ہر مقام پر بہت اچھی طرح موزوں ہوجاتا ہے، مزید یہ کہ اس ترجمہ سے پوری آیت کا مفہوم اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ ذیل میں مثالوں کے ذریعہ سے یہ بات اور واضح ہوگی:
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج