جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی وقانونی زاویہ نظر

محمد عمار خان ناصر
معاشرتی زندگی کے مختلف دائروں میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جانا دور جدید کا ایک اہم سماجی مسئلہ ہے اور ہمارے ہاں بھی وقتاً‌ فوقتاً‌ یہ بحث موضوع گفتگو بنتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کے کئی پہلو ہیں جن میں سے ہر پہلو مستقل تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس کا تعلق انسان کی جنسی جبلت سے بھی ہے، انفرادی اخلاقیات سے بھی، مرد وزن کے اختلاط کے ضمن میں سماجی روایت سے بھی، جدید معاشی نظم سے بھی اور قانون وریاست کی ذمہ داریوں سے بھی۔ بلوغت کی عمر میں مرد وزن کا جنسی طور پر ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہونا ایک معلوم حقیقت ہے۔ افراد کی سطح پر یہ کشش ضروری نہیں کہ ہمیشہ دو طرفہ ہو۔ بسا اوقات یہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جنس مخالف تک رسائی کے لیے مرد اور عورت باہم مختلف رویوں کا اظہار کرتے ہیں۔ عورت جنسی تعلق میں چونکہ فطرتاً‌ منفعل ہے اور اس کی سماجی تربیت میں بھی یہ شامل ہے کہ وہ جنسی رغبت کا اظہار نہ کرے، اس لیے اس کا اظہار رغبت عموماً‌ بالواسطہ یعنی اشارہ وکنایہ کی زبان میں ہوتا ہے اور اس میں جارحیت شامل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس مرد حیاتیاتی اور معاشرتی، دونوں پہلووں سے غلبے کا مزاج رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف سے جنسی رغبت کا اظہار اقدام اور جارحیت کا انداز لیے ہوتا ہے۔ چنانچہ مرد وزن کے مابین معاشرتی تعامل میں جہاں مرد کسی بھی لحاظ سے اپنی خواہش کو عورت کی مرضی کے خلاف اس پر مسلط کرنے کی طاقت رکھتا ہے، وہاں جنسی ہراسانی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۴۱) القول اور کلمۃ فیصلے کے معنی میں۔ قرآن مجید میں القول کا لفظ ایک خاص اسلوب میں استعمال ہوا ہے، اس اسلوب کے لیے القول کے ساتھ تین مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں، جیسے حق علیہ القول، اور وقع علیہ القول، اور سبق علیہ القول۔ القول کی طرح کلمة کا لفظ بھی اسی خاص اسلوب میں استعمال میں ہوتا ہے، جیسے حقت علیہ کلمة، اور سبقت کلمة۔ مترجمین قرآن کے یہاں ایسے مقامات کا ترجمہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو ان کا مفہوم متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے، اور وہ مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کرتے ہیں، بسا اوقات ان ترجموں کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، کہ ان کی مراد کیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ان تمام مقامات پر ایک ہی ترجمہ تجویز کرتے ہیں، اور وہ ہے فیصلہ ہونا۔ اس ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایسے ہر مقام پر بہت اچھی طرح موزوں ہوجاتا ہے، مزید یہ کہ اس ترجمہ سے پوری آیت کا مفہوم اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ ذیل میں مثالوں کے ذریعہ سے یہ بات اور واضح ہوگی:

جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی
مسلم امت کا دور زوا ل علو م و فنون کا دور جمود ہے ، زوال نے علوم و فنون کے ارتقا ءکا سفر روک دیا ، ماضی کے ذخیرے کی تشریح ،توضیح ،تعلیق ،اختصار اور تلخیص علمی حلقوں کا مشغلہ بن گیا ہے،فقہ اسلامی علوم و فنون میں سب سے زیادہ زوال سے متاثر ہوئی ، خاص طور پر ادارہ خلافت کے ٹوٹنے سے فقہ اسلامی کے وہ شعبے یکسر منجمد ہوگئے ،جن کا تعلق مسلم امت کے اجتماعی امور سے ہے ،ریاستی امور ،عدالتی قضایا ،اقتصادی معاملات ،بین الااقوامی ایشوز اور معاشرتی نظم و نسق سب سے زیادہ جمود کا شکار ہوئے ،اور افتا ءو استفتاء عبادات اور عائلی معاملات میں منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔اس لئے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید اور احیا کی ضرورت سب سے زیادہ ہے ۔اس کے ساتھ رفتار زمانہ کی تیزی اور نت نئی تبدیلیوں کے سیلا ب نے نوازل و حوادث کا پہاڑ کھڑا کیا ،عبادات سے لے کر معاملات تک ،انفرادی امور سے لے کر اجتماعی امور تک نئے مسائل کثیر تعداد میں پیدا ہوئے ہیں ،جن کاحل نکالنا فقہ اسلامی کی روشنی میں وقت کی سب بڑی ضرورت بن گیا ہے۔ان نوازل و حوادث کو اباحیت اور جمود سے بچتے ہوئے تیسیر اور احتیاط کی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے،اس کام کے لئے ایسے نبض شناس فقہا چاہئے ، جو ایک طرف ماضی کے ذخیرے پر مکمل عبور رکھتے ہوں،دوسری طرف حال کی تبدیلیوں اور تقاضوں کا کامل ادراک رکھتے ہوں ۔ ماضی سے انحراف یا حال سے اعراض پر مبنی کوششیں جمود یا اباحیت پر منتج ہو ں گی ۔

حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ / غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰ

ابو عمار زاہد الراشدی
دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں جبکہ گزشتہ روز کی خبروں نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ خاندانِ قاسمی کے چشم و چراغ اور اس عظیم خانوادہ کے ماتھے کا جھومر تھے، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے فرزند و جانشینؒ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ کے پوتے اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پڑپوتے تھے۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے ساتھ میری نیازمندی اپنے شیخ و مرشد حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے وسیلہ سے تھی کہ ان بزرگوں کا باہمی قرب و تعلق مثالی تھا۔ حضرت قاری صاحبؒ جب بھی پاکستان تشریف لاتے تو شیرانوالہ لاہور میں کوئی نہ کوئی مجلس ضرور جمتی اور میرا شمار اس دور میں شیرانوالہ کے حاضر باش شرکاء میں ہوا کرتا تھا، اس لیے متعدد بار ان برکات سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریۂ تخریج ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا عبیداختر رحمانی
حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنے نظریہ تخریج پر الانصاف اورحجۃ اللہ میں تفصیل سے بحث کی ہے ، اپنے موقف کی تائید کیلئے انہوں نے تین دلیلیں پیش کی ہیں،ہم ترتیب وار ان تینوں دلیلوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ (۱) حضرت شاہ صاحب کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اہل کوفہ کو اپنے مشائخ اوراساتذہ سے خصوصی لگاؤ تھااور ان کی پوری توجہات کا مرکز کوفہ کے فقہااورمشائخ تھے اوراس ضمن میں انہوں نے حضرت مسروق اورامام ابوحنیفہ کا واقعہ پیش کیاہے۔ حضرت مسروقؒ نےایک مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرلیاتھاتوان سے علقمہ نے کہاتھاکہ کیاکوئی اہل مدینہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی زیادہ صاحب علم ہے،اس پر مسروق نے کہاکہ ایسی بات نہیں ؛لیکن حضرت زید بن ثابت کو میں نے راسخین فی العلم میں سے پایاہے۔ دوسری مثال یہ ہے کہ جب امام ابوحنیفہ اورامام اوزاعی میں رفع یدین پر مناظرہ ہوا توامام ابوحنیفہ نے فرمایا : اگر حضرت عبداللہ بن عمر کو شرف صحابیت حاصل نہ ہوتی تومیں کہتاکہ علقمہ ابن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں، ان مثالوں سے محض یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کو اپنے مشائخ اورمشائخ کے مشائخ سےدلی لگاؤتھااوران کے اقوال واجتہادات کے ساتھ خصوصی تعلق تھا؛

زوالِ امت میں غزالی کا کردار ۔ تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۲)

محمد عبداللہ شارق
ہم نے لکھا ہے کہ اندلس میں خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد جو دور شروع ہوا وہ طوائف الملوکی کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں ریاست سات حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ضعف وافتراق اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ اس دور میں اندلس صلیبیوں کا باج گذار بنا ہوا تھا، ڈیڑھ ڈیڑھ انچی ریاستوں کے امراء اہلِ صلیب کو باقاعدہ جزیہ دیتے تھے، پھر اسی پہ بس نہیں، مذکورہ حصوں میں سے دو حصے یکے بعد دیگرے عیسائی ہتھیا کر لے گئے۔ اس وقت جس طرح مسلمان بے سمت، تفرق وتشتت کا شکار اور آپس میں گتھم گتھ تھے، اس کی بناء پر اندیشہ ہوچلا تھا کہ بقایا حصہ پر بھی عیسائی جلد قابض ہوجائیں گے، مگر صلیبیوں کی پھرتیوں کو مزید تقریبا تین سو سال تک کے لیے بریک لگ گئی، جس کے ظاہری اسباب کچھ یوں تھے۔ تفرق، انحطاط اور اہلِ صلیب سے مغلوبیت کے اس زمانہ میں اندلس کے مسلمان اہلِ حل وعقد سر جوڑ کر بیٹھے۔ اس وقت اندلس کے پڑوس میں مراکش کے اندر امیر یوسف بن تاشفین کی حکومت تھی، یہ بغداد کی مرکزی خلافت کا ما تحت اور نہایت بارعب حکم ران تھا۔ اندلس کے علماء اور شرفاء نے قاضی قرطبہ عبد اللہ بن محمد بن ادہم کے ساتھ مل بیٹھ کر اس سے متعلق مشاورت کی اور اس تجویز پر سب کا اتفاق ہوا کہ مراکش کے بوڑھے برگد امیر المسلمین یوسف بن تاشفین کو خط لکھ کر اپنے احوال کی اطلاع کی جائے اور اس سے اپنے لیے سہارا طلب کیا جائے۔

مولانا مفتی تقی عثمانی کی “اسلام اینڈ پالیٹکس’’ کی تقریب رونمائی

عظیم الرحمن عثمانی
۱۷۔ اپریل ۲۰۱۸ء کو 'سو ایس یونیورسٹی آف لندن' میں ایک پروقار علمی نشست کا اہتمام ہوا جو اپنی حقیقت میں دو انگریزی کتابوں کی تقریب رونمائی تھی۔ پہلی کتاب اردن کے شہزادے اور پی ایچ ڈی اسکالر پرنس غازی بن محمد کی تصنیف تھی جو تدبر قرآن سے متعلق ہے اور دوسری کتاب "اسلام اینڈ پولیٹکس" (اسلام اور سیاست) محترم مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کردہ تھی جو اسلام کے سیاسی نظام اور اس کے نفاذ کی بات کرتی ہے۔ یہ تقریب بہترین نظم کے ساتھ ایک خوبصورت یونیورسٹی کے کشادہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ سامعین میں غیر مسلم طالب علم بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔ کئی مراحل سے گزر کر مائیک مفتی تقی عثمانی صاحب کی جانب آیا اور انہوں نے بلیغ انداز میں اپنی کتاب کو بیان کیا۔ مفتی صاحب کی گفتگو کا مختصر خلاصہ حسب ذیل ہے: سب سے پہلے انہوں نے بیان کیا کہ آج کس طرح ساری دنیا پر سیکولرزم کا غلبہ ہے۔ انہوں نے سیکولرزم کو تھیوکریسی کا ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھیوکریسی اپنی اصل میں غلط نہیں مگر اس کی عملی شکل جو دنیا کو دکھائی گئی، وہ غلط تھی۔ عیسائیت سمیت دیگر غیر اسلامی مذاہب میں سیاست کے لیے اسلام کی طرح واضح احکامات نہیں موجود ہیں، لہذا ان مذاہب نے خدا کی حکومت یعنی تھیوروکریسی کے نام پر مذہبی رہنماوں کی حکومت قائم کردی جنہوں نے حرام کو حلال بناکر اپنی طاقت قائم رکھنا چاہی۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج