اسلامی شریعت اور حلالہ / ایک سوال نامہ کے مختصر جوابات

محمد عمار خان ناصر
ہمارے معاشرے میں دین وشریعت کے غلط اور مبنی بر جہالت فہم کے جو مختلف مظاہر پائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک، حلالہ کی رسم ہے۔ مروجہ رسم کے مطابق حلالہ کا تصور یہ ہے کہ اگر شوہر، بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اب ان کے اکٹھا رہنے کے جواز کے لیے شرط ہے کہ عورت، عارضی طور پر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، اس سے جسمانی تعلق قائم کرے اور پھر طلاق لے کر پہلے شوہر کے پاس واپس آ جائے۔ یعنی اس میں دو تین چیزیں پہلے سے طے ہیں: ایک یہ کہ یہ دوسرا نکاح وقتی اور عارضی مدت کی نیت سے ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اس کا مقصد ہی پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنا ہے۔ اور تیسرا یہ کہ اس سارے عمل میں عورت کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں، اسے بس ایک بتایا گیا پروسیجر پورا کر کے بہرحال پہلے شوہر کے پاس واپس آنا ہے۔۔۔۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۵) فھم یوزعون کا ترجمہ: یوزعون کا لفظ قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے، یہ فعل مضارع ہے، لفظی لحاظ سے اس کا ماضی وزع بھی ہوسکتا ہے اور أوزع بھی ہوسکتا ہے، گو کہ معنوی پہلو سے وزع ہی درست لگتا ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں، اور لشکر کو قابو میں رکھنے کے بھی ہیں، جبکہ أوزع کے معنی ترغیب وتوفیق دینے کے ہیں ، اہل لغت کے مطابق ایزاع توزیع کے ہم معنی ہوکرتقسیم کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے،بہرحال یہ مفہوم اگر ہو بھی تو استعمال میں رائج نہیں ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تینوں مقامات پر اس لفظ کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں: (۱) وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُودُہُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوزَعُونَ۔(النمل:۱۷) ’’سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے‘‘ (سید مودودی) ’’اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے‘‘(احمد رضا خان) ’’اور سلیمان کے لیے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور قسم وار کیے جاتے تھے‘‘(فتح محمدجالندھری) ۔۔۔۔

درکِ ’’درِ ادراک‘‘

ڈاکٹر محمد اکرم وِرک
مسیحیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے، لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندؤوں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ مسیحیت کی غیر فطری تعلیمات کے ردِ عمل میں پروان چڑھنے والے مغربی فکرو فلسفہ میں یورپ کے ارباب فکر ودانش نے مادہ پرستی کی رو میں بہتے ہوئے نہ صرف روح کے ہر تقاضے کو نظر انداز کر دیا بلکہ روح ہی کا انکار کر دیا اور اس عالم رنگ وبو کو ہی انسانیت کا منتہا قرار دیا ۔ جسم کی تو خوب پرورش کی ،لیکن روح کو کچل کر رکھ دیا۔ نتیجہ کے طور پر وہ انسان تیار ہوا جوان اخلاقی اقدار ہی سے عاری ہے جو اس کا طرۂ امتیاز ہے ۔مغرب کی اخلاقی اقدار کسی روحانی محرک سے محروم ہیں۔اخلاقی قدروں کی ترویج میں بھی مارکیٹنگ کی نفسیات کار فرما ہے ۔"Eathical guide book for call girl"جیسی کتابوں کا سر عام فروخت کے لیے پیش کیا جانامغرب کے اخلاقی بحران اور دیوالیہ پن کا نکتہ کمال ہے۔۔۔۔

دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات ونتائج

مولانا مفتی محمد زاہد
میں سب سے پہلے تومخدوم ومکرم حضرت مولانازاہدالراشدی صاحب، جناب مولاناعمارخان ناصرصاحب، الشریعہ اکادمی کے ذمہ داران اورادارہ اقبال برائے مکالمہ وتحقیق کے ذمہ دارحضرات کاشکرگزارہوں کہ انہوں نے اس محفل میں حاضری کا اور اپنی گزارشات پیش کرنے کاموقع عنایت فرمایا۔ میں انتہائی مختصر وقت میں چند موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کروں گا۔ دینی مدارس میں عصری تعلیم کامقصد کیا ہوتا ہے؟یاکیاہوناچاہیے؟ اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز تویہ ہے کہ اس زمانے میں بچے کی سوشلائیزیشن یعنی بچے کواپنی سوسائٹی کا، اپنے سماج کاحصہ بنانا کہ بچے کواپنے معاشرے کی اقدار، معروف و منکراوررہن سہن کاعلم ہو، یہ مقصود ہوتا ہے۔اس طرح کے کام عموماً بچے کو والدین سکھایاکرتے تھے، لیکن آج کے دورمیں بچے کی سوشلائیزیشن کا عمل بھی تعلیمی اداروں ہی کے ذریعے سے ہوتاہے ۔ دینی مدارس میں ابتدائی عصری تعلیم کاایک مقصد یہ ہوسکتاہے اوردوسری طرف یہ بھی مقصد ہونا چاہیے کہ ہمارے جتنے بھی بچے ہیں اور بڑے ہوکرجس لائن میں بھی وہ جانے والے ہیں، چاہے وہ عالم دین بننے والے ہوں، انجینئر بننے والے ہوں یا ڈاکٹربننے والے ہوں، ان کی جو ابتدائی سوشلائیزیشن ہو رہی ہے، وہ تقریباً یکساں ہو۔۔۔۔

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات / تکفیر کی اتھارٹی، علماء یا حکومت؟

ابو عمار زاہد الراشدی
آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں۔ اس علاقہ میں اسلام مجاہدین کی جنگوں کے ذریعے بھی آیا ہے، صوفیاء کرام کی دعوت و اصلاح کی محنت سے بھی آیا ہے اور تاجروں کی آمد ورفت بھی فروغِ اسلام کا ذریعہ بنی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ایک سوال ان دنوں کم و بیش ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟ اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔

پیغام پاکستان: پس منظر اور پیش منظر

مولانا عبد الغنی محمدی
دہشت گردی کے خلاف علماء کرام نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں ایک متفقہ فتویٰ صادرکیا ہے جس پر 1800 سے زائد علماء کے دستخط ہیں۔اس کتا بچے کو ادارہ تحقیقا ت اسلامی نے شائع کیا ہے۔ اس کا قومی بیانیے کے حوالے سے اجراء صدر پاکستان کی سربراہی میں علماء کرام اور حکومتی نمائندہ شخصیات کی موجود گی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس میں ہوا۔ اس فتویٰ میں دہشت گردی، خونریزی، خود کش حملوں اور ریاست کے خلا ف مسلح جدو جہد کو، خواہ وہ کسی نام یا مقصد سے ہو، حرام قرارد یا گیا ہے اور ان چیزوں سے کیسے نمٹا جائے، اس حوالے سے علماء کرام کی تجاویز ہیں۔ اس فتویٰ کی اہمیت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کو تمام مسالک کے علماء ومفتیان کرام کی ایک بڑی تعداد نے نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے اور پھر ریاست نے اس کو قومی بیانیہ قرار دے دیا ہے۔۔۔۔

تین طلاقوں کا مسئلہ

ڈاکٹر مختار احمد
جناب محترم مفتی شبیراحمد صاحب کی ہدایت پراس ناچیز نے جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کا مضمون "یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ" مطالعہ کیا، لیکن افسوس مجھے شدید مایوسی ہوئی کہ انہوں نے تین طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کی کچھ خودساختہ علتیں بیان کی ہیں۔ان علتوں کو طلاق کے مسئلے سے منسلک کرنے کے لیے انہوں نے قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں دی، بلکہ "عرب معاشرے اور سماج" کی کچھ خصوصیات کو اپنی دانست میں تین طلاقوں کے اکھٹے نفاذ کی علت قرار دے دیا ہے اورپھرخود ہی نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا ہے کہ چونکہ آج ہمارے "معاشرے" میں یہ علتیں موجود نہیں ہیں، اس لیے تین طلاقوں کو تین نہیں بلکہ ایک طلاق قرار دینا چاہیے۔ حالانکہ اگر ان علتوں کوتسلیم کرلیاجائے تو پھر سرے سے طلاق کے تصور ہی کو ختم کرنا پڑے گا۔ کجا ایک ، دو اور تین طلاقوں کی بحث میں انسان الجھے!۔۔۔۔

قرآن کریم میں خدا کے وعدوں کو سمجھنے میں غلطی

محمد ندیم پشاوری
اسلام کے دشمنوں نے مختلف زمانوں میں اسلام کو ناقص بنانے اور اس کے اجزاء میں کتر بیونت پیدا کرنے اور پیوند کاری کی کوششیں کی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں کیونکہ دین کی حفاظت کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیشہ اہل علم پیدا فرمائے جو دین کو اس کی مکمل شکل میں باقی رکھنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے کیونکہ اسلام مکمل اور آخری دین کی صورت میں آیا ہے اور اس کو قیامت تک اسی طرح مکمل طریقہ سے باقی رہنا ہے۔ اس وقت بھی دین کو اس کی مکمل شکل سے ہٹا کر پیش کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً ہوتی نظر آتی ہیں اور بعض اوقات غلط فہمی، کم علمی یا کسی شخصیت کی حاضر جوابی اور عقلی استدلالات سے متاثر ہو کر بعض اہل علم اور اہل قلم حضرات بھی غلط نظریات، افکار اور رجحانات کا شکار ہوجاتے ہیں اور اُن غلط افکار، نظریات و رجحانات کی ترویج کے لیے کبھی کبھار زبان کے ساتھ ساتھ قلم کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ پچھلے مہینے ایسے ہی ایک صاحب قلم محترمی و مکرمی جناب اکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ماہنامہ الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں پڑھنے کا اتفاق ہوا جس پر چندتحفظات پیش کرنا مقصود ہے۔۔۔۔

مدرسہ ڈسکورسز : سفر قطر کے احوال وتاثرات

مولانا محمد رفیق شنواری
امریکہ کی ایک معروف کیتھولک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے پاک و ہند کے دینی مدارس کے فضلاء کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے ایک تین سالہ کورس متعارف کروایا ہے جو پچھلے سال شروع ہوا تھا اور آئندہ سال اختتام پذیر ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی پیدائش ساؤتھ افریقہ میں ہوئی، دارلعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ اس کے بعد لندن میں صحافت سے وابستہ رہے اور اس کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے۔ امام غزالی کے فلسفہ لسانیات پر پی ایچ ڈی کی۔ ان کا پی ایچ ڈی کا کام تو اب تک غیر مطبو ع ہے، لیکن امام غزالی پر ان کی ایک اور کتاب Ghazali and the Poetics of Imagination زیور طبع سے آراستہ ہے جس نے ۲۰۰۵ء میں American Academy of Religion سے مذہبیات کی تاریخ میں بہترین کتاب کا ٹائٹل بھی حاصل کیا ہے۔۔۔۔

’’نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل‘‘

ڈاکٹر عرفان شہزاد
ڈاکٹر محی الدین غازی انڈیا سے تعلق رکھنے والے، دینی علوم کے ماہر اور متوازن فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وحدتِ امت کے ایک متحرک داعی ہیں۔ غازی صاحب کی کتاب "نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل"، ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک چشم کشا کتاب ہے جس سے دین کے اندر علم کا ایک پورا پیرا ڈائم بدل جاتا ہے۔ پیش لفظ میں غازی صاحب لکھتے ہیں: "راقم کے علم کی حد تک اس موضوع پر ایک مکمل کتاب کی صورت میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔" غازی صاحب نے ایک نہایت اہم علمی حقیقت کی طرف رہنمائی کی ہے جو بوجوہ امت کے ذہن سے اوجھل ہو گئی، تاہم اس کا ادراک کسی نہ کسی درجے میں بڑے علمائے محققین کے ہاں مل جاتا ہے۔انھوں نے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دین اس امت کو تواتر عملی کی صورت میں منتقل ہوا ہے، جس میں اہم ترین عمل نماز ہے۔ جو عمل تواتر سے امت کو منتقل ہو ا ہو، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ اور اختلاف کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔ اس کی وضاحت میں غازی صاحب لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری امت نے نماز کا طریقہ سیکھ کر آگے پوری امت کو منتقل کیا، یہ سلسلہ بغیر کسی انقطاع کے مسلسل ہم تک چلا آتا ہے، اس لیے نماز میں کسی اختلاف کا کوئی سوال اٹھنا ہی نہیں چاہیے۔۔۔۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج