Article image..
اب ہم ذیل میں چند وہ مثالیں ذکر کریں گے جن سے واضح ہوگاکہ امام صاحب نے نہ صرف ابراہیم نخعی کے قول کو ترک کیاہے بلکہ فقہاء کوفہ کو چھوڑ کر اس معاملہ مکی اورمدنی فقہ سے اورفقہاء سےا ستفادہ کیاہے محمد قال أخبرنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال في الرجل يجلس خلف الإمام قدر التشهد ثم ينصرف قبل أن يسلم الإمام قال 171لايجزئه187 وقال عطاء بن أبي رباح 171إذاجلسقدرالتشهدأجزأه187 قال أبو حنيفة قولي قول عطاء قال محمد وبقول عطاء نأخذ نحن أيضا کتاب الآثارللامام محمدؒص1475 جوشخص امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھےقعدہ اخیرہ میںاور پھر امام کے سلام پھیرنے سے قبل چلاجائے ایسے شخص کے بارے میں ابراہیم کی رائے یہ ہے کہ اس کی نماز نہیں ہوئی اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ جب وہ امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھ چکاتواس کی نماز ہوجائے گی امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں عطاکاقول میراقول ہے امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم بھی عطاء کے ہی قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج