قومی ریاست اور جہاد: کیا کوئی نیا فکری پیراڈائم ممکن ہے؟

محمد عمار خان ناصر
جدید قومی ریاست کے بارے میں ایک بہت بنیادی احساس جو روایتی مذہبی اذہان میں بہت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ اس تصور کو قبول کرنا درحقیقت جہاد کی تنسیخ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہےجو اسلامی تصور حکومت واقتدار کا ایک جزو لا ینفک ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں مسلمان ریاست کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے، چند ضروری شرائط کے ساتھ، ارد گرد کے علاقوں میں قائم غیر مسلم حکومتوں کے خلاف جنگ کر کے یا تو ان کا خاتمہ کر دے اور ان علاقوں کو مسلمان ریاست کا حصہ بنا لے یا کم سے کم انھیں اپنا تابع اور باج گزار بننے پر مجبور کر دے۔ قومی ریاست کے جدید تصور میں، ظاہر ہے، اس کی گنجائش نہیں، کیونکہ اپنی جغرافیائی حدود میں سیاسی خود مختاری کو ہر قومی ریاست کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور کسی ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی بنیاد پر دوسری ریاست کی جغرافیائی حدود یا انتظام کار میں مداخلت کرے ۔ یوں جہاد اور قومی ریاست میں گویا تباین کی نسبت پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۴۲) انتصر کا ترجمہ۔ انتصر کے لغت میں دو مفہوم ملتے ہیں: ایک انتقام لینا، اور دوسرا ظالم کا مقابلہ کرنا۔ وانتَصَرَ منہ: انتَقَمَ (القاموس المحیط) وانتصر الرجل اذا امتنع من ظالمہ، قال الازھری: یکون الانتصار من الظالم الانتصاف والانتقام، وانتصر منہ: انتقم۔ والانتصار: الانتقام (لسان العرب) وانتَصَرَ منہ: انتقم۔ (الصحاح)۔ جدید لغت المعجم الوسیط میں اس کی اچھی تفصیل ملتی ہے کہ جب یہ فعل من کے ساتھ ہو تو انتقام لینا، علی کے ساتھ ہو تو غلبہ حاصل کرنا اور بغیر صلے کے عام معنی ظالم کا مقابلہ کرنا اور اس کے ظلم کو روکنا ہوتا ہے۔ انتصر: امتنع من ظالمہ وعَلی خَصمہ استظھر وَمِنہ انتقم۔( المعجم الوسیط)۔ انتصر کا قرآن مجید میں تین طرح استعمال ملتاہے: کچھ مقامات پر اہل ایمان کے خاص وصف کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ اس حوالے سے کہ ظلم وتعدی کے سلسلے میں ان کا رویہ کیا ہوتا ہے، ایسے مقام پر بدلہ لینا اور انتقام لینا مناسب نہیں لگتا، کیونکہ بدلہ لینااور انتقام لینا جائز تو ہے لیکن کوئی قابل تعریف وصف نہیں ہے، کہ اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا جائے، بلکہ ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا مناسب مفہوم لگتا ہے، اور یہ واقعی ایک قابل قدر وصف ہے جس سے ظلم کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ مثالیں حسب ذیل ہیں ۔ ۔ ۔

جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی
بحث دوم : فقہ اسلامی اور تشکیل جدید کا متقاضی حصہ ۔ فقہ اسلامی کی تشکیل جدید سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ فقہ اسلامی کے کس حصے کی تشکیل جدید وقت کی ضرورت ہے اور کس قسم کے مسائل تجدید کا تقاضا کرتے ہیں ؟تجدید کے بنیادی خدوخال طے کرنے سے پہلے اگر محل ِتجدید کا تعین نہیں ہوا تو قوی امکان ہے کہ عمل تجدید تحریف یا تغییر میں تبدیل ہوجائے ۔اس نکتے پر بحث سے کرنے سے پہلے فقہ اسلامی کے بنیادی شعبہ جات اور فقہی مسائل کی مختلف انواع کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ فقہ اسلامی اور معاصر قانون کے نامور ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ نے فقہی موضوعات کو درجہ ذیل آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے : ۱۔عبادات ۲۔مناکحات ۳۔معاملات ۴۔فقہ التعامل الاجتماعی (الحظروالاباحہ) ۵۔الاحکام السلطانیہ ۶۔ جنایات ۷۔ادب القاضی ۸۔ فقہ السیر ۔ ۔ ۔

دھتکارے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی داستانِ کرب ۔ ایک اور پاکستان؟

ڈاکٹر دوست محمد خان
شمس الرحمان فاروقی160(۱۹۳۵ء)160ادبی دنیا کا ایک مقتدر نام ہے۔ وہ شاعر، ادیب، نقاد اور سماجی دانشور ہیں۔ الٰہ آباد سے ایم اے انگریزی بھی کیا ہے اور انوکھے انداز میں تنقیدی کلیے وضع کیے ہیں۔ مختلف اعزازات سے انہیں نوازا گیا ہے۔ پاکستان آچکے ہیں اور کراچی کی ایک باوقار ادبی تقریب میں چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب محتاط انداز میں دیا ہے جس کا انہوں نے اپنی تحریر یں ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے انڈین ایکسپریس کی ۵ اپریل کی اشاعت میں ایک بھرپور مضمون لکھا ہے۔ یہ ایک چشم کشا تحریر ہے اور پاکستانی دانشوروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ۔ مضمون ۷۰ سالہ تجربات، مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ ڈاکٹر صاحب روایتی طور پر جمعیۃ علماء ہند سے تعلق کے ناطے کانگریس کے وفادار ہیں۔ اس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فاروقی بچپن ہی سے سیاسی منظر نامہ کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے تقسیم ہند کو بھارتی مسلمانوں کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو ایک روایتی اپروچ ہے۔ لیکن ایک نقاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے مضمون میں جس توازن اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے وہ سامنے نظر آرہا ہے۔ کانگریس اور بھارتی قیادتوں کی تعریف اور توصیف کے پس پردہ وہ اپنے دل کی بات بھی کر گئے ہیں۔ مضمون کا عنوان ایک عالمانہ اور حساس ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ 147تنہائی کا شکار اقلیتوں کی کرب ناک زندگی148 ،اگرچہ یہ ترجمہ انگریزی عنوان کی مؤثر شکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔

قرآن مجید میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہ

حافظ عاکف سعید
فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور وہاں کے سابق وزیر اعظم کے علاوہ تین سوسیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے بعض حصے یہود مخالف تعلیمات پر مشتمل ہیں ، لہٰذا انہیں قرآن سے نکال دینا چاہیے۔یہ اعلامیہ فرانس کے روزنام Le parisienمیں 21اپریل کو شائع ہوا ہے۔فرانس کے سابق صدر اور وزیر اعظم سمیت ان تمام تین سو سیاستدانوں اور دانشوروں کو اس بات کا شاید علم نہیں کہ قرآن انجیل اور تورات کی طرح نہیں کہ جس میں اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا، تحریف کردی۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ اس کا اعلان قرآن مجید میں چودہ سو سال قبل کردیا گیا ہے ۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور اس میں زبر زیر تک کی تحریف اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی کوئی نہیں کرسکا ۔ ۔ ۔

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی
امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ تحریمی کے دائرہ میں داخل کرنا،یا استحبابی اعمال کے ترک کرنے والے پر سخت تنقید کرنا اور بعض مذہبی معاملات جن میں بحث ومباحثہ کی گنجائش ہے اوروہ اجتہاد اور غورووفکر کے متقاضی ہیں، ان میں صرف اپنی رائے کو اقرب الی الصواب سمجھتے ہوئے دوسروں کی رائے کو مکمل طور پر باطل قرار دینا یا اختلاف رائے کی صورت میں مرنے ومارنے پر اتر آنا یا اس کی دھمکیاں دینا وغیرہ مذہبی انتہا پسندی ہے ۔ ۔ ۔

مغربی ممالک کے مسلمانوں کے مسائل اور ذمہ داریاں

ابو عمار زاہد الراشدی
(اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ، اسلام آباد کے زیر اہتمام شائع ہونے والے مجموعہ 147دیار مغرب کے مسلمان: مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل148 کا دیباچہ)۔ برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ءمیں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ءمیں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ 148قادیانی مسئلہ147 تھا۔ ۱۹۸۴ءمیں صدر جنرل محمد ضیاءالحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر واصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں 148اسلام آباد147 کے نام سے نیا مرکز بنا کر اپنی سرگرمیوں کو اسلام کے نام پر ہی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ربوہ (چناب نگر) میں ہوتا تھا اور اس کے مقابلے میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلمانوں کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں ہوا کرتی تھی جس سے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماے کرام خطاب کرتے تھے۔ ۱۹۸۵ءمیں قادیانیوں نے سالانہ جلسہ لندن میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تو بعض علماے کرام کو خیال ہوا کہ اس موقع پر مسلمانوں کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بھی لندن میں ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کانظریہ ٔ تخریج ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۳)

مولانا عبید اختر رحمانی
اب ہم ذیل میں چند وہ مثالیں ذکر کریں گے جن سے واضح ہوگاکہ امام صاحب نے نہ صرف ابراہیم نخعی کے قول کو ترک کیاہے بلکہ فقہاء کوفہ کو چھوڑ کر اس معاملہ مکی اورمدنی فقہ سے اورفقہاء سےا ستفادہ کیاہے محمد قال أخبرنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال في الرجل يجلس خلف الإمام قدر التشهد ثم ينصرف قبل أن يسلم الإمام قال 171لايجزئه187 وقال عطاء بن أبي رباح 171إذاجلسقدرالتشهدأجزأه187 قال أبو حنيفة قولي قول عطاء قال محمد وبقول عطاء نأخذ نحن أيضا کتاب الآثارللامام محمدؒص1475 جوشخص امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھےقعدہ اخیرہ میںاور پھر امام کے سلام پھیرنے سے قبل چلاجائے ایسے شخص کے بارے میں ابراہیم کی رائے یہ ہے کہ اس کی نماز نہیں ہوئی اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ جب وہ امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھ چکاتواس کی نماز ہوجائے گی امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں عطاکاقول میراقول ہے امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم بھی عطاء کے ہی قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

مولانا مفتی محمد عثمان
الشریعہ اکادمی کا قیام آج سے ربع صدی قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب ،مدرسہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب کی نگرانی واہتمام میں عمل میں لایا گیا ۔اس کا بنیادی مقصد دینی حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور اجاگر کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری بیداری کی فضا قائم کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے تعلیم وتدریس،ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے ۔ابتدائی چند سال اکادمی کی سر گرمیاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جاری رہیں ۔بعد میں کھیالی گوجرانوالہ کے ایک بزرگ حاجی یوسف علی قریشی رحمہ اللہ نے ہاشمی کالونی کنگنی والہ میں ایک کنال اراضی الشریعہ اکادمی کے لیے وقف کردی. جہاں مسجد خدیجۃ الکبریؓ اور تعلیمی بلاک کی تعمیر کی گئی ۔تہہ خانہ اور اس کے اوپر ایک منزل تعمیر ہوچکی ہے ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج