Article image..
(۱۴۳) اسلوب متعین کرنے کی ایک غلطی۔ درج ذیل آیت پر غور کریں: وَإِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى (طہ: 7) اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے: ”تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے“ (سید مودودی)۔ ”اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے“ (احمد رضا خان)۔ صاحب تدبر نے یہاں عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا ہے۔ ”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے“ (امین احسن اصلاحی)۔ صاحب تدبر نے یہاں وہ اسلوب مراد لیا ہے جس میں مقابل کو حذف کردیا جاتا ہے، لیکن السر کے ساتھ واخفی یہ بتارہا ہے کہ یہاں وہ اسلوب مراد نہیں ہے، بلکہ وہ اسلوب مراد ہے جس میں کلام میں درجہ درجہ قوت پیدا ہوتی جاتی ہے، کہ علانیہ بات تو کیا وہ تو پوشیدہ اور پھر پوشیدہ تر کو بھی جانتا ہے۔ اس لیے پہلے جملے میں چپکے سے اور دوسرے جملے میں علانیہ محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں دوسری غلطی یہ رہ گئی ہے کہ اخفی کا ترجمہ نہیں ہوسکا ہے، حالانکہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تدبر نے اخفی کا مفہوم بھی ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج