Article image..
Article image..
نوٹ: یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ درسِ نظامی پر ہماری اس گفتگو میں تعلیم اپنے نظری اور عملی پہلوؤں سے زیربحث ہے، اور مذہب پر گفتگو اس سے خارج ہے۔ آغاز ہی میں عرض کرنا چاہوں گا کہ درس نظامی کی عمومی حمایت اور اس کی بنیاد ”فرقہ ورانہ وابستگی“ یا کوئی ”سیاسی وفاداری“ ہے، اور اس کا تعلق کسی تعلیمی یا تہذیبی شعور سے نہیں ہے۔ یہ حمایت خاص تاریخی حالات میں ایک ضروری ردِ عمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔ لیکن ”رد عمل“ کا مسئلہ یہ ہےکہ معترض فکر سے باخبر ہوتا ہے اور نہ اس سے مخاطب، اور مخالف قوت کے مساوی کوئی عمل سامنے نہیں لانے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ”رد عمل“ کا نتیجہ اپنی فکر اور عمل کی بتدریج کمزوری اور بالآخر خاتمہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ ردعمل کا خودآگہی سے خالی ہونا ہے۔ رد کے برعکس، ردِ عمل کو فکری کمک بھی حاصل نہیں ہوتی اس لیے یہ بہت جلد ہانپ کر ختم ہو جاتا ہے، اور متبادل فکر اور عمل کے لیے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ درس نظامی پر گزشتہ دو سو سال میں ہونے والے اعتراضات اور ان سے جنم لینے والے شکوک و شبہات خود ان لوگوں میں مؤثر ہو گئے ہیں جو اس کے حامی یا وارث ہیں۔ اس لیے انہیں خود اب درسِ نظامی کے کسی ”مناسب بندوبست“ کی بہت جلدی ہے، اور اسے تجربات کہا جاتا ہے اور جن کا خام مال بچے ہیں ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج