سیکولرزم یا نظریاتی ریاست:بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر
مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز ”مکالمہ“ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے کی فکری صلاحیت بھی رکھتے ہیں، لیکن حقیقی مکالمہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہلو خط تنصیف کے اس پار پہنچ ہی نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۴۳) اسلوب متعین کرنے کی ایک غلطی۔ درج ذیل آیت پر غور کریں: وَإِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى (طہ: 7) اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے: ”تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے“ (سید مودودی)۔ ”اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے“ (احمد رضا خان)۔ صاحب تدبر نے یہاں عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا ہے۔ ”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے“ (امین احسن اصلاحی)۔ صاحب تدبر نے یہاں وہ اسلوب مراد لیا ہے جس میں مقابل کو حذف کردیا جاتا ہے، لیکن السر کے ساتھ واخفی یہ بتارہا ہے کہ یہاں وہ اسلوب مراد نہیں ہے، بلکہ وہ اسلوب مراد ہے جس میں کلام میں درجہ درجہ قوت پیدا ہوتی جاتی ہے، کہ علانیہ بات تو کیا وہ تو پوشیدہ اور پھر پوشیدہ تر کو بھی جانتا ہے۔ اس لیے پہلے جملے میں چپکے سے اور دوسرے جملے میں علانیہ محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں دوسری غلطی یہ رہ گئی ہے کہ اخفی کا ترجمہ نہیں ہوسکا ہے، حالانکہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تدبر نے اخفی کا مفہوم بھی ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔

نئی زمینوں کی تلاش

عاصم بخشی
(فلسفہ سائنس، سماجیات اور چارلس پرس کے منتخب مقالات کے اردو ترجمہ ’’نئی زمینوںکی تلاش’’ کا پیش لفظ) ۔ مترجم کے تناظر سےترجمہ چاہے ادبی ہو یا تکنیکی دونوں صورتوں میں لازماًقرأتِ متن، تفہیمِ متن اور شرحِ متن کی ایک سہ جہتی سرگرمی ہوتا ہے۔ پہلی جہت ایک زبان کے طرزِ کلام کی دوسری زبان میں منتقلی، دوسری جہت متن کی مخصوص معنوی صورتوں کی مترجم کے پردۂ ذہن پر منتقلی اور تیسری جہت مترجم کی ان صورتوں میں ترجیح و انتخاب سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ تینوں جہتیں ترجمے کے دوران نہ صرف گڈ مڈ ہو جاتی ہیں بلکہ پس منظر میں اتنی مبہم ہو جاتی ہیں کہ عام طور پر مترجم اس قابل نہیں ہوتا کہ ترجمے کی کامیابی یا ناکامی یا دوسرے لفظوں میں افادیت یا غیر افادیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔لہٰذا یہ فیصلہ حتمی طور پر صرف اور صرف قاری ہی کا حق ٹھہرتا ہے ۔ ۔ ۔

ذرائع ابلاغ کی صورت حال پر عدالت عظمیٰ کا ازخود نوٹس / دینی خدمات کا معاوضہ

ابو عمار زاہد الراشدی
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لوکل میڈیا اور کیبل چینلز میں غیر ملکی فلموں اور پروگراموں کی یلغار کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ ان دنوں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ لوکل میڈیا، کیبل انڈسٹریز، سوشل میڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی میڈیا میں مختلف حوالوں سے اس وقت جو دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے اس نے ہر شریف اور محب وطن شہری کو پریشان کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔
گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے: ’’کل قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ مسجد میں ماربل، اے سی، بہترین قالین اور عمدہ جھاڑ فانوس وغیرہ لگائے تھے یا نہیں؟ لیکن اگر اتنی کم تنخواہ دی جس سے روزمرہ کی عام ضروریات زندگی بھی پوری نہ ہو سکیں تو یہ ان کی حق تلفی ہے جس کا حساب یقینا اللہ کے ہاں دینا پڑے گا ۔ ۔ ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریۂ تخریج ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۴)

مولانا عبیداختر رحمانی
مدنی اساتذہ کرام: عبدالرحمن بن ہرمز مدنی : آپ نے حضرت ابوہریرہ اورحضرت ابوسعید خدری اوردیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت کی ہے،آپ کو حافظ ذہبی نے الامام الحافظ ،الحجۃ کے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے۔ (سير أعلام النبلاء،المؤلف: شمس الدين الذهبي (المتوفى : 748هـ) الناشر:مؤسسة الرسالة،5/69) ۔ هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ بنِ الزُّبَيْرِ بنِ العَوَّامِ الأَسَدِيُّ : آپ کو اپنے والد عروہ ،چچا زبیر،عبداللہ بن عثمان اور دیگر کبار تابعین سے روایت کاشرف حاصل ہے،حافظ ذہبی نے آپ کاالامام الثقہ شیخ الاسلام کے باعظمت القاب سے ذکر کیاہے۔ (سير أعلام النبلاء،المؤلف: شمس الدين الذهبي (المتوفى : 748هـ) الناشر:مؤسسة الرسالة،6/34)۔ ابن شہاب الزہری: آپ کی ولادت سنہ ۵۰ ہجری میں ہوئی اور بیس سے کچھ زائد عمر میں علم حاصل کرنا شروع کیا۔ حضرت ابن عمرؓ سے دو حدیثیں روایت کیں۔ ان کے علاوہ سہل بن سعد، انس بن مالک، محمود بن الربیع اور دیگر متعدد صحابہ کرام اور کبار تابعین سے روایت کا آپ کو شرف حاصل ہے، علم حدیث میں آپ کا بڑامقام ومرتبہ ہے،اورتقریباآپ کی جلالت علمی پر محدثین کا اتفاق ہے،حافظ ذہبی نے آپ کو احدالاعلام وحافظ زمانہ سے ملقب کیاہے ۔ ۔ ۔

درس نظامی: چند مباحث

محمد دین جوہر
نوٹ: یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ درسِ نظامی پر ہماری اس گفتگو میں تعلیم اپنے نظری اور عملی پہلوؤں سے زیربحث ہے، اور مذہب پر گفتگو اس سے خارج ہے۔ آغاز ہی میں عرض کرنا چاہوں گا کہ درس نظامی کی عمومی حمایت اور اس کی بنیاد ”فرقہ ورانہ وابستگی“ یا کوئی ”سیاسی وفاداری“ ہے، اور اس کا تعلق کسی تعلیمی یا تہذیبی شعور سے نہیں ہے۔ یہ حمایت خاص تاریخی حالات میں ایک ضروری ردِ عمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔ لیکن ”رد عمل“ کا مسئلہ یہ ہےکہ معترض فکر سے باخبر ہوتا ہے اور نہ اس سے مخاطب، اور مخالف قوت کے مساوی کوئی عمل سامنے نہیں لانے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ”رد عمل“ کا نتیجہ اپنی فکر اور عمل کی بتدریج کمزوری اور بالآخر خاتمہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ ردعمل کا خودآگہی سے خالی ہونا ہے۔ رد کے برعکس، ردِ عمل کو فکری کمک بھی حاصل نہیں ہوتی اس لیے یہ بہت جلد ہانپ کر ختم ہو جاتا ہے، اور متبادل فکر اور عمل کے لیے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ درس نظامی پر گزشتہ دو سو سال میں ہونے والے اعتراضات اور ان سے جنم لینے والے شکوک و شبہات خود ان لوگوں میں مؤثر ہو گئے ہیں جو اس کے حامی یا وارث ہیں۔ اس لیے انہیں خود اب درسِ نظامی کے کسی ”مناسب بندوبست“ کی بہت جلدی ہے، اور اسے تجربات کہا جاتا ہے اور جن کا خام مال بچے ہیں ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج