Article image..
اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لے بھی عام ہیں۔مسلمان اگر پورے جذبہ ایمانی سے اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کریں گے تو یہ وعدے ان کے حق میں بھی اسی طرح پورے ہوں گے جیسے یہ صحابہ کے لیے پورے ہوئے تھے۔ اس استدلال کے بھروسے پر مسلم تاریخ میں بے شمار مسلح اور غیر مسلح سیاسی تحاریک برپا کی گئیں جن کا انجام تاریخ کے صفحات میں رقم ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس استدلال کا تجزیہ زبان و بیان کے معروف اسالیب کی روشنی میں ،تاریخی اور معروضی حقائق کے حوالے کیا گیا ہے۔ یہاں دو نکات قابل غور ہیں: پہلا یہ کہ زبان کا معلوم و معروف اسلوب ہے کہ وعدہ، حکم نہیں ہوتا، یعنی جب کسی سے کوئی وعدہ کیا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ کوئی حکم دیا جا رہا ہے۔ مثلاً میں اپنے بیٹے سے کہوں کہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر اسے کوئی انعام دوں گا تو اس کا مطلب بس یہی ہے کہ اس کی کارکردگی اچھی ہوئی تو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔ اس سے یہ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اس انعام کا حصول میرے بیٹے کے لیے فرض ہو گیا ہے یا میرے لیے اپنا وعدہ ہر حال میں پورا کرنا فرض ہو گیا ہے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے۔ کوئی صحیح الفہم شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج