خواتین کے نکاح میں سرپرست کا اختیار / سرسید کے مذہبی افکار اور علماء

محمد عمار خان ناصر
خواتین کے نکاح کے ضمن میں سرپرست کے اختیار سے متعلق کتب حدیث میں منقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد ارشادات منقول ہیں جو اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس حوالے سے عموماً جن روایات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں خاتون کے نکاح میں سرپرست کی رضامندی کو فیصلہ کن حیثیت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرپرست کے بغیر کیے گئے نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔ (ترمذی، رقم ۱۱۰۱) اسی طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی عورت کا نکاح سرپرست نے نہ کرایا ہو، اس کا نکاح باطل ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی۔ البتہ اگر خاوند نے اس سے ہم بستری کر لی تو اسے اس کا مہر ملے گا۔ (ترمذی، رقم ۱۱۰۲) ۔ ۔ ۔
سرسید احمد خان اور ان کے مذہبی وسیاسی افکار گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے۔ سرسید کے ناقدین نے ان کی مذہبی تعبیرات اور برطانوی اقتدار سے متعلق ان کے جذبات وفاداری کو موضوع بنایا، جبکہ حامیوں نے اس کے جواب میں ’’ملائیت‘‘ کو بے نقط سنائیں۔ اس تناظر میں یہ مختصر وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ سرسید کی مذہبی تعبیرات کو اگرچہ راسخ العقیدہ علماء نے علمی سطح پر رد کیا (بلکہ سچ یہ ہے کہ انھیں سرسید کے علاوہ کسی نے قبول ہی نہیں کیا)، لیکن انھیں ’’ہوا‘‘ نہیں بنایا اور نہ ان کی بنا پر ان کے خلاف مذہبی فتوے بازی کی کوئی مہم ذمہ دار علماء کی طرف سے منظم کی گئی، بلکہ اکابر علماء نے سرسید کی اس کوشش کو ان کے خلوص کی بنا پر ہمدردانہ نظر سے دیکھا اور ان پر کوئی فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ کے سامنے کسی نے سرسید کے مذہبی خیالات پر سخت الفاظ میں تبصرہ کیا تو مولانا نے کہا کہ ’’ان کی ظاہری تقریر کو نہ دیکھو، ان کے قلب کو دیکھو کہ کیسا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک موقع پر انھوں نے چند مولوی صاحبان کو مسجد میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ سرسید روایات صحیحہ کا انکار کرتا ہے، تواتر کا انکار کرتا ہے، کافر ہے وغیرہ وغیرہ تو اپنے حجرے سے نکلے، مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ’’یہ لوگ اس بے چارے کو کافر بناتے ہیں، مگر اس کے قلب کو دیکھ کہ کیسا ہے۔‘‘ (’’کمالات رحمانی‘‘ از شاہ تجمل حسین بہاری، بحوالہ صدق جدید، ۵؍ مئی ۱۹۶۱ء) ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۲۹) نظر المغشی علیہ من الموت کا ترجمہ: مندرجہ ذیل دو قرآنی مقامات کے بعض ترجمے توجہ طلب ہیں: (۱) رَأَیْْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْتِ۔ (محمد: 20) ’’مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ اذا کے ہوتے ہوئے ترجمہ ماضی کا کیا گیا ہے، حالانکہ اذا فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اسے حال یا مستقبل کے مفہوم میں بدل دیتا ہے) ’’سو جس وقت کوئی صاف (مضمون) کی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے تو جن لوگو ں کے دلوں میں بیماری (نفاق) ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو‘‘ (احمد علی) مذکورہ بالا ترجموں میں ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ینظروں الیک نظر المغشي علیہ من الموت کا ترجمہ کیا گیا: ’’آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو‘‘ یہ عبارت کا صحیح اور واضح ترجمہ نہیں ہے، اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ دیکھنے والے کی یہ کیفیت ہے یا جسے وہ دیکھ رہے ہیں اس کی یہ کیفیت ہے، ترجمہ میں یہ بالکل واضح ہونا چاہئے کہ دیکھنے والوں کی یہ کیفیت بتائی جارہی ہے۔ اس پہلو سے مندرجہ ذیل ترجمے زیادہ مناسب ہیں، ان میں عبارت کا حق بھی ادا ہورہا ہے اور وضاحت کا تقاضا بھی پورا ہورہا ہے۔ ’’پھر جب اتری ایک سورۃ جانچی ہوئی، اور ذکر ہوا اس میں لڑائی کا تو تو دیکھتا ہے جن کے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بے ہوش پڑا مرنے کے وقت‘‘(شاہ عبدالقادر، اس ترجمہ میں زیر بحث غلطی تو نہیں ہے لیکن وہ غلطی یہاں بھی موجود ہے جس کا اوپر کے ایک ترجمے میں ذکر کیا گیا ، اور وہ یہ کہ اذا کے ہوتے ہوئے ترجمہ ماضی کا کیا گیا، حالانکہ اذا فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اسے حال یا مستقبل کے مفہوم میں بدل دیتا ہے) ۔ ۔ ۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی
3۔ موسوعات الحدیث بحسب الافراد و الاشخاص: موسوعات کی تیسری قسم ان کتب کی ہے جن میں کسی خاص راوی (خاص طور پر صحابہ)کی مرویات کو جمع کیا گیا ہو، یا کسی خاص حدیث کے جملہ طرق کو اکٹھا کیا گیا ہو ۔یہ موسوعات زیادہ تر ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں تیار ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم کاوش یوسف ازبک کی قابل قدر تصنیف مسند علی بن ابی طالب ہے۔ یہ ضخیم موسوعہ دار المامون دمشق سے سات جلدوں میں چھپا ہے، اس کی تصنیف میں معروف سلفی عالم شیخ علی رضا نے بھی تعاون کیا ہے ۔اس کے علاوہ عبد العزیز بن عبد اللہ الحمیدی نے کتب حدیث میں حضرت ابن عباس کی تفسیری روایات کو تفسیر ابن عباس و مریاوتہ فی التفسیر من کتب السنۃ کے نام سے جمع کیا ہے، یہ کتاب دو جلدوں میں مرکز البحث العلمی مکہ مکرمہ سے چھپی ہے۔ کسی خاص حدیث کے جملہ طرق اور ان پر بحث کے سلسلے میں متعدد کتب منظر عام پرآئی ہیں ۔خلیل ابن ابراہیم نے حدیث الذبابۃ (وہ حدیث جس میں کھانے میں مکھی گرنے کا حکم بیان ہوا ہے ) پر ایک ضخیم کتاب الاصابۃ فی صحۃ حدیث الذبابۃ کے نام سے لکھی ہے جو دار القبلہ جدہ سے چھپی ہے۔ علی حسن عبد الحمید نے تنویر العینین فی طرق حدیث اسما ء فی کشف الوجہ و الکفین (دار عمار ،عمان )کے نام سے چہرہ اور کفین کے کشف کی معروف حدیث کے طرق جمع کیے ہیں۔ اس طرح کی کتب کثیر تعداد میں چھپی ہیں جو فہارسِ کتب پر مبنی معاجم میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ (ان معاجم کا ذکر مستقل عنوان کے ساتھ آرہا ہے۔) ذیل میں اہم کتب کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

دستور کی اسلامی دفعات اور سیاسی اسلام / بیت المقدس کو اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ

ابو عمار زاہد الراشدی
ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر? کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہید اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے، آپ نے انہیں دارالعلوم دیوبند کے سپوتوں میں کیسے شامل کر لیا؟ فرمانے لگے کہ یہ بات میرے ذہن میں نہیں تھی آئندہ اس کا خیال رکھوں گا۔ بھلے آدمی تھے، انتقال کر گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ شاہ اسماعیل شہید اور ان کے رفقاء کی قربانیوں کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند وجود میں آیا مگر شہدائے بالاکوٹ کو دارالعلوم دیوبند کے ثمرات میں شامل کرنے والی بات درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ مذمت و احتجاج کا سلسلہ تو ایک صدی سے جاری ہے، ضرورت عملی اقدامات کی ہے اور اس کے لیے پوری دنیا کی نظریں مسلمان حکمرانوں اور عرب حکومتوں پر ہیں۔ خدا کرے کہ وہ ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے سحر سے نکل کر اس طرف کوئی عملی پیش رفت کر سکیں ۔ ۔ ۔

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (گوجرانوالہ کے ممتاز دینی تعلیمی اداروں کا مختصر تعارف۔۲)

پروفیسر غلام رسول عدیم
مدرسہ نصرۃ العلوم : چوک گھنٹہ گھرسے مغرب کی جانب مسجد نور سے ملحق مرسہ نصرۃالعلوم ضلع گوجرانوالہ کی عظیم دینی درس گاہ ہے ۔ ۱۳۷۱ء بمطابق۱۹۵۲ء کومدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ۔مدرسہ کی سہ منزلہ عظیم لشان عمارت ۴۷کمروں پرمشتمل ہے ،جن میں ۱۹۰طلباء کی اقامتی گنجائش ہے۔ مدرسہ کے مہتمم حکیم صوفی عبدالحمیدسواتی (فاضل دارالعلوم دیوبند،فاضل دارالمبلغین لکھنؤ، مستندنظامیہ طبیہ کالج حیدرآباددکن )ایک عالم باعمل اور درویش صفت انسان ہیں۔ یوں تومدرسہ انجمنِ نصرۃ العلوم کے تحت چل رہاہے مگرمہتمم کی پرکشش شخصیت مدرسے کے جملہ انصرامی امور کامحورومرکزہے۔ وہ مسجدمیں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں ۔ان کے سلسلہ درس قرآن میں کوئی ۲۰۰کی تعدادمیں ہرروزحاضری ہوتی ہے جو ساتھ ساتھ طبع بھی کیاجا رہاہے ۔چارجلدیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں ۔مدرسے کامسلک حنفی دیوبندی ہے۔ صدرمدرس کے فرائض شیخ الحدیث مولانامحمدسرفرازخاں صفدرؔ اداکرتے ہیں ۔مولاناموصوف عصر حاضر کے جیدعلماء حدیث میں شمارکیے جاتے ہیں۔ علوم حدیث خصوصاً"علم اسماء الرجال"پران کی گہری نظرہے ۔ وہ علوم دینیہ کے ایک ماہرعالم ،ایک محنتی استاد،ایک بلندپایہ مصنف اورایک ملنساراورشگفتہ طبع انسان ہیں۔ ان کی تصانیف اعلیٰ علمی حلقوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ وہ راہِ سنت ،راہِ ہدایت،صرف ایک اسلام(بجواب دواسلام از ڈاکٹر برق)، احسن الکلام (۲جلد)، الکلام الحاوی ، تبریدالنواظر، گلدستہ توحید، ازالۃالریب اور شوقِ حدیث کے علاوہ کوئی چاردرجن کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ۔ ۔

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی

ڈاکٹر عرفان شہزاد
اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لے بھی عام ہیں۔مسلمان اگر پورے جذبہ ایمانی سے اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کریں گے تو یہ وعدے ان کے حق میں بھی اسی طرح پورے ہوں گے جیسے یہ صحابہ کے لیے پورے ہوئے تھے۔ اس استدلال کے بھروسے پر مسلم تاریخ میں بے شمار مسلح اور غیر مسلح سیاسی تحاریک برپا کی گئیں جن کا انجام تاریخ کے صفحات میں رقم ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس استدلال کا تجزیہ زبان و بیان کے معروف اسالیب کی روشنی میں ،تاریخی اور معروضی حقائق کے حوالے کیا گیا ہے۔ یہاں دو نکات قابل غور ہیں: پہلا یہ کہ زبان کا معلوم و معروف اسلوب ہے کہ وعدہ، حکم نہیں ہوتا، یعنی جب کسی سے کوئی وعدہ کیا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ کوئی حکم دیا جا رہا ہے۔ مثلاً میں اپنے بیٹے سے کہوں کہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر اسے کوئی انعام دوں گا تو اس کا مطلب بس یہی ہے کہ اس کی کارکردگی اچھی ہوئی تو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔ اس سے یہ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اس انعام کا حصول میرے بیٹے کے لیے فرض ہو گیا ہے یا میرے لیے اپنا وعدہ ہر حال میں پورا کرنا فرض ہو گیا ہے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے۔ کوئی صحیح الفہم شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔

’’تذکار رفتگاں‘‘ ۔ اہل علم کے لیے ایک علمی سوغات

مولانا مفتی محمد اصغر
اس وقت مولا نازاہد الراشدی صاحب کی تازہ تصنیف ’’تذکار رفتگاں‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب کیا ہے، پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس پایے کی کتاب ہے اور اس میں کتنا قیمتی تاریخی علمی مواد موجود ہے۔ یہ کتا ب تقریباً نصف صدی سے زائد کے اکابر علماء، زعماء، مشائخ، قائدین، سربراہان مملکت اور قومی وبین الاقوامی شخصیات کے حالات زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔کتاب میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے والے اکابر اہل علم کی وفات پر ہلکے پھلکے انداز میں مولانا نے اپنے قلبی تاثرات وجذبات کا اظہار پیش کیا ہے۔ مولانا کو اللہ رب العزت نے گوناگوں صفات وکمالات سے نوازا ہے۔ علم وعمل، درس وتدریس، تقریر وتحریر، خطابت وصحافت، فقہ واجتہاد، تواضع وانکسار جیسی صفات سے مالا مال فرمایا ہے۔ مولانا کا قلم عجب قلم ہے، آپ کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ آپ کو مشکل سے مشکل بات آسان پیرایے میں بیان کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا حل نکالنے میں مولانا اپناثانی نہیں رکھتے۔ غبی اور کم علم بھی آپ کی تحریر کو شوق سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ اہل علم کا ایک بڑاطبقہ آ پ کے قلم کا گر ویدہ ہے۔ آپ کے قلم سے نکلی شستہ تحریر محبت کا پیغام دیتی، مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑتی اور پست ہمت لوگوں کو باہمت بنا دیتی ہے۔ آپ کی تحریر بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لاتی، فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوؤں کو وحدت آشناکرتی اور گم کردہ راہوں کو نشان منزل عطا کرتی ہے ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج