ماہنامہ الشریعہ - فروری 2018

احمدیوں کی مذہبی اور آئینی حیثیت کی بحث

محمد عمار خان ناصر
احمدیوں کی تکفیر اور ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے تحفظ کے ضمن میں ہمارے ہاں کی جانے والی قانون سازی گزشتہ دنوں بعض مبینہ قانونی ترمیمات کے تناظر میں ایک بار پھر زیر بحث آئی۔ اس پس منظر میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں بعض توجہ طلب سوالات دینی حلقوں کے غور وفکر کے لیے اٹھائے۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ: ’’چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری اور قانونی معاملات کو سبوتاڑ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بین الاقوامی ادارے ہوں، عالمی سیکولر لابیاں ہوں یا ملک کے اندر قادیانیت نواز حلقے ہوں، جب یہ ان کے علم میں ہے اور انہیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ وہ اس مسئلہ پر پاکستان کی رائے عامہ، سول سوسائٹی اور منتخب اداروں میں سے کسی کا کھلے بندوں سامنا نہیں کر سکتے اور ہر بار انہیں درپردہ سازشوں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کرنے اور زمینی حقائق کا اعتراف کر لینے سے مسلسل کیوں انکاری ہیں؟ یہ انصاف، جمہوریت، اصول پرستی اور حقیقت پسندی کی کون سی قسم ہے کہ پاکستانی قوم نے اجتماعی طور پر ایک فیصلہ کیا ہے اور وہ اس پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اس سے ہٹانے کے لیے دباؤ، سازش اور درپردہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اپنے اجماعی عقیدہ اور موقف سے ہٹنے پر بلاوجہ مجبور کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان بین الاقوامی اور اندرون ملک حلقوں کو ان کی اس غلط روی بلکہ دھاندلی کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔‘‘ (روزنامہ اسلام، ۸ نومبر ۲۰۱۷ء)

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۲) بل قالوا کا ترجمہ: بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُون۔(الانبیاء: 5)۔ اس آیت میں بَلْ کے بعد قَالُواْ آیا ہے، الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: بلکہ انہوں نے کہا۔عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن ایک ترجمہ اس سے مختلف بھی ملتا ہے،مثالیں ملاحظہ ہوں: ’’اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی) ’’بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے‘‘۔ (فتح محمدجالندھری) وہ کہتے ہیں ’’بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے‘‘۔(سید مودودی) آخری ترجمہ محل نظر ہے، اگر اس طرح ہوتا کہ قالوا بل اضغاث احلام تب تو یہ ترجمہ درست ہوتا، لیکن آیت میں بل قالوا اضغاث احلام ہے، تفاسیر میں اس طرح کا قول ذکر کیا گیا ہے لیکن محققین نے اسے کمزور قرار دیا ہے۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۷)

مولانا سمیع اللہ سعدی
دسویں جہت :مناہجِ محدثین ۔ دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک اہم جہت محدثین کے مناہج ،اسالیب اور ان کے طرزِ تصنیف و تالیف کے تعارف و تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل مباحث شامل ہوتے ہیں : 1۔محدثین کے مناہجِ تحمل روایت و ادائے روایت کیا تھے ؟ 2۔محدثین کا حفظ احادیث کا منہج کیا تھا ؟ 3۔روایات کی توثیق میں محدثین کے مناہج کیا تھے؟ 4۔کتابت حدیث کے کون سے مناہج محدثین کے ہاں رائج تھے؟ 5۔محدثین کے حلقہ دروس کا انداز کیا تھا؟ 6۔محدثین کے تصنیفی مناہج و اسالیب کیا تھے؟ 7۔راوی کی توثیق یا تضعیف میں محدثین کے کیا مناہج تھے؟ ان تمام موضوعات پر فرداً فرداً تفصیلی تصانیف منظر عام پر آئی ہیں ،اس کے علاوہ متونِ حدیث میں سے کسی بھی متن کا منہج ،اسلوب اور اس کی خصوصیات کا جائزہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اہم متونِ حدیث میں سے تقریبا ہر کتاب کے منہج و اسلوب پر ضخیم کتب شائع ہوچکی ہیں ۔یوں منہج محدثین ایک مستقل فن بن گیا ہے جس میں عمومی و خصوصی دونوں انداز میں محدثین کے مناہج کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔اس سلسلے کی ایک مفصل کتاب "دراسات فی مناھج المحدثین، دراسۃ تحلیلیۃ لمناھج اشھر المحدثین من العھد النبوی الی وقتنا الحاضر‘‘ ہے جو محمود محمد احمد ہاشم کی تصنیف ہے،مکتب مہیب للطباعہ ،مصر سے چھپی ہے ۔اس کے علاوہ دو مصنفین عزت علی عطیہ، یحییٰ اسماعیل کی مشترکہ ضخیم تصنیف "اعلام المحدثین ومناھجھم فی الروایۃ والآداب والدرایۃ" ایک اہم کتاب ہے ،جو مکتبہ مدینہ منورہ مصر سے چھپی ہے ۔

تصوف وسلوک اور ماضی قریب کے اجتہادات

سراج الدین امجد
دور حاضر میں تصوف و سلوک کی طرف شعوری رجحان اور عمومی ذوق خوش آئند ہے گو اس کی وجوہات گوناگوں ہیں۔ کچھ کے نزدیک تصوف انسان دوستی اور لبرل اقدار کا ہم نوا مذہب کا ایک جمالیاتی رخ ہے۔ کچھ لوگ اسے طالبانی خارجیت اور داعشی بربریت کا تریاق سمجھتے ہیں۔ کہیں روایتی تصوف کے علمبردار مشہور خانوادوں کے خوش فکر نوجوان نئے اسالیب میں اشغالِ تصوف کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں تو کہیں تصوف فی الواقع روایت دینی کی پر کیف و جمال افروز فکری و نظری جولانگاہ کا حامل ہے۔ تاہم یہ المیہ بھی کچھ کم نہیں کہ بالعموم مروجہ سلوک میں چند رسوم کی بجاآوری ہی طرز ادا ٹھہری ہے یا پھر بعض اذہانِ رسا کی خوش اعتقادی پر مبنی حرف و صوت کی کارگزاری کشش کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں پروفیسر احمد رفیق اختر، سید سرفراز شاہ صاحب ، بابا جی عرفان الحق اورعبد اللہ بھٹی صاحب وغیرہ موخر الذکر اسلوبِ تصوف کی عمدہ مثالیں ہیں۔ دورِ جدید کے ذہن کے لیے، جو تشکیک و ارتیاب کے ایمان شکن مظاہر سے نبرد آزما ہے، لاریب انٹلکچول تصوف کی قد رو قیمت بھی کچھ کم نہیں ۔ تاہم چمنستانِ تصوف کے سنجیدہ طبع اور سلیم الفطرت ریزہ چینوں کو عجمی تصوف کی خرابیوں کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے۔ نیز یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ عملی تصوف فی الاصل تزکیہ نفس اور اصلاحِ باطن کا میدان ہے، باقی چیزیں ثانوی ہیں۔ اس باب میں اتباعِ شریعت اور استقامت ہی مدار نجات اور فوزِ عظیم ہے، لہٰذا آج بھی متبعِ سنت بزرگوں کی تعلیمات اور افکارِ عالیہ میں بڑا فیض ہے، لہٰذا اسی کی تلاش اور جستجو کرنی چاہیے۔ سردست موضوع سخن چونکہ بر صغیر پاک و ہند کے صوفیہ کرام کی اجتہادی کاوشوں کے ایک اجمالی جائزہ سے متعلق ہے، لہٰذا اسی تناظر میں بات کی جائے گی۔

پیغام پاکستان / جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان / حکیم مختار احمد الحسینیؒ اور قاری محمد رزین ؒ کا انتقال

ابو عمار زاہد الراشدی
۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرین امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تیار کردہ تمام مکاتب فکر کے متفقہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ میں بنیادی اور اصولی باتیں تو وہی ہیں جن کا گزشتہ دو عشروں سے مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے اور کم و بیش تمام طبقات اور حلقے ان پر متفق چلے آرہے ہیں۔ اس کا ذکر مذکورہ تقریب میں مولانا فضل الرحمان اور مولانا مفتی منیب الرحمان نے اپنے خطابات کے دوران تفصیل کے ساتھ کر دیا ہے کہ اسلامی ریاست کے خلاف عسکری محاذ آرائی، نفاذِ شریعت کے لیے مسلح جنگ، پرامن شہریوں کا قتل، دستور کی بالادستی کو چیلنج اور خودکش حملوں کے ناجائز ہونے کے بارے میں دینی حلقے اور ان کی قیادتیں اس افسوسناک عمل کے آغاز سے ہی لگاتار اپنے دوٹوک موقف کا اعلان کر رہی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود وسیع تر دائرے میں اعلیٰ ترین سطح پر ریاستی اداروں کے اشتراکِ عمل کے ساتھ صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین کی قیادت میں اس نئے اور اجتماعی اظہار نے اسے متفقہ قومی موقف کی حیثیت دے دی ہے اور آج کے قومی اور عالمی حالات میں اس کی اہمیت و افادیت کو دوچند کر دیا ہے جس سے دنیا کو پاکستانی قوم کی طرف سے ایک واضح اور دوٹوک پیغام ملا ہے۔

فقہاء اور مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ میں فرق

عدنان اعجاز
محترم زاہد صدیق مغل صاحب کی مذکورہ بالا عنوان کی حامل تحریر نظر سے گزری (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔ مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالہ کے فقہا کے تصور سے تقابل کے ذریعے زاہد صاحب نے اس میں یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ ’’فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔‘‘ میری نظر میں ایسی تحاریر موضوع سے متعلق الجھنوں کو رفع کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اس لیے ایسے مواقع ضائع نہیں ہونے دینے چاہئیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے دیے گئے اہم دلائل ان الفاظ میں بیان کیے جا سکتے ہیں: 1۔ فقہا چونکہ وضوح و خفا کے اعتبار سے آیات کو آٹھ مدارج میں تقسیم کرتے ہیں، اس لیے جن اقسام کو وہ قطعی الدلالۃ کہتے ہیں، وہ واقعی 'definite in meaning' ہوتی بھی ہیں، اور نتیجتاً وہ ان میں سے زیادہ واضح کے مفاہیم میں تاویل کرنے والوں پر گمراہی کا حکم بھی لگا سکتے ہیں اور لگاتے ہیں۔ جبکہ مکتب فراہی جب سب کو قطعی کہہ دیتا ہے تو ایک تو یہ واضح نہیں کرتا کہ ان مدارج میں سے کس درجے کا وضوح مراد لیتا ہے، اور اسی طرح یہ بھی بیان نہیں کرتا کہ اس قطعی مفہوم کے انکار کرنے والے کو وہ گمراہ کہے گا کہ نہیں، اور دونوں صورتوں میں کیوں کا جواب بھی نہیں دیتا۔ 2۔ ان کے یہاں جس طرح لفظ قطعی کے معنی میں ابہام ہے، اسی طرح لفظ دلالت کے مفہوم میں بھی ہے۔ وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ یہ قطعیت عبارۃ النص، دلالۃ النص، اشارۃ النص یا اقتضاء النص میں سے کس قسم کی ہے۔ 3۔ مکتب فراہی جب کلام کو قطعی ماننے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کے معنی دو مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوں تو پھر درحقیقت وہ قطعی ہی کو ظنی کر دیتا ہے، پس پورا تصورِ قطعیت ہی سبجیکٹو ہو جاتا ہے۔ جبکہ فقہا کا طریقہ کار کلام کو حتی الامکان آبجیکٹو (objective) قطعیت سے متصف دکھاتا ہے، کیونکہ انہیں حکم اخذ کرنے کے لیے جو عموم و استحکام درکار ہوتا ہے، وہ اسی طریقے سے حاصل ہو سکتا ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کیا ہے؟

محمد عرفان ندیم
یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا اور اسے عملی جامہ ڈاکٹر ماہان مرزا نے پہنچایا ۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ان کے آبا ؤ اجداد انڈیا کے شہر گجرات سے ہجرت کر کے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا بچپن جنوبی افریقہ ہی میں گزرا ۔یہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے جب انہیں اسلامک اسٹڈیز کے مضمون میں دلچسپی پیدا ہوئی ۔ ایک دن کسی کلاس فیلو نے کلاس میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام ایک غلط اور جھوٹا مذہب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تجسس بڑھا تو یہ امام مسجد کے پاس پہنچ گئے ۔ یہاں تشفی نہ ہوئی تو پہلے تبلیغی جماعت اور پھر مختلف اسکالرز سے ملے، لیکن تشنگی ابھی باقی تھی۔ چنانچہ انہوں نے خود دینی علوم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ یہ دینی علوم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دینی مدارس میں آنا چاہتے ،تھے لیکن گھروالوں کا اصرار تھا کہ انہیں انڈیا جانا چاہیے۔ چنانچہ یہ ندوۃ العلماء لکھنو پہنچ گئے ، یہاں کچھ عرصے تک تعلیم حاصل کی اور پھر دار العلوم دیوبند چلے گئے ۔ وہاں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیااور قاری محمد طیب کی محفلوں میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔ تقریباً چھ سال تک انہوں نے مدارس میں رہ کر رسمی دینی تعلیم حاصل کی،کچھ عرصہ کے لیے کراچی بھی تشریف لائے اور اس طرح ان کی دینی تعلیم کا ایک مرحلہ مکمل ہوا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ دوبارہ جنوبی افریقہ چلے گئے ،یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، جرنلز م میں ماسٹر کیا اور صحافت کو بطور پیشہ جائن کر لیا ۔کچھ عرصہ تک جنوبی افریقہ میں ہی صحافت کرتے رہے اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی ۔ اس کے بعد یہ امریکہ منتقل ہوئے اور مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم پہنچ گئے ۔ یہ گزشتہ بیس سالوں سے امریکہ میں ہیں اور امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسروں میں ان کا نام ٹاپ پر ہے ۔ یہ ان چند گنے چنے اسکالرز میں سے ہیں جو مغرب میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر رہے ہیں ۔ یہ امریکہ میں دینی مدارس کے وکیل سمجھے جاتے ہیں اور یہ مختلف فورمز پر دینی مدارس کا دفا ع کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ خود بھی اپنے آپ کو مدارس کا ایڈووکیٹ کہتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔

مدرسہ ڈسکورسز کا ونٹر انٹینسو ۔ میرے تاثرات

سید مطیع الرحمن
مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے سمسٹر کے بعد نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی جانب سے حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ( قطر) میں ایک ورکشا پ کا اہتما م کیا گیا۔یہ ورکشا پ 25 دسمبر تا 30 دسمبر 2017تک جاری رہی۔ قطر میں ایک پورا علاقہ ایجو کیشن سٹی کے نام سے موسوم ہے جہاں یونیورسٹیز ، کالجز ،لائبریریز قریب قریب واقع ہیں۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں ہے۔ یہ یونیورسٹی 2007 ء میں قائم کی گئی۔غالباً یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے نظام و نصاب کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات لی گئی تھیں۔ہماری ورکشاپ کے دنوں میں یہاں تعطیلات تھیں۔ نہایت خوبصورت کلاس رومز ، اعلیٰ درجے کی سہولیات سے مزین آڈیٹوریم ، لائبریری،شاندار مسجد ، اور بہت ہی بااخلاق اور معاون عملہ موجود تھا۔ ورکشا پ کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلاڈیڑھ گھنٹے کا سیشن لیکچر پر مشتمل ہوتا۔ پھر پندرہ منٹ کی بریک کے بعد لیکچر کابقیہ حصہ اور سوال وجواب کی نشست ہوتی۔ اس کے بعد نماز اور دوپہر کا کھانا۔ دوپہر کے کھانے کے لئے بہترین ہوٹلز کا انتخاب کیا گیا، ڈشز اتنی ہوتیں کہ ہر کسی کو اس کی پسند کی ڈش مل جاتی۔ ہوٹل سے دوبارہ یونیورسٹی واپسی ہوتی، پھر ڈسکشن روم میں طلبہ کے چھ یا سات گروپ تشکیل دے دیے جاتے اور انہیں اس دن کے لیکچرکے بنیادی اور اہم نکات پر گفتگوکرنے اور سوالات تیار کرنے کا کام سونپاجاتا۔ اساتذہ اس گروپ ڈسکشن میں خود بھی طلبہ کے ساتھ بیٹھتے اور ان کی گفتگو کو سنتے۔ تما م طلبہ اپنے اپنے نکات، گروپ میں ڈسکس کرتے اور سوالات تیارکرتے جس کا جواب وہی استاذ دیتے جن کا اس دن لیکچر ہوتا۔ گروپس روزانہ کی بنیاد پر نئے بنائے جاتے تاکہ تمام طلبہ کا ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ و مباحثہ ہو سکے اور ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ زیادہ مفید انداز میں ہو سکے۔ یہ سیشن بھی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا۔

الشریعہ اکادمی میں اسلامی تاریخ پر کوئز مقابلہ

مرتب:مولانامحفوظ الرحمن
تاریخ کا علم نسل انسانی کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تاریخ سے سابقہ اقوام کی سرگزشت معلوم ہوسکتی ہے۔ قرآن کریم نے بھی سابقہ اقوام کے قصوں کوبڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرکے آنے والے لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ کا ایک تابناک دورتھاجس سے واقفیت اور اطلاع نئی نسل کو بہتر راستے پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاہے جس کوسیرت طیبہ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعدخلفاء راشدین کا دور ہے اور پھر خلافت بنوامیہ اورخلافت بنوعباس اور اس کے بعد خلافت عثمانیہ بڑے طمطراق والی خلافتیں گزری ہیں۔ سیرت وتاریخ کی اسی اہمیت کے پیش نظر الشریعہ اکادمی میں گزشتہ چند سال سے سیرت اور تاریخ کے موضوع پر کوئز مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سیرت نبوی کے علاوہ خلفاء اربعہ، حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرات حسنین کریمین کی زندگیوں پر مقابلے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ امسال کوئز مقابلہ کے لیے خلافت بنوامیہ اور خلافت عباسیہ کا موضوع منتخب کیا گیا۔ مقابلے کا انعقاد دو مرحلوں میں کیا گیا جس میں شہر کے مختلف مدارس سے طلبہ نے شرکت کی۔ ہرٹیم تین تین شرکاء پرمشتمل تھی۔ مدرسہ ابوایوب انصاری کی ایک ٹیم جبکہ جامعہ حقانیہ، جامعہ مدینۃالعلم، جامعہ دارالعلوم گوجرانوالہ اور الشریعہ اکادمی سے دو دو ٹیمیں شریک ہوئیں۔ مقابلہ کاپہلاسیشن ۱۱ جنوری کو مکمل ہوا جس میں کامیاب ہوکر فائنل مرحلے میں پہنچنے والی آٹھ ٹیموں نے ۱۸ جنوری کو مقابلے کے آخری راؤنڈ میں حصہ لیا۔ مقابلہ ہر لحاظ سے دلچسپ رہا۔ طلبہ کی ان تھک جدوجہداورانتہائی لگن سے کی ہوئی تیاری قابل دادتھی جس میں ہرخلیفہ کی زندگی، کارنامے اور دیگر تاریخی امور زیر بحث لائے گئے۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج