پاک بھارت تعلقات اور ہمارے ریاستی بیانیے

محمد عمار خان ناصر
گزشتہ دنوں ایک ٹاک شو میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے معروف کرکٹر شاہد آفریدی کے بعض تبصروں پر سوشل میڈیا میں بحث ومباحثہ کا بازار گرم رہا۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی کا بھی حصہ بنانےکے بجائے خود کشمیریوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے اپنے موجودہ صوبے نہیں سنبھالے جا رہے تو ایک اور صوبے کے انتظام وانصرام سے وہ کیسے عہدہ برآ ہوگا۔ شاہد آفریدی پر تنقید کرنے والوں کی طرف سے مختلف نکتے پیش کیے گئے۔ مثلا یہ کہ یہ ایک بڑا حساس اور ٹیکنیکل مہارت کا متقاضی موضوع تھا جس کا وہ اہل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ ایک عوامی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس کی گفتگو سے کشمیر کے حوالے سے ہمارے ریاستی موقف پر زد پڑی ہے اور بھارت میں اس کا حوالہ دے کر اس سے بھارتی موقف کی تائید اخذ کی گئی ہے۔ ان میں سے پہلا اعتراض تو بظاہر زیادہ وزن نہیں رکھتا، کیونکہ شاہد آفریدی کسی سفارتی یا آئینی فورم پر بات نہیں کر رہے تھے اور نہ ریاست کے سرکاری ترجمان کی حیثیت سے اظہار خیال کر رہے تھے۔ ٹی وی ٹاک شو ایک طرح کی چوپال ہی ہوتی ہے جس میں لوگ اپنے اپنے انفرادی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی
بلاء کا ترجمہ: بلا یبلو، اور أبلی یبلی کابنیادی مطلب تو ہوتا ہے کسی کو آزمائش میں ڈالنا، صلہ اور باب فعل کے اختلاف سے آزمائش کی نوعیت بدلتی رہتی ہے، یہ آزمائش خیر سے بھی ہوتی ہے اور شر سے بھی ہوتی ہے۔فرمایا: (ونبلوکم بالشر والخیر )، یہیں سے اس کا ایک مطلب خیر سے نوازنا بھی ہے۔ ابن قتیبہ ادب الکاتب میں لکھتے ہیں: بَلَوْتُہ أبلوہ '' بَلْواً '' إذا جرَّبتہ، وبَلاہ اللہ یَبْلوہ '' بَلاَءً '' إذا أصابہ بِبَلاءٍ، یقال: اللَّہمَّ لا تَبْلَنا إلا بالتي ھي أحسنُ، وأبلاہ اللہ یُبلیہ '' إبْلاءً حَسَناً '' إذا صنع بہ صنعاً جمیلاً، وقال زھیر: جَزَی اللہُ بالإحسانِ مَا فَعَلا بکمْ... فأَبْلاھُمَا خَیْرَ البَلاَءِ الَّذي یَبْلُو۔ قرآن مجید میں چھ مقامات پر لفظ بلاء آیا ہے، یہ چھ مقامات وہ ہیں جہاں کسی بڑی مصیبت یا آزمائش سے بچالیے جانے کا تذکرہ ہے۔ ان میں سے چار مقامات پر بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کے بعد اس کا ذکر ہے، اور ان چار میں سے تین مقامات کا تو بالکل ایک ہی مضمون ہے کہ آل فرعون سے نجات دی جو ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکی کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ باقی ایک مقام پر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے امتحان اور پھر اللہ کی طرف سے پروانہ کامیابی جاری ہونے کے بعد اس کا ذکرہے۔

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کا انتقال / حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ

ابو عمار زاہد الراشدی
حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا اور اصحاب خیر و برکت میں سے ایک اور بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب محترم دعوت و تبلیغ کی محنت کے سینئر ترین بزرگ تھے جنہوں نے حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ جیسے بزرگوں کی معیت و رفاقت کی سعادت حاصل کی اور زندگی بھر اسی کام میں مصروف رہے۔
۱۳ نومبر منگل کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار کا اہتمام تھا جس میں مولانا شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ عمومی دینی جدوجہد کی صورتحال بھی گفتگو کا موضوع بنی اور کم و بیش اسی رائے کا اظہار کیا گیا جس کا گوجرانوالہ کے حوالہ سے سطور بالا میں ذکر ہوا ہے۔ اس تعزیتی سیمینار میں جمعیۃ علماء اسلام (س) سیالکوٹ کے امیر حافظ احمد مصدق قاسمی، جماعت اسلامی کے راہنما جناب عبد القدیر راہی اور اہل حدیث راہنما مفتی کفایت اللہ شاکر کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔

آسیہ بی بی کی رہائی : سپریم کورٹ کے فیصلے کی اخلاقی وشرعی حیثیت

ڈاکٹر محمد شہباز منج
توہینِ رسالت کے مقدمے میں آسیہ بی بی کیس میں ملزمہ کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر سخت بحرانی و ہیجانی کیفیت پیدا ہو ئی۔ متعدد مذہبی جماعتوں کی طرف سے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل آیا ہے۔ان کا عمومی موقف یہ ہے کہ یہ فیصلہ اسلام مخالف مغربی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر کیا گیا ہے؛ یہ طاقتیں اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی توہین کے معاملے کو لائیٹ سی چیز بنا دینے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، لہٰذا حضورﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ایسے فیصلےکے خلاف باہر نکل کر اہلِ اقتدار ،ملکی اداروں ، عدالتوں اور مغربی طاقتوں کو باور کرایا جائے کہ اس طرح کے فیصلے اسلام دشمنی کا شاخسانہ ہیں اور اہلِ اسلام ان کو کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف اس فیصلے کو درست سمجھنے والوں اور بہت سے ماہرینِ قانون و شریعت کا موقف ہے کہ عدالت نے میسر قرائن و شواہد کی روشنی میں درست فیصلہ کیا؛ عدالت کے نزدیک ملزمہ پر توہینِ رسالت کا مقدمہ ثابت نہیں ہوا، لہذااسے سزاے موت دینے کا کوئی جواز نہیں۔

ہجرت ِ رسول ﷺ کا بشریاتی مطالعہ ۔ میاں انعام الرحمٰن کی کتاب ’’سفر ِجمال‘‘ پر ایک تبصرہ

عاصم بخشی
کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکّے کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت واقدار اور عقائد و اعمال کا مجموعہ ٹھہرتے ہیں۔ دوسری طرف روایتی مطالعۂ اسلام تاحال ’ریلیجن‘ اور’ کلچر‘ کی لاینحل دبدھا کا شکار ہے۔ غیرمقامی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ تودی جا چکی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ کھینچا تانی کا اوّل میدان روایتی اسلام اور غیرمقلد اور آزاد منش مصلح و متجددین کے درمیان تعبیراتی کشمکش اور زمانی ومکانی استناد پر اجارہ داری کی خواہش ہے۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج