قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر

محمد عمار خان ناصر
کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق بعض روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی بن مریم علیہما السلام، رقم ۳۲۹۰) وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، رقم ۳۸۲۶)۔ شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول بالا ہو جائے گا اور اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔ تاہم ماضی قریب کے نامور محدث علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس رائے سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں سیدنا مسیح کا نزول ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۴۶) من دون اللہ کا ایک ترجمہ: لفظ ’’دون‘‘ عربی کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے متعدد معانی ہوتے ہیں، اور سیاق وسباق کی روشنی میں مناسب ترین معنی اختیار کیا جاتا ہے۔ دون کا ایک معنی ’’سوا‘‘ ہوتا ہے، مندرجہ ذیل آیتوں میں مِن دُونِ اللّہ کاترجمہ کرتے ہوئے دون کا یہی معنی زیادہ تر مترجمین نے اختیار کیا ہے، البتہ کچھ مترجمین نے ’’سوا‘‘ کے بجائے ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا۔ اول الذکر تعبیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں وسعت زیادہ ہے، اس میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود مانتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی بناتے ہیں، اور وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود نہیں مانتے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بناتے ہیں۔ جبکہ دوسری تعبیر میں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو اللہ کو معبود نہ مان کر دوسروں کو معبود مانتے ہیں۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔دون کے اس استعمال کی قرآن مجید میں بہت زیادہ مثالیں ہیں، کچھ آیتیں ذیل میں ذکر کی گئی ہیں۔

افغان طالبان کا موقف اور خادم الحرمین کی خواہش

ابوعمار زاہد الراشدی
۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سعودی عرب کے محترم فرمانروا کے ارشادات کی روشنی میں ہم ان کی خدمت میں کچھ مؤدبانہ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ عزت مآب شاہ سلیمان بن عبد العزیز عالم اسلام کی محترم ترین شخصیت ہیں اور ان کے نام کے ساتھ خادم الحرمین شریفین کا عنوان دیکھتے ہی ہر مسلمان کا سرِ نیاز خودبخود جھک جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ افغانستان میں امن کی خواہش ان سے زیادہ کسے ہو سکتی ہے یا کسے ہونی چاہیے؟ مگر ہم بڑے ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ازراہ کرم اس سلسلہ میں ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے موقف پر بھی ایک نظر ڈالنے کی زحمت فرمائی جائے تو مسئلہ کا حل جلد از جلد نکالنے میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔

پروفیسر فواد سیزگینؒ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) کے علاوہ پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اگلی سطور میں انہی ڈاکٹر فواد سیزگین (ترکی) کا مختصر تعارف کرانا مقصود ہے۔ البتہ ان کے گھریلو حالات راقم کو تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ بڑی عنایت ہوگی اگر کوئی قاری اس سلسلے میں مزید معلومات فراہم کرسکے۔

انسانی خدا ۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ

سید راشد رشاد بخاری
آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے2011 میں وہ ایک کتاب بعنوان ’سیپینز ۔۔۔ انسانوں کی مختصر تاریخ‘ لکھ چکے ہیں جسے اس دوسری کتاب کا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل کی ممکنہ تاریخ کے موضوع پر پیشین گوئی کرتی ہوئی دوسری کتاب کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ اصل میں انسان کا مستقبل کا ایجنڈا ہے کیا؟

چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد رفیق شنواری
ہم نے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاس میں “جرم زنا” کی ماہیت اورتعریف نیز بنیاد فراہم کرنے والے مفروضوں کا تجزیہ کرنا تھا جس کے لیے ڈاکٹر سعدیہ یعقوب صاحبہ نے امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے کچھ صفحات (جلد نہم ص ۵۴-۵۵) کا انتخاب کیا تھا۔ پہلے ہم نے اس بنیادی سوال کا تعین کیا جس کا امام سرخسی ان صفحات میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ تراث جس مقصد کے لیے پڑھائی جا رہی ہے ، اگر وہ مقصدی سوال سامنے نہ ہو تو سمجھنے کے جتن کا کیا معنی؟ اس کے بعد اس منتخب حصے کو کئی مناسب حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ حصہ محض کئی مسائل کی تصویر اور تکییف پر مشتمل تھا ، جس سے ہمیں مسئلہ زیر بحث میں حنفی اور شافعی نقطہ ہائے نظر کا اس قدر دل چسپ تقابلی انداز میں پتہ چلا کہ اس اختلاف کے اسباب معلوم کرنے کا ایک فطری تجسس محسوس ہوا۔ اس کے بعد اگلا حصہ اسی اختلاف کے اسباب سمجھنے اور جزوی دلائل پر نظر ڈالنے کا تھا۔ اس کے بعد والا حصہ اس بحث کے لیے بنیادی کردار فراہم کرنے والے فقہی اصول یا بنیادی مفروضوں کی نشاندہی سے متعلق تھا۔

توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے ؟

مولانا مفتی محمد اصغر
توہین رسالت کا جرم حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے ؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل حدود اور تعزیرات کی تعریف معلوم ہونی چاہیے کہ حدود سے کیا مراد ہے اور تعزیرات سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء کرام جب لفظ حد کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مصداق کیا ہوتاہے ؟ اسی طرح جب تعزیر کا لفظ بولا جاتا ہے تواس کا مصداق کیا ہوتاہے،۔ ان سب سوالوں کا جواب حد اور تعزیرکی تعریف معلوم ہونے سے بخوبی سمجھ آسکتاہے ۔ ملک العلماء علامہ کاسانی ؒحد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں : عقوبة مقدرة واجبة حقا الله تعالي ۔ ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ اللہ تعالی کے حق کے طور پر واجب ہے ۔ فقہ حنفی کے معروف محقق علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حد کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں : الحد عقوبة مقدرة لله، بيان لمعناه شرعا فخرج التعزير لعدم التقدير۔ حد وہ سزاہے جو اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ ہے یہ اس کے شرعی معنی کی وضاحت ہے پس اس سے تعزیر نکل گئی کیوں کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے طے شدہ نہیں ہوتی ۔

نیپال ۔چند مشاہدات اور تاثرات

مولانا عبد الغنی محمدی
نیپال میں دوسری مرتبہ تعلیمی سفر کا موقع ملا ۔ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے پروفیسر اور ندوۃ العلماء کے فاضل ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی نگرانی میں شروع کیے گئے "مدرسہ ڈسکورسز " میں پاکستان اور انڈیا سے پچاس کے قریب لوگ شریک ہیں ۔ ان دونوں گروپوں کو سمر اور ونٹر انٹینسو میں تعلیمی ورکشاپ کے لیے اکٹھا کیا جاتاہے ۔ پچھلے سال سمر انٹینسونیپا ل کے دار الحکومت کھٹمنڈو میں تھا، ونٹر انٹینسو قطر میں تھا اور اس سال سمر انٹینسو نیپال کے پہاڑی علاقے میں ایک پرفضا مقام پر ہے ۔ یہ علاقہ دھلی خیل ہے جو کہ کھٹمنڈو سے تقریبا تیس کلو میٹر دور پہاڑی مقام ہے ۔ ان ورکشاپس میں مختلف ممالک سے ارباب عقل و دانش آتے ہیں اور شریک لوگوں سے اپنے متعلقہ موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں ، گفتگو میں سوال و جواب اور افہام و تفہیم پر خاص زور دیاجاتاہے ۔ ان دوگروپوں کے ساتھ کچھ طلباء نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے بھی ہوتے ہیں اور اس سال کچھ طلباء افریقہ سے بھی ہیں جن میں بعض مدرسہ گریجوٹس ہیں اور بعض اسلامک اسٹڈیز یا سوشل سائنسز کے شعبہ سے متعلق ہیں ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج