Article image..
بات تو کل ہی کی لگتی ہے ، لیکن اس پر بھی نصف صدی بیت چکی ہے۔ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۷ء گورنمنٹ پرائمری بورڈ اسکول کے احاطہ میں منعقد ہونے والے بھٹکل کی تاریخ کے عظیم الشان مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے مسلمانان بھٹکل کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ : ’’اے بھٹکل کے باشندو ! اے نوائط قوم کے چشم و چراغ ! تمہارے بزرگ یہاں کے لوگوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر آئے ، وہ تو بتیس دانتوں میں ایک زبان کی حیثیت رکھتے تھے ، کوئی ان کا ساز وسامان نہیں تھا ، کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہیں تھا ، اور ان کا کوئی دوست نہیں تھا ، لیکن ان کی باتوں کا وزن تھا ، اور تم ہو اتنی بڑی تمہاری تعداد ہے ، لیکن تمہارا کوئی وزن نہیں ہے ، تم یہاں قریب قریب پچاس فیصد ہو، یہاں تمہاری کتنی تعلیم گاہیں ہونی چاہیے تھیں، تمہارا یہاں تہذیب کا قلعہ ہونا چاہئے تھا، روشنی کا ایک مینا ر ہونا چاہئے تھا، وہ اس سے بھی زیادہ دور سے جو کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک روشنی کا مینارہ ہے ، اللہ نے تم کو بہت دیا ہے ، میں نے تم کو کالیکٹ میں دیکھا ہے ، میں تم سے ناواقف نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج