Article image..
Article image..
فقہ کی اساس ’’اصولِ فقہ‘‘پر ہے جس میں قرآن،سنت،اجماع اور قیاس سے متعلق اصولی مباحث ہوتے ہیں اور یہی فقہ کے دلائل ہیں۔فقہ سے متعلق ایک اور مفید اور دلچسپ علم ’’قواعد فقہیہ‘‘کا ہے جس کی طرف متقدمین فقہاء نے کافی توجہ دی ہے اور عصر حاضر میں اس موضوع پر خاصا کام ہوا ہے،خصوصا عرب دنیا میں اس پر بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا ہے۔ زیرنظر مضمون میں قواعد فقہیہ کے مفہوم کے بعدان کی حجیت اور دائرہ کار سے متعلق فقہاء کی آرا کو بیان کرنا مقصود ہے۔قواعد فقہیہ کا مفہوم: قاعدہ کا مادہ (ق ع د ) ہے، جس کے بنیادی معنی ثبات و استقرار کے ہیں۔اس کی جمع قواعد آتی ہے اور لغت کی کتابوں میں اس کے معنی ’’اساس ‘‘اور’’ بنیا د‘‘ کے بھی ملتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی قاعدہ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ باری تعالیٰ کاارشاد ہے: وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ ۔ ترجمہ:’’اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم(علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں اْٹھارہے تھے۔‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ ۔ ترجمہ:’’ان سے پہلے بہت سے لوگ مکاریاں کرچکے ہیں، تواللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج