نصوص کے فہم وتعبیر پر واقعاتی تناظر کے اثرات

محمد عمار خان ناصر
نص کی تعبیر میں جو چیزیں مفسر یا فقیہ کے فہم پر اثر انداز ہوتی ہیں، ان میں ایک اہم چیز وہ عملی صورت حال ہوتی ہے جس میں کھڑے ہو کر مفسر یا فقیہ نص پر غور کرتا اور مختلف تفسیری امکانات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عملی حالات کے بدل جانے سے انھی نصوص کی تعبیر کے کچھ ایسے امکانات سامنے آتے ہیں جو سابق مفسرین کے پیش نظر نہیں تھے۔ گویا حکم کی تعبیر کے مختلف امکانات عملی حالات سے مجرد ہو کر صرف متن پر غور کرنے سے سامنے نہیں آتے، بلکہ حکم کو عملی صورت واقعہ کے ساتھ جوڑنے سے وہ اصل تناظر بنتا ہے جس میں مجتہد مختلف تعبیری امکانات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر ان میں سے کسی امکان کو اجتہادی طور پر ترجیح دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۹) باء کا ایک خاص استعمال۔ علمائے لغت کے قول کے مطابق حرف باء کم وبیش چودہ معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک ان مفہوموں کے علاوہ قرآن مجید میں کچھ مقامات پر حرف باء مزید ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے، ذیل میں مثالوں کے ذریعہ اسے واضح کیا جائے گا: (۱) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی۔(البقرۃ: 178)۔ آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے‘‘(محمد جوناگڑھی)۔ ’’ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے ‘‘(سید مودودی)۔ ’’اے ایمان والو، تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ، لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت‘‘(احمد رضا خان) ۔ ۔ ۔ ۔

قواعد فقہیہ: تعارف وحجیت

مفتی شاد محمد شاد
فقہ کی اساس ’’اصولِ فقہ‘‘پر ہے جس میں قرآن،سنت،اجماع اور قیاس سے متعلق اصولی مباحث ہوتے ہیں اور یہی فقہ کے دلائل ہیں۔فقہ سے متعلق ایک اور مفید اور دلچسپ علم ’’قواعد فقہیہ‘‘کا ہے جس کی طرف متقدمین فقہاء نے کافی توجہ دی ہے اور عصر حاضر میں اس موضوع پر خاصا کام ہوا ہے،خصوصا عرب دنیا میں اس پر بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا ہے۔ زیرنظر مضمون میں قواعد فقہیہ کے مفہوم کے بعدان کی حجیت اور دائرہ کار سے متعلق فقہاء کی آرا کو بیان کرنا مقصود ہے۔قواعد فقہیہ کا مفہوم: قاعدہ کا مادہ (ق ع د ) ہے، جس کے بنیادی معنی ثبات و استقرار کے ہیں۔اس کی جمع قواعد آتی ہے اور لغت کی کتابوں میں اس کے معنی ’’اساس ‘‘اور’’ بنیا د‘‘ کے بھی ملتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی قاعدہ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ باری تعالیٰ کاارشاد ہے: وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ ۔ ترجمہ:’’اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم(علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں اْٹھارہے تھے۔‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ ۔ ترجمہ:’’ان سے پہلے بہت سے لوگ مکاریاں کرچکے ہیں، تواللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔

سماجی ارتقاء اور آسمانی تعلیمات / چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

ابو عمار زاہد الراشدی
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے تمام مذاہب اور تہذیبوں سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں اور اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہو کر اپنے امتیازات اور الگ تشخصات سے دستبردار ہو جائیں۔ اس تصور بلکہ مقدمہ کا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے چنانچہ اس سلسلہ میں ہم کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اور بھٹکل

مولانا عبد المتین منیری
بات تو کل ہی کی لگتی ہے ، لیکن اس پر بھی نصف صدی بیت چکی ہے۔ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۷ء گورنمنٹ پرائمری بورڈ اسکول کے احاطہ میں منعقد ہونے والے بھٹکل کی تاریخ کے عظیم الشان مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے مسلمانان بھٹکل کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ : ’’اے بھٹکل کے باشندو ! اے نوائط قوم کے چشم و چراغ ! تمہارے بزرگ یہاں کے لوگوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر آئے ، وہ تو بتیس دانتوں میں ایک زبان کی حیثیت رکھتے تھے ، کوئی ان کا ساز وسامان نہیں تھا ، کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہیں تھا ، اور ان کا کوئی دوست نہیں تھا ، لیکن ان کی باتوں کا وزن تھا ، اور تم ہو اتنی بڑی تمہاری تعداد ہے ، لیکن تمہارا کوئی وزن نہیں ہے ، تم یہاں قریب قریب پچاس فیصد ہو، یہاں تمہاری کتنی تعلیم گاہیں ہونی چاہیے تھیں، تمہارا یہاں تہذیب کا قلعہ ہونا چاہئے تھا، روشنی کا ایک مینا ر ہونا چاہئے تھا، وہ اس سے بھی زیادہ دور سے جو کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک روشنی کا مینارہ ہے ، اللہ نے تم کو بہت دیا ہے ، میں نے تم کو کالیکٹ میں دیکھا ہے ، میں تم سے ناواقف نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

زوال امت میں غزالیؒ کا کردار۔ تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۱)

مولانا محمد عبداللہ شارق
امام غزالی پر ایک اور اتہام: اپنے سابقہ مضمون "غزالی اور ابن رشد کا قضیہ" (الشریعہ، فروری ومارچ ۲۰۱۴ء) میں ہم نہایت تفصیل سے یہ عرض کرچکے ہیں کہ امام غزالی نے ایسا کچھ نہیں لکھا کہ جس سے انہیں علم، عقل اور سائنس وفلسفہ کی کاوشوں کا منکر قرار دیا جاسکے، بلکہ اس کے برعکس ان کے ہاں متواتر ایسی عبارات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کے سخت مخالف ہیں جو اسلام کو فلسفہ وسائنس اور عقلی علوم کے تمام اجزاء اور شعبوں کا مخالف کہتے ہیں۔ ہم نے ایسی کئی عبارات وہاں نقل کی ہیں جن سے قاری بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ امام غزالی کو تمدن دشمن قرار دینا، عقلی علوم کی تمام تر انسانی روایت کا مخالف باور کرانا یا مذہب اور سائنس کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھنا ان کے مخالفین کا محض خیالی پلاؤ ہے اور غزالی پر ایسا الزام تو کم ازکم خود ان کے حریف ابن رشد نے بھی عائد نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

حضرت شاہ ولی اللہ کا نظریہ تخریج۔ ایک تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا عبیداختر رحمانی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (ولادت4/شوال 1114ہجری، وفات 29/محرم 1176 ہجری) کی ذات محتاج تعارف نہیں۔ آپ نے اصلاح وتجدید کا مشعل روشن کرکے برصغیر کے مسلمانوں کے دل میں ایمان وعمل کی نئی جوت جگائی۔ جب سلطنت مغلیہ کا آفتاب لب بام تھااور مسلمانوں کی پستی وانحطاط نوشتہ دیوار نظرآرہی تھی، ایسے نازک حالات میںآپ نے برصغیر کے مسلمانوں کومایوسی کے اندھیارے میں امید کی نئی کرن دکھائی اور یہاں کے مسلمانو ں کو قرآن وحدیث کے آب حیات وچشمہ زلال سے سیراب کیا ۔ جن اختلافی مسائل پر معرکے گرم تھے،ان میں عالمانہ اورغیرجانبدارانہ نقطہ نظرپیش کیا،فقہی تنگ نظری کو ختم کرکے تمام ائمہ فقہ کے احترام کی دعوت دی اوراپنے مسلک پر تنقیدی نگاہ ڈالنے اورمخالف کے نقطہ نظر پر غیرجانبداری سے غور کرنے کی تاکید کی ۔ ۔ ۔ ۔

مکاتیب

عبد القادر عباسی
مکرمی مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بخیریت ہوں گے ۔ آپکی کتاب’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ پڑھ کر ناقابل بیان خوشی ہوئی۔ احادیث میں احناف کی بے شمار تاویلات دیکھ کر کبھی کبھار پریشانی ہوتی تھی، لیکن کتاب ہذا دیکھ کر دلی سکون حاصل ہوا۔ حنفیہ کی دقت علمی کا ایک اجمالی تعارف ہوا۔جزاکم اللہ فی الدارین ۔ اگر ایک بحث کی وضاحت فرمادیں توعین نوازش ہوگی: کتاب ہذا کے صفحہ ۴۰تا ۴۹صفحہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احناف کے ہاں اصول حدیث میں سے ہے کہ ’’حدیث ضعیف قیاس پر مقدم ہوگی ‘‘ جبکہ زیر مطالعہ کے کتاب کے ہی چند مواضع اس کے متعارض ہیں جہاں کہا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ صحیح حدیث کو ہی قبول کرتے تھے۔ مثلاً ص ۲۴ پر ہے: ’’اذا صح الحدیث فھو مذھبی‘‘ (امام ابوحنیفہ)۔ اسی طرح ص ۲۹ پر ہے : ’’کان ابو حنیفۃ یاخذ بما صح عندہ من احادیث ‘‘۔ نیز چند دیگر کتب میں بھی ایسی تصریحات ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ یہ حنفیہ کا اصول نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج