نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیت

محمد عمار خان ناصر
سوالات: نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اورا س کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی ) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید وتعیین اور تعمیم کے مسئلے پر ذہن کافی الجھا ہوا ہے۔ رہ نمائی فرمائیں۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس کون سے ایسے قطعی اصول ہیں جن کی رو سے ہم بعض احکام کو عہد رسالت کے ساتھ خاص اور بعض کو عمومی مانیں گے؟مولانا اصلاحی کے ہاں "تدبر قرآن" میں تخصیص کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو غامدی صاحب کے ہاں اور آپ کی کتاب "جہاد ایک مطالعہ" میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی جہاد کی کتاب میں "خیر امت" کے خطاب کی بھی مجھے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صرف عہدِ صحابہ کے لیے ہے، جب کہ امت میں ہمیشہ اس اطلاق کو عمومی مان کر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو اس امت کی ذمہ داری باور کیا گیا ہے۔ مولانا اصلاحی بھی "کذلک جعلناکم امۃ وسطا" کے تحت آیت کو ایک تو تاویل خاص کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور پھر اس سے عمومی طور پر امت محمدی کی ذمے داری پر بھی روشنی ڈالتے ہیں ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۶) یولج کا ترجمہ: ایلاج کے معنی داخل کرنا ہوتا ہے، قرآن مجید میں رات اور دن کے حوالے سے یہ فعل پانچ آیتوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ان پانچ آیتوں میں سے ایک آیت کا ترجمہ صاحب تفہیم القرآن نے داخل کرنے کے بجائے نکالنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ پہلی بات کہ یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے خلاف ہے، ایلاج کے معنی داخل کرنا ہے نکالنا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس مفہوم کی تائید میں کوئی اور نظیر بھی نہیں ہے، قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ اللہ دن سے رات کو اور رات سے دن کو نکالتا ہے۔ صرف ایک مقام پر آیا ہے: وَآیَۃٌ لَّہُمْ اللَّیْْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَإِذَا ہُم مُّظْلِمُونَ ۔(یس:۳۷) یہاں اندر سے نکالنے کی بات نہیں بلکہ سلخ یعنی رات کے اوپر سے دن کو کھینچ لینے کی بات ہے ۔ ۔ ۔

سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین: ایک تقابل

ڈاکٹر عرفان شہزاد
علامہ حمید الدین فراہی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قرآن مجید کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اور سورہ آل عمران، اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے بارے میں جنھیں معوذتین بھی کہا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے جب قرآن کی سورتوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس تناظر میں سورہ یونس اور سورہ ہود کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس میں مزید کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی سورتوں کے بارے میں جوڑا جوڑا ہونے کا نظریہ کتنا صائب ہے، نیز، قرآن مجید کی تفہیم میں اس پر کیا اثر پڑتا ہے۔ مکتب فراہی کے مطابق قرآن مجید کی سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دین کے مختلف مراحل کا بیان ہیں: کہیں پر قوم کے خاص لوگوں کو انذار کیا گیا ہے، جب کہ کہیں یہ انذار عام ہو گیا ہے، کہیں انذار کے سارے دلائل اور براہین آخری درجے مکمل ہو گئے ہیں اور مرحلہ اتمام حجت تک پہنچ گیا اور کہیں اس کے بعد ہجرت کا وقت آ گیا ہے، اور کہیں سب سے آخری مرحلہ آ جاتا ہے کہ اب منکرین کی تباہی اور مومنین کی کامیابی اور ان کے غلبے کا وقت آ گیا ہے ۔ ۔ ۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی
۳۔اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات ۔ عصر حاضر تخصص و سپیشلائزیشن کا دور ہے، علوم و فنون کے شعبہ جات پر مستقل کام ہوا ہے ۔مصطلح الحدیث کی انواع پر بھی مستقل تصنیفات لکھی گئی ہیں۔ یہ تصنیفات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں ایک نوع سے متعلق تفصیلی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کے جوانب و اطراف کا احاطہ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کاوشیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ان کتب کے تذکرے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جدید دور میں انواع علوم الحدیث پر ہونے والے کام کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کی اہم انواع سے متعلق بعض اہم اور تفصیلی کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ چھوٹے رسائل اور مختصر کتب سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ نیز جن کتب کا انتخاب کیا گیا ہے ،وہ تفصیلی اور موضوع سے متعلق اہم مباحث پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ذکر کی گئی ہیں ،ان کے ذکر سے ان کتب کے مباحث سے کلی اتفاق مراد نہ لیا جائے ۔ ۔ ۔

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۲)

مولانا محمد رفیق شنواری
تعلیمی ماحول کی تشکیل میں استاد کا کردار: تعلیمی عمل کا ایک اساسی بلکہ اہم ترین رکن استاد ہے ۔ لیکن تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں استاد کے علاوہ تعلیمی وسائل کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ تعلیم کے وسائل پورے اور بہتر ہوں تو استاد کو عمل تدریس میں لگن پیدا ہوگی ، اس طرح بہتر اور معیاری تدریس اپنے مثبت اور اچھے اثرات کے باعث عملِ تعلیم کو خوش گوار اور پرکشش بنا دیتی ہے۔ اس لیے تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اولین ذمہ داری اداروں کے سربراہان یا مدارس کے مہتممین حضرات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مدارس کے بادشاہ یا سلاطین بننے کے بجائے طلبہ اور بالخصوص مدرسین کے خدام بنیں۔ کیونکہ اگر وہ تدریس کے عمل میں حائل ہونے والی تمام رکاوٹوں کو دور کریں اور تدریس کے لیے امکانی حد تک تمام وسائل مہیا کریں تو ہر استاد محبت اور محنت کے ساتھ تعلیم و تربیت میں بھرپور کردار ادا کرے گا ۔ ۔ ۔

چینی زبان کی آمد

ابو عمار زاہد الراشدی
چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے کہ مستقبل قریب میں ہم چینی تاجروں اور عوام کے ساتھ مختلف النوع تعلقات کے وسیع تناظر میں اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر پوری کر سکیں۔ چنانچہ چینی زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے متعدد ادارے مختلف سطحوں پر مصروف عمل ہیں اور علماء کرام میں بھی چینی زبان سیکھنے کا ذوق پیدا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔

دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندی

محمد عرفان ندیم
سر سیداحمد خان کے بیٹے سیدمحمود احمد ہندوستان کے مشہور وکیل تھے۔ ان کی یاد داشت بڑی کمزور تھی۔ ایک دفعہ ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یہ یا دہی نہ رہا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا وکیل صفائی۔ انہوں نے موقع ملتے ہی وکیل صفائی کے دلائل دینا شروع کر دیے اور بڑی مہارت سے ملزم کی صفائی میں دلائل پیش کیے۔ موکل اور جج دونوں پریشان ہو گئے۔ موکل نے انہیں ایک چٹ پیش کی جس میں انہیں یاد کر وایا کہ آپ وکیل صفائی نہیں بلکہ استغاثہ کے وکیل ہیں۔ محمود احمد نے بڑے اطمینان سے چٹ پر نظر دوڑائی اور ذرہ بھر توقف کیے بغیر اسی جوش و خروش سے دوبارہ بولنا شروع کیا ’’می لارڈ ! یہ سب وہ دلائل تھے جو وکیل صفائی زیادہ سے زیادہ اس کیس کے حق میں دے سکتے تھے، مگر می لارڈ ! ان دلائل میں کوئی جان نہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے استغاثہ کے حق میں دلائل دینا شروع کیے اور اپنے ہی دلائل کو جھوٹا ثابت کر دکھایا ۔ جج سمیت تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور سید محمود احمد کیس جیت گئے ۔ ۔ ۔

مذہب اور سائنس کے موضوع پر ایک ورکشاپ

محمد عثمان حیدر
راقم کو ۳ تا ۵ جولائی ۲۰۱۷ء، میرین ہوٹل گوجرانوالہ میں ایک سہ روزہ ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا جو الشریعہ اکادمی اور خوارزمی سائنس سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔ ورکشاپ کا عنوان تھا: ’’ مذہب اور سائنس: تنازعات کی وجوہات اور مفاہمت کی اساسیات ‘‘۔ ورکشاپ میں معلم کی ذمہ داری ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب نے انجام دی اور تین دن ان سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ ورکشاپ جس موضوع کے تحت منعقد کی گئی تھی، وہ دور حاضر میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سائنسی ایجادات اور ان کے فوائد نے سبھی طبقات کو اپنے اثر میں لے لیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً سبھی شعبے اور قدریں اب اسی کے زیر اثر جانچی جا رہی ہیں۔ غورو فکر کا موجودہ عمل یا طرز انھی کے تشکیل کردہ ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے اور یہ غور و فکر اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ترقی چوں کہ حسیات سے تعلق رکھتی ہے، دوسرے الفاظ میں مادہ سے متعلق، ہے، اس لیے دوسری اقدار ہوں یا اشیاء، وہ اسی پہلو سے جانچی جا رہی ہیں کہ آیا وہ ظاہری فوائد کی حامل ہیں یا نہیں ؟ اگر ظاہری فوائد جن کا باقاعدہ کوئی وجود ہو ، نہیں ہیں تو پھر اس کی ضرورت کیا ہے ؟ ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج