Article image..
روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں : سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد و شمار کی بات کریں تو شاید ہی کہیں ان کا ذکر ہو۔ اس کا ایک نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا ہے۔ اکثر پوسٹس میں اس طرح کے گلے شکوے نظر آتے ہیں کہ فلاں جگہ ظلم ہو تو پوری دنیا اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں پر ہو تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ شاید یہ مایوسی بے جا بھی نہیں ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج