Article image..
Article image..
میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، وہ اس میدانِ جنگ میں منمنانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ان منمنانے والی آوازوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں اہم اور دلچسپ حقیقت مانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل بھی چاہتے ہیں جہاں مذہب کو اہمیت نہ دینے یا اپنی ذات تک محدود کرنے کا اصول اپنانے والا فرد بھی مساوی حقوق کے ساتھ ایک بامقصد اور فعال زندگی گزار سکے۔ اگر ایسی آوازوں کو بائیں بازو کی جانب دھکیل کر دیکھا جائے تو وہ مساوی حقوق اور مذہب و ریاست کی علیحدگی کے دعوے میں یقیناًسیکولرازم کے ہم نوا ہیں اور اگر دائیں بازو کی جانب دھکیلا جائے تو وہ سماج میں مذہب کی تمام آفاقی جہتوں سے استفادے کے لئے راہیں ہموار کرنے کے حامی ہیں۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج