ظلم وجبر کے شکار مسلمان۔ حکمت عملی کیا ہو؟

محمد عمار خان ناصر
قومیت کا جدید سیاسی تصور مخصوص جغرافیائی خطوں میں بسنے والے انسانوں کے لیے اپنی سرزمین پر سیاسی خود مختاری کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے اور بلاشبہ اس تصور نے دنیا میں قوموں اور ممالک کے مابین جارحیت پر مبنی تنازعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی یا نظریاتی تصور کی طرح اس کی عملی تنفیذ بھی بالادست سیاسی قوتوں کے ارادے اور طاقت کی وساطت سے ہی ممکن ہوئی ہے اور جہاں یہ ارادہ مفقود ہے، وہاں اس تصورکی عملی تنفیذ بھی نہیں ہو سکی۔ بدقسمتی سے اس دوسری نوعیت کی صورت حال کا سامنا دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی ہے اور فلسطین، کشمیر اور برماکے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اس نوعیت کے عالمی تنازعات کی فہرست میں نمایاں ہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۸) جنوب کا ترجمہ: جنوب، جنب کی جمع ہے، اس کے معنی پہلو کے ہیں، امام لغت فیروزآبادی لکھتے ہیں: الجَنْبُ والجانِبُ والجَنَبَۃُ، مُحَرَّکَۃً: شِقّْ الاِنْسانِ وغیرہِ، ج: جْنْوبٌ وجوانِبُ وجَنَاءِبُ. القاموس المحیط۔ عربی میں پیٹھ کے لیے ظھر اور پہلو کے لیے جنب آتا ہے، مذکورہ ذیل آیت میں دونوں الفاظ ایک ساتھ ذکر کیے گئے ہیں: (۱) یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لأَنفُسِکُمْ فَذُوقُواْ مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ۔ (التوبۃ: ۳۵) ’’ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو ‘‘(سید مودودی) تمام مترجمین نے یہاں جنوب کا ترجمہ پہلو یا کروٹ اور ظھور کا ترجمہ پیٹھ کیا ہے۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی
۴۔سنن ابی داود: ۱۔سنن ابی داود کی اہم ترین شرح معروف مصری عالم محمود محمد خطاب سبکی مالکی کی المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داود ہے ، دس ضخیم جلدوں میں مصر سے چھپی ہے، ترتیب کے اعتبار سے نفیس شرح ہے۔ مصنف ہر حدیث کے تحت شرح السند،معنی،فقہ اور آخر میں حدیث کی تخریج کے عنوانات باندھ کر حدیث کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔یہ شرح نامکمل تھی، اس کا تکملہ مصنف کے صاحبزادے امین محمود سبکی نے فتح الملک المعبود کے نام سے چار جلدوں میں لکھا ہے۔ ۲۔سنن ابی داود کی دوسری اہم شرح مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی بذل المجھود فی حل ابی داود ہے ۔ کتاب اختصار و جامعیت کا عمدہ نمونہ ہے،یہ شرح شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے حواشی کے ساتھ بیس جلدوں میں دار الکتب العلمیہ سے چھپی ہے۔ ۳۔ معروف اہلحدیث عالم مولانا شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے ابو داد شریف پر ایک مفصل شرح غایۃ المقصوداور ایک مختصر حاشیہ عون المعبود کے نام سے لکھا ہے۔

ترکی کی وزارت برائے مذہبی امور اور دینی وقف کا موضوعاتی حدیث منصوبہ: مختصر تعارف

انعام الحق
ترکی وزارت مذہبی امور ، اور دینی اوقاف کی جانب سے ۲۰۰۶ میں موضوعاتی حدیث منصوبے پر کام شروع کیا گیا، اور اس کی تکمیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ اس منصوبے کی مختصر روداد و تعارف قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔ شرح حدیث کے باب میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد منصوبہ جس کو "موضوعاتی حدیث منصوبہ" نام دیا گیا، دراصل گیارہ سال قبل، ترکی حدیث کمیٹی کے پانچویں اجلاس منعقدہ ۲۲، ۲۳ جولائی ۲۰۰۶ میں پیش کی گئی ایک رائے کی عملی شکل ہے جس میں ترکی جامعات میں علوم حدیث سے منسلک پچاسی(85) اساتذہ کرام نے حصہ لیا، اور اس کی تکمیل میں چھ سال کا عرصہ صرف ہوا، جس کے نتیجے میں ترکی زبان میں ایک منفرد نوعیت کی کتاب " اسلام: احادیث کی روشنی میں/ شرح احادیث بذریعہ احادیث" سات جلدوں کی صورت میں ۲۰۱۳ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی گئی۔منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مواد کی دستیابی کے لیے HIKEM کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی، یہ ویب سائٹ اب بھی کام کر رہی ہے۔ اس ویب سائٹ پر مکمل قرآن کریم ، صحیحین، موطا مالک، سنن اربعہ، سنن دارمی، مسند احمد بن حنبل، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند طیالسی، السنن الکبیر للبیہقی ، شمائل ترمذی،الادب المفرد، المعجم الکبیر للطبرانی، سنن الدارقطنی، مستدرک حاکم، معرفۃ السنن والاثار للبیہقی، انیس کتب حدیث کے مکمل متون کو جمع کیا گیا ہے۔

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۱)

مولانا عبید اختر رحمانی
تمہید : احناف پر مختلف قسم کے اعتراض کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک توہین صحابہ یاصحابہ کی تنقیص کا بھی اعتراض ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہائے احناف نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیر معروف یاغیرفقیہ کہاہے، اس سے انہوں نے یہ نتیجہ استخراج کرلیاکہ کسی صحابی کو غیرفقیہ کہنا ان کی توہین وتنقیص ہے؛ چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی قدر کو بعض مستشرقین اورآزاد خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایاہے، اس بناء پربعض حضرات اس طرح کا تاثرپیش کرنے لگے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرطعن وتشنیع کیا ہے، ان کو یہ ہمت اورحوصلہ احناف سے ہی ملاہے، یاپھر احناف نے حضرت ابوہریرہ کو غیرفقیہ کہہ کر دشمنان دین کے مقصد کو پورا کیا ہے اور اس طرح پورے ذخیرہ احادیث کو مشتبہ بنادیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات کم علمی بلکہ لاعلمی اورجہالت کی پیداوار ہیں اوراحناف کے موقف کو صحیح طورپر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں واپس اصلی مآخذ تک رسائی اور ان سے استفادہ کا منہج اختیار کیا جائے۔ ہر فریق اپنے مکتب فکر کے متداول فتاوی کو ہی آخری سند کا درجہ دیتا ہے۔ تاہم درست علمی منہج یہ ہے کہ نئی مشکلات میں ہمیں واپس کتاب و سنت سے رجوع کر کے اپنی مشکلات کا قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔

برما میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

ڈاکٹر قبلہ ایاز
میانمار (برما) کے 12 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کا قضیہ عرصہ دراز سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آتا رہتا ہے۔ کبھی اس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور کہیں یہ عدم توجہی کا شکار بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اور بہت سارے مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی سطحی اور جذباتی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روہنجیا مسلمان میانمار (برما) میں بہت مشکل وقت گزار رہے ہیں اور میانمار کی آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے روہنجیا لوگوں کے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس پورے قضیے کا پیچیدہ ترین پہلو یہ ہے کہ آغاز جس مسئلے کا خالصتاً نسلی بنیادوں پر ہوا، اب اس نے مذہبی شکل اختیار کرلی ہے۔ اب یہ معاملہ روہنجیا کمیونٹی کے لئے میانمار کی شہریت کے حق کے حصول سے زیادہ وہاں کی ایک مسلمان اقلیت اور اکثریتی مذہب (بدھ مت) کے پیروکاروں کے درمیان مذہبی تصادم کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے عالمی تناظر میں بھی یہ قضیہ انسانی حقوق کی فہرست سے نکل کر مذاہب کے درمیان کشمکش کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے تنازع کے حل کی کوششوں کے پورے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے۔

مظلوم کی مدد کیجیے، لیکن کیسے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں : سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد و شمار کی بات کریں تو شاید ہی کہیں ان کا ذکر ہو۔ اس کا ایک نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا ہے۔ اکثر پوسٹس میں اس طرح کے گلے شکوے نظر آتے ہیں کہ فلاں جگہ ظلم ہو تو پوری دنیا اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں پر ہو تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ شاید یہ مایوسی بے جا بھی نہیں ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی
روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمہ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے کہ بنگلہ دیش اسے اپنا مسئلہ سمجھ کر ڈیل کرے اور اس کی پشت پر پورا عالم اسلام سپورٹ کے لیے کھڑا ہو جائے۔ بنگلہ دیش حکومت کے حالیہ اقدامات اور پالیسی کا ذکر کرنے سے قبل 1978ء کے دوران اس مسئلہ پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں 28 اپریل کو شائع ہونے والا ایک ادارتی شذرہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جو راقم الحروف کا ہی تحریر کردہ ہے۔ اس سے روہنگیا مسلمانوں کے اس المیہ کی قدامت، سنگینی اور حساسیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

عاصم بخشی
میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، وہ اس میدانِ جنگ میں منمنانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ان منمنانے والی آوازوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں اہم اور دلچسپ حقیقت مانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل بھی چاہتے ہیں جہاں مذہب کو اہمیت نہ دینے یا اپنی ذات تک محدود کرنے کا اصول اپنانے والا فرد بھی مساوی حقوق کے ساتھ ایک بامقصد اور فعال زندگی گزار سکے۔ اگر ایسی آوازوں کو بائیں بازو کی جانب دھکیل کر دیکھا جائے تو وہ مساوی حقوق اور مذہب و ریاست کی علیحدگی کے دعوے میں یقیناًسیکولرازم کے ہم نوا ہیں اور اگر دائیں بازو کی جانب دھکیلا جائے تو وہ سماج میں مذہب کی تمام آفاقی جہتوں سے استفادے کے لئے راہیں ہموار کرنے کے حامی ہیں۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج